🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

753. ذِكْرُ أَبِي هُرَيْرَةَ الدَّوْسِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - وَقَدْ كَثُرَ الْخِلَافُ فِي اسْمِهِ، وَاسْمِ أَبِيهِ
سیدنا ابو ہریرہ دوسی رضی اللہ عنہ کا بیان - ان کے نام اور والد کے نام میں بہت اختلاف ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6265
فحدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أحمد بن عبد الجبار، حَدَّثَنَا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق قال: حدثني بعضُ أصحابي، عن أبي هريرة قال: كان اسمي في الجاهلية عبدَ شمسِ بنَ صَخْر، فسُمِّيتُ في الإسلام عبدَ الرحمن، وإنما كَنَّوني بأبي هريرة لأني كنت أَرعى غنمًا لأهلي، فوجدتُ أولادَ هِرٍّ وحشيّةٍ فجعلتُها في كُمِّي، فلما رُحْتُ عنهم وسُمِعَت أصواتُ الهرِّ من حِجْري، فقالوا: ما هذا يا عبدَ شمس؟ فقلت: أولادُ هرٍّ وجدتُها، قالوا: فأنت أبو هُريرة، فلَزِمَتني بعدُ (1) . قال ابن إسحاق: وكان أبو هريرة وَسيطًا في دَوْسٍ حيث يحبُّ أن يكونَ منهم.
سیدنا ابو ہریرہ دوسی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا ذکر، ان کے اور ان کے والد کے نام میں بہت اختلاف پایا جاتا ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: زمانہ جاہلیت میں میرا نام عبد شمس بن صخر تھا، پھر اسلام لانے پر میرا نام عبدالرحمن رکھا گیا، اور میری کنیت ابو ہریرہ اس وجہ سے پڑی کہ میں اپنے گھر والوں کی بکریاں چرایا کرتا تھا، مجھے جنگلی بلی کے بچے ملے تو میں نے انہیں اپنی آستین میں ڈال لیا، جب میں واپس پلٹا اور میری گود سے بلی کے بچوں کی آوازیں سنی گئیں تو لوگوں نے پوچھا کہ اے عبد شمس! یہ کیا ہے؟ میں نے کہا کہ یہ بلی کے بچے ہیں جو مجھے ملے ہیں، انہوں نے کہا کہ پھر تو تم ابو ہریرہ ہو، چنانچہ اس کے بعد یہ کنیت مجھ پر لازم ہو گئی۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ قبیلہ دوس میں بہت معزز مقام رکھتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6265]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لإبهام راويه عن أبي هريرة.» [ترقيم الرساله 6265] [ترقيم الشركة 6198]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں