المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
754. وجه تكنيته بأبي هريرة
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی کنیت کی وجہ
حدیث نمبر: 6267
حدثني أبو سعيد عمرو بن محمد بن منصور العَدْل، حَدَّثَنَا عمر بن حفص السَّدُوسي، حَدَّثَنَا عاصم بن علي، حَدَّثَنَا أبو مَعشَر، عن سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة قال: كان رسول الله ﷺ يَدعُوني أبا هرٍّ، ويَدعُوني الناسُ أبا هُريرة (2) .
ایک دوسری سند کے ہمراہ منقول ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ” ابوہر “ کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ اور باقی لوگ ” ابوہریرہ “ کہتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6267]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6267 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حسن بما قبله، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي معشر: وهو نَجيح بن عبد الرحمن السِّندي.
⚖️ درجۂ حدیث: سابقہ شاہد کی بنیاد پر یہ 'حسن' ہے، اگرچہ اس کی اپنی سند ابو معشر (نجیح بن عبد الرحمن السندی) کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔