🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

808. غَزَا زَيْدٌ مَعَ النَّبِيِّ سَبْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ سترہ غزوات میں شرکت کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6402
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا مُسلِم بن إبراهيم، حدثنا شُعبة، عن أبي إسحاق، قال: خرج الناسُ يَستَسقُون وفيهم زيدُ بن أرقمَ، ما بيني وبينَه إلَّا رجلٌ، فقلت له: يا أبا عَمرو، كم غَزَا النبيُّ ﷺ؟ قال: تسعَ عشرةَ، قلت: فأنت كم غزوتَ معه؟ قال: سبعَ عشرةَ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6271 - على شرط البخاري ومسلم
ابو اسحاق بیان کرتے ہیں کہ لوگ نمازِ استسقاء کے لیے نکلے اور ان میں سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، میرے اور ان کے درمیان صرف ایک آدمی کا فاصلہ تھا، میں نے ان سے پوچھا: اے ابو عمرو! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے غزوات فرمائے؟ انہوں نے جواب دیا: انیس، میں نے پوچھا: آپ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کتنے غزوات میں شریک رہے؟ انہوں نے فرمایا: سترہ۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6402]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السَّبيعي.» [ترقيم الرساله 6402] [ترقيم الشركة 6330] [ترقيم العلميه 6271]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6403
أخبرني محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفَاري، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا كامل أبو العلاء قال: سمعت حبيب بن أبي ثابت يُخبِر عن يحيى بن جَعْدة، عن زيد بن أرقم قال: خرجْنا مع رسول الله ﷺ حتى انتَهيْنا إلى غَديرِ خُمٍّ، فأَمَرَ بدَوْحٍ، فكُسِحَ في يومٍ ما أَتى علينا يوم كان أشدَّ حرًّا منه، فحَمِدَ اللهَ وأثنى عليه، وقال:"يا أيها الناسُ، إنه لم يُبعَثْ نبيٌّ قطُّ إِلَّا عاشَ نصفَ ما عاشَ الذي كان قبلَه، وإني أُوشِكُ أن أُدْعَى فأُجيبَ، وإني تاركٌ فيكم ما لن تَضِلُّوا بعدَه: كتابَ الله ﷿"، ثم قام فأَخذ بيد عليٍّ فقال:"يا أيها الناسُ، مَن أَولى بكم من أنفسِكم؟" قالوا: الله ورسولُه أعلم، قال:"مَن كنتُ مولاهُ فعليٌّ مولاهُ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكرُ عبد الله بن عبّاس بن عبد المطَّلب ﵄
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6272 - صحيح
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ جب ہم غدیرِ خم کے مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے درختوں کے سائے میں جگہ صاف کرنے کا حکم دیا، اس دن اس قدر شدید گرمی تھی کہ ہمیں کبھی اس سے زیادہ سخت گرم دن کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: اے لوگو! کوئی ایسا نبی مبعوث نہیں ہوا جس کی عمر اس سے پہلے گزرنے والے نبی کی عمر کے آدھے کے برابر نہ رہی ہو، اور مجھے گمان ہے کہ عنقریب مجھے (رب کی طرف سے) بلاوا آئے گا اور میں اسے قبول کر لوں گا، میں تمہارے درمیان ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہیں ہو گے اور وہ اللہ عزوجل کی کتاب ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھام کر فرمایا: اے لوگو! تمہاری جانوں پر تم سے زیادہ حق کس کا ہے؟ سب نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا میں مولا ہوں، علی بھی اس کا مولا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6403]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قصة عيش كل نبي نصف ما عاش الذي كان قبله، فقد تفرَّد بها في هذا الحديث كامل بن العلاء أبو العلاء، وهو ليس بذاك القوي، وله ما ينكر في بعض رواياته كما قال ابن عدي في "الكامل". أبو نعيم: هو الفضل بن دُكين.» [ترقيم الرساله 6403] [ترقيم الشركة 6331] [ترقيم العلميه 6272]

الحكم على الحديث: حديث صحيح دون قصة عيش كل نبي نصف ما عاش الذي كان قبله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں