المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
754. وَجْهُ تَكْنِيَتِهِ بِأَبِي هُرَيْرَةَ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی کنیت کی وجہ
حدیث نمبر: 6265
فحدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أحمد بن عبد الجبار، حَدَّثَنَا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق قال: حدثني بعضُ أصحابي، عن أبي هريرة قال: كان اسمي في الجاهلية عبدَ شمسِ بنَ صَخْر، فسُمِّيتُ في الإسلام عبدَ الرحمن، وإنما كَنَّوني بأبي هريرة لأني كنت أَرعى غنمًا لأهلي، فوجدتُ أولادَ هِرٍّ وحشيّةٍ فجعلتُها في كُمِّي، فلما رُحْتُ عنهم وسُمِعَت أصواتُ الهرِّ من حِجْري، فقالوا: ما هذا يا عبدَ شمس؟ فقلت: أولادُ هرٍّ وجدتُها، قالوا: فأنت أبو هُريرة، فلَزِمَتني بعدُ (1) . قال ابن إسحاق: وكان أبو هريرة وَسيطًا في دَوْسٍ حيث يحبُّ أن يكونَ منهم.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: زمانہ جاہلیت میں میرا نام ” عبدشمس بن صخر “ تھا۔ اسلام میں میرا نام ” عبدالرحمن “ رکھا گیا۔ لوگ مجھے ” ابوہریرہ “ کی کنیت سے پکارتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ میں اپنے گھر والوں کی بکریاں چرایا کرتا تھا، میں نے ایک دفعہ جنگلی بلی کے بچے دیکھے، میں نے ان کو اٹھا کر اپنی آستین میں ڈال لیا، جب میں لوٹ کر گھر آیا تو لوگوں نے میری گود میں سے بلی کے بچوں کی آوازیں سنیں، تو پوچھنے لگے: اے ” عبدشمس “ یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: یہ بلی کے بچے ہیں، لوگوں نے کہا: تو ” ابوہریرہ “ (بلیوں والا) ہے۔ اس کے بعد یہی کنیت میرے نام کے ساتھ پکی ہو گئی۔ ابن اسحاق کہتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ قبیلہ دوس کے ثالث تھے کیونکہ وہ انہیں میں رہنا چاہتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6265]
حدیث نمبر: 6266
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حَدَّثَنَا الفضل بن محمد، حَدَّثَنَا إبراهيم بن المنذر الحِزَامي، حَدَّثَنَا سفيان بن حمزة الأسلَميّ، عن كَثير بن زيد، عن الوليد ابن رَبَاح، عن أبي هريرة قال: كان رسول الله ﷺ يَدعُوني أبا هرٍّ، ويَدعُوني الناسُ أبا هُريرة (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6142 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6142 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ” ابوہر “ کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ اور باقی لوگ ” ابوہریرہ “ کہتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6266]
حدیث نمبر: 6267
حدثني أبو سعيد عمرو بن محمد بن منصور العَدْل، حَدَّثَنَا عمر بن حفص السَّدُوسي، حَدَّثَنَا عاصم بن علي، حَدَّثَنَا أبو مَعشَر، عن سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة قال: كان رسول الله ﷺ يَدعُوني أبا هرٍّ، ويَدعُوني الناسُ أبا هُريرة (2) .
ایک دوسری سند کے ہمراہ منقول ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ” ابوہر “ کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ اور باقی لوگ ” ابوہریرہ “ کہتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6267]