🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

821. كَانَ لِعَبْدِ اللَّهِ لِسَانًا سَئُولًا وَقَلْبًا عَقُولًا .
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی زبان سوال کرنے والی اور دل عقل والا تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6430
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق، حدثنا يوسف ابن كامل، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا عاصم بن كُلَيب، عن أبيه، عن ابن عبّاس قال: كان عمرُ بن الخطّاب إذا دَعَا الأشياحَ من أصحاب محمدٍ ﷺ دعاني، معهم، فدعانا ذاتَ يومٍ - أو ذاتَ ليلة - فقال: إنَّ رسول الله ﷺ قال في ليلة القَدْر ما قد عَلِمتُم:"فالتَمِسُوها في العَشْر الأواخر"، ففي أيِّ الوِتْر تَرَونَها؟ فقال بعضهم: تاسِعُه، وقال بعضهم: سابعُه خامسُه ثالثُه، فقال: ما لك يا ابنَ عبّاس لا تَكلَّم؟ قلت: إن شئتَ تكلَّمتُ قال: ما دعوتُك إلَّا لتَكلَّمَ، فقال: أقولُ برأيٍ؟ فقال: عن رأيك أسألُك، فقلت: إني سمعتُ الله ﵎ أكثرَ ذِكرَ السَّبْعِ فقال: السماواتُ سَبْع، والأَرْضُون سَبْع، وقال: ﴿ثُمَّ (2) شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّا (26) فَأَنْبَتْنَا فِيهَا حَبًّا (27) وَعِنَبًا وَقَضْبًا (28) وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا (29) وَحَدَائِقَ غُلْبًا (30) وَفَاكِهَةً وَأَبًّا﴾ [عبس: 26 - 31] ، فالحدائقُ: كلُّ مُلتفٍّ، وكل ملتفٍّ حديقةٌ، والأبُّ: ما أنبتَت الأرضُ مما لا يأكلُ الناسُ، فقال عمر: أعَجَزتُم أن تقولوا مثلَ ما قال هذا الغلامُ الذي لم تَستَوِ شُؤونُ رأسِه، ثم قال: إني كنتُ نهيتُك أن تكلَّمَ، فإذا دعوتُك معهم فتكلَّمْ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6297 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کبار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بلایا کرتے تھے تو ان کے ساتھ مجھے بھی بلاتے تھے۔ ایک دن یا رات کا واقعہ ہے کہ آپ نے ہمیں بلایا اور کہا: جیسا کہ تم جانتے ہو کہ لیلۃ القدر کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اس کو آخری عشرہ میں تلاش کرو، تم کیا کہتے ہو، یہ کون سی طاق رات میں ہوتی ہے؟ بعض نے کہا: 29 ویں رات کو، بعض نے کہا: 27 ویں رات کو، بعض نے 25 ویں، اور بعض نے 23 ویں کو کہا۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: اے ابن عباس! تمہیں کیا ہے؟ تم بات کیوں نہیں کر رہے؟ میں نے کہا: اگر آپ چاہیں تو میں بات کرتا ہوں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے تمہیں یہاں پر بات کرنے کے لئے ہی بلایا ہے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں اپنی رائے کے مطابق گفتگو کروں گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں آپ کی رائے ہی تو سننا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سات کا ذکر بہت زیادہ کیا ہے، آسمان سات ہیں، زمینیں سات ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: إِنَّا شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّا فَأَنْبَتْنَا فِيهَا حَبًّا وَعِنَبًا وَقَضْبًا وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا وَحَدَائِقَ غُلْبًا وَفَاكِهَةً وَأَبًّا اس آیت میں حدائق ملتف ہیں، اور ہر ملتف باغ ہے۔ اور اب سے مراد زمین سے اگنے والی ہر وہ چیز جو انسان نہیں کھاتا۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم لوگ اس بچے جیسی گفتگو کرنے سے بھی عاجز ہو، یہ بچہ جو ابھی تمہارے کندھوں کے برابر نہیں پہنچتا۔ پھر فرمایا: میں تجھے گفتگو سے منع کیا کرتا تھا لیکن اب میں تمہیں اجازت دیتا ہوں کہ میں جب بھی تمہیں ان کے ساتھ بلاؤں تو تم اپنا اظہار خیال کیا کرو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6430]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6431
أخبرني أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنعاني بمكة حَرَسها الله تعالى، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن الزُّهْري قال: قال المهاجرون لعمر بن الخطّاب: ادْعُ أبناءَنا كما تدعو ابنَ عبّاس، قال: ذاكُم فتى الكهول، إنَّ له لسانًا سئوولًا، وقلبًا عَقُولًا (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6298 - منقطع
زہری کہتے ہیں: مہاجرین نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: جیسے آپ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بلاتے ہو ایسے ہمارے بیٹوں کو بھی بلایا کریں۔ آپ نے فرمایا: وہ منجھا ہوا نوجوان ہے، اس کی زبان سوال کرنے والی ہے اور اس کا دل بہت سمجھدار ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6431]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6432
أخبرني محمد بن أحمد القَنطَري ببغدادَ، حدثنا أبو قِلابةَ، حدثنا أبو عاصم، عن عُمر بن سعيد بن أبي حُسين، حدثني إبراهيم بن عِكْرمة بن حُيَي (3) ، قال: كنت أنا وحُيَىُّ بن يَعلَى وسعيدُ بن جُبَير، نأتي ابنَ عبّاس، فكنت أسأله عن النَّسَب، ويسأله حُيَي عن أيام العَرَب، ويسأله سعيدُ بن جبير عن الفُتْيا، فكأنما نَعْرِفُ من بحر (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6299 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابراہیم بن عکرمہ بن حیی فرماتے ہیں: میں، حیی بن یعلیٰ اور سعید بن جبیر، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس جایا کرتے تھے۔ میں ان سے نسب کے بارے میں سوالات کیا کرتا تھا، حییی عرب کے ایام (یعنی عربوں کی تاریخ) کے بارے میں پوچھا کرتا تھا اور سعید بن جبیر ان سے فتویٰ کے بارے میں پوچھا کرتا تھا۔ تو ہم نے ان کو علم کا سمندر پایا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6432]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں