المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
820. سُؤَالَاتُ عُمَرَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْمَسَائِلِ الْمُعْضِلَةِ
امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ کے مشکل مسائل میں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سوالات
حدیث نمبر: 6428
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحَجّاج، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، حدثنا أيوب السَّخْتِياني، عن عِكْرمة: أنَّ ناسًا ارتدُّوا على عهد عليٍّ فأحرَقَهم بالنار، فبلغ ذلك ابن عبّاس، فقال: لو كنتُ أنا كنتُ قاتِلَهم، لقول رسول الله ﷺ:"من بدَّلَ دينَه فاقتُلوه"، ولم أكن أُحرِّقُهم، لأني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"لا تُعذِّبوا بعذابِ الله". فبلغ ذلك عليًّا فقال: وَيْحَ ابنِ عبّاس (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6295 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6295 - على شرط البخاري
سیدنا عکرمہ فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں کچھ لوگ مرتد ہو گئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو آگ میں جلوا دیا، اس بات کی خبر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تک پہنچی تو انہوں نے فرمایا: اگر ان کی جگہ میں ہوتا تو میں ان کو سادہ طریقے سے قتل کروا دیتا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سن رکھا ہے کہ جس نے اپنا دین بدل لیا اس کو قتل کر دو، میں ان کو جلانے سے گریز کرتا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سن رکھا ہے کہ کسی کو اللہ تعالیٰ کے عذاب جیسا عذاب نہ دو۔ اس بات کی اطلاع سیدنا علی رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما پر ناراضگی کا اظہار فرمایا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6428]
حدیث نمبر: 6429
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق، حدثنا وَهْب بن جَرير وأبو داود قالا: حدثنا شُعبة، عن أبي بِشْر، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبّاس قال: كان عمرُ يسألُني مع أصحاب النبي ﷺ، فقال له عبدُ الرحمن بن عَوْف: أتسألُه ولنا بَنُونَ مثله؟! قال: فقال عمر: إنَّه من حيثُ تَعلَمُ، قال: فسألهم عن ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ﴾، قال: فقلت: هو أَجَلُ رسولِ الله ﷺ؛ وقرأَ السورةَ إلى آخرها ﴿إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا﴾، قال: فقال عمر: والله ما أعلمُ منها إلَّا ما تَعلَمُ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6296 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6296 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مجھ سے مسائل پوچھا کرتے تھے، حالانکہ کبار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم موجود تھے، سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ اس سے مسائل پوچھتے ہو، وہ ہمارے بچوں کے برابر ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ تمہارے اپنے علم کے لحاظ سے (تمہیں بچہ نظر آتا ہے) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے سورۃ اذا جاء نصر اللہ و الفتح کے بارے میں پوچھا تو کچھ لوگوں نے کہا: اس میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم اس کی حمد بیان کریں اور اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کریں۔ کچھ نے کہا: ہمیں اس کا علم نہیں ہے۔ انہوں نے مجھے کہا: اے ابن عباس! اس سورۃ کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟ میں نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر دلالت کرتی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے انہ کان توابا تک پوری سورت پڑھی۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: خدا کی قسم! اس سورت کے بارے میں، میں وہی جانتا ہوں، جو آپ جانتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6429]