المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
819. ذِكْرُ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ
علم کے حصول میں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی محنت
حدیث نمبر: 6426
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، حدثنا أبو حمزة الثُّمالي، عن أبي صالح قال: لقد رأيتُ من ابن عبّاس مجلسًا لو أنَّ جميع قريش فَخَرَت به لكان لها فخرًا؛ لقد رأيتُ الناسَ اجتمعوا حتى ضاقَ بهم الطريقُ، فما كان أحدٌ يَقدِرُ على أن يجيءَ ولا يذهبَ، قال: فدخلتُ عليه فأخبرتُه بأنهم على بابه فقال لي: ضَعْ لي وَضُوءًا، قال: فتوضَّأَ وجلس، وقال لي: اخرُجْ وقل لهم: من كان يريد أن يَسألَ عن القرآن وحروفِه وما أَراد منه، أن يَدخُل قال: فخرجتُ فآذَنتُهم، فدخلوا حتى مَلؤُوا البيتَ والحُجْرة، قال: فما سأَلوه عن شيءٍ إلَّا أخبرَهم عنه وزادَهم مثلَ ما سأَلوا عنه أو أكثرَ، ثم قال: إخوانُكم، قال: فخرجوا. ثم قال: اخرُجْ فقل: من أراد أن يسألَ عن تفسيرِ القرآن أو تأويلِه فليدخُلْ، قال: فخرجتُ فآذنتُهم، قال: فدخلوا حتى مَلؤُوا البيتَ والحُجْرة، فما سألوه عن شيء إلَّا أخبرهم به وزادَهم مثلَ ما سأَلوا عنه أو أكثرَ، ثم قال: إخوانُكم، قال: فخرجوا. ثم قال: اخرُجْ فقل: من أراد أن يَسألَ عن الحلالِ والحرامِ والفقهِ فليدخُلْ، فخرجتُ فقلتُ لهم، قال: فدخلوا حتى مَلؤُوا البيت، فما سأَلوه عن شيء إلَّا أخبرهم به وزادَهم مثلَه، ثم قال: إخوانُكم، قال: فخرجوا. ثم قال لي: اخرُجْ فقل: من أراد أن يسألَ عن الفرائض وما أشبَهَها فليَدخُلْ، قال: فخرجتُ فآذنتُهم، فدخلوا حتى مَلؤُوا البيت والحُجْرة، فما سأَلوه عن شيءٍ إلَّا أخبرهم به وزادَهم مثلَه، ثم قال: إخوانُكم، قال: فخرجوا. ثم قال لي: اخرُجْ فقل: من أراد أن يسألَ عن العربية والشِّعر والغَريب من الكلام فليدخُلْ، قال: فدخلوا حتى مَلؤُوا البيت والحُجْرة، فما سأَلوه عن شيءٍ إِلَّا أخبرهم به وزادَهم مثلَه. قال أبو صالح: فلو أنَّ قريشًا كلَّها فَخَرَت بذلك، لكان فخرًا، قال: فما رأيتُ مثل هذا لأحدٍ من الناس (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6293 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6293 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوصالح فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی مجلس دیکھی ہے، اگر اس پر پورا قریش فخر کرے تو واقعی یہ فخر کی بات ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ لوگوں کا اتنا ہجوم ہو جاتا تھا کہ گلیوں اور بازاروں میں جگہ اتنی تنگ پڑ جاتی کہ آمدورفت بالکل بند ہو جاتی۔ آپ فرماتے ہیں: میں ان سے ملنے کے لئے گیا، میں نے ان کو بتایا کہ عوام ان کے دروازے تک پہنچ چکی ہے۔ آپ نے مجھے فرمایا: میرے لئے وضو کے پانی کا انتظام کرو، پھر انہوں نے وضو کیا اور بیٹھ گئے اور مجھے فرمایا: جاؤ، لوگوں سے کہہ دو کہ جو کوئی قرآن پاک اور اس کے حروف کے متعلق پوچھنا چاہتا ہو، وہ اندر آ جائے۔ میں نے باہر جا کر یہ اعلان کر دیا تو اتنے لوگ اندر آ گئے کہ ان کا حجرہ اور پورا گھر بھر گیا، پھر جس نے جو بھی سوال کیا، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کا شافی جواب دیا۔ بلکہ اس کے سوال سے کہیں زیادہ جواب دیا۔ پھر آپ نے فرمایا: اب تم اپنے باہر والے بھائیوں کو بھی وقت دو، تو سب لوگ وہاں سے باہر آ گئے۔ آپ نے پھر مجھے فرمایا: باہر چلے جاؤ، اور اعلان کر دو کہ جو شخص حلال و حرام اور فقہ کے بارے میں کچھ پوچھنا چاہتا ہے وہ اندر آ جائے۔ میں نے باہر جا کر یہ اعلان کر دیا، پھر اتنے لوگ اندر آئے کہ ان کا حجرہ اور پورا گھر لوگوں سے بھر گیا، ان میں سے جس نے جو بھی سوال کیا، آپ نے اس کے سوال سے بڑھ کر اس کو جواب دیا۔ پھر ان کو فرمایا کہ اپنے باہر والے بھائیوں کو بھی موقع دو، یہ لوگ باہر آ گئے۔ آپ نے پھر مجھے فرمایا: باہر چلے جاؤ اور اعلان کر دو کہ جو شخص وراثت یا اسی سے ملتے جلتے کسی موضوع پر سوال کرنا چاہتا ہو، وہ اندر آ جائے، میں نے باہر جا کر اعلان کر دیا، اب بھی اتنے لوگ اندر آئے کہ ان کا حجرہ اور سارا گھر بھر گیا۔ ان میں سے جس نے جو بھی سوال کیا، آپ نے اس کے سوال سے بڑھ کر اس کو جواب دیا۔ آپ نے پھر فرمایا: اپنے باہر والے بھائیوں کو موقع دو، یہ لوگ باہر چلے گئے، آپ نے پھر مجھے فرمایا: باہر جا کر اعلان کر دو کہ جو کوئی عربی زبان، شعر یا کسی غریب کلام کے بارے میں کچھ پوچھنا چاہتا ہو، وہ اندر آ جائے، میں نے اعلان کر دیا، تو اتنے لوگ اندر آ گئے کہ آپ کا حجرہ اور پورا گھر لوگوں سے بھر گیا، ان میں سے جس نے جو بھی سوال کیا، آپ نے اس کے سوال سے بڑھ کر اس کو جواب دیا۔ ابوصالح کہتے ہیں: اگر پورا قریش ان پر فخر کرے تو واقعی یہ ان کے لئے فخر کی بات ہے۔ میں نے ان جیسا کوئی انسان نہیں دیکھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6426]
حدیث نمبر: 6427
أخبرنا أبو العبّاس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرْوٍ، حدثنا سعيد بن مسعود حدثنا يزيد بن هارون، أخبرني جَرِير بن حازم، عن يعلى بن حَكيم، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس قال: لما مات رسولُ الله ﷺ قلت لرجلٍ من الأنصار: هَلُمَّ يا فلانُ فلنطلُبْ، فإنَّ أصحابَ رسول الله ﷺ أحياءٌ، قال: عجبًا لك يا ابنَ عبّاس، تَرَى الناسَ يحتاجون إليك وفي الناسِ من أصحاب رسول الله ﷺ مَن فيهم؟! قال: فتركتُ ذاكَ وأقبلتُ أطلُبُ، إن كان الحديثُ لَيبلُغُني عن الرجل من أصحابِ رسول الله ﷺ، قد سَمِعَه من رسول الله، فآتِيهِ فأجلسُ ببابه فتَسفِقُ الريحُ على وجهي فيخرج إليَّ فيقول: يا ابنَ عمِّ رسولِ الله ﷺ، ما جاءَ بك؟ ما حاجَتُك؟ فأقولُ: حديثٌ بَلَغَني عنك تَرويهِ عن رسول الله ﷺ، فيقول: ألَا أرسلت إليَّ؟ فأقولُ: أنا أحقُّ أن آتيَكَ. قال: فبقيَ ذلك الرجلُ حتى إنَّ الناسَ اجتَمَعوا عليَّ فقال: هذا الفتى كان أعقلَ منِّي (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6294 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6294 - على شرط البخاري
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وصال فرما گئے تو میں نے ایک انصاری شخص سے کہا: اے فلاں شخص تم آؤ، ہم علم طلب کر لیں کیونکہ ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب زندہ ہیں۔ اس نے کہا: اے ابن عباس رضی اللہ عنہما مجھے تو تم پر حیرانگی ہو رہی ہے، تم دیکھتے ہو کہ لوگ علم میں تمہارے محتاج ہیں، اور لوگوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کون ہیں؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے وہ سلسلہ چھوڑ دیا ہے اور علم حاصل کرنا شروع کر دیا ہے۔ مجھے پتا چلا کہ فلاں شخص کے پاس ایک حدیث موجود ہے جو کہ اس نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے تو میں جا کر اس کے دروازے کے باہر بیٹھ گیا، ہواؤں نے گرد و غبار اڑا اڑا کر میرے چہرے پر ڈال دیا تھا، اس آدمی نے جب باہر نکل کر مجھے دیکھا تو وہ کہنے لگا: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد! آپ کس لئے تشریف لائے ہیں؟ آپ کو ہم سے کیا کام ہے؟ میں نے کہا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ تمہارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ہے جو تم بیان کرتے ہو۔ (میں وہ حدیث سننے کے لئے آیا ہوں) اس آدمی نے کہا: آپ مجھے پیغام بھیج دیتے، میں خود آپ کے پاس چلا آتا، تو میں نے کہا: میرا زیادہ حق بنتا ہے کہ میں چل کر آپ کے پاس آؤں، وہ آدمی ابھی زندہ تھا کہ لوگ میرے پاس جمع ہونے لگ گئے، تو وہ آدمی کہا کرتا تھا: یہ نوجوان مجھ سے زیادہ سمجھدار ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6427]