🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

822. فِرَاسَةُ ابْنِ عَبَّاسٍ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی فراست
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6433
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد أحمد بن النَّضْر، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا زائدةُ، حدثنا عبد الرحمن بن الأصبهاني، حدثنا عبد الله بن شدّاد قال: قال عبد الله بن عبّاس: يا ابن شدّادٍ، أَلَا تَعجب، جاءني الغلامُ وقد أخذتُ مَضجَعي للقَيلُولة، فقال: هذا رجلٌ بالباب يستأذنُ، قال: فقلت: ما جاءَ به هذه الساعةَ إلَّا حاجةٌ، ائذن له، قال: فدخل فقال: ألا تخبرُني عن ذاك الرجل؟ قلت: أيُّ رجل؟ قال: عليُّ بن أبي طالب، قلت: عن أيِّ شأنِه؟ قال: متى يُبعَث؟ قلت: سبحانَ الله! يُبْعَثُ إذا بُعِثَ مَن في القبور، قال: فقال: ألا أَراكَ [تقول] كما يقولون هؤلاء الحمقى، فقلت: أَخرجوا عني هذا، فلا يَدخُلَنَّ عليَّ هذا، أو لأضربنَّه (2) . هذا إسناد صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6300 - على شرط البخاري ومسلم
عبداللہ بن شداد فرماتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے کہا: اے شداد! کیا تمہیں یہ بات اچھی نہیں لگ رہی کہ میرے پاس یہ لڑکا آیا ہے اور میں قیلولہ کے لئے لیٹ چکا تھا، دربان نے بتایا کہ ایک آدمی دروازے پر آیا ہے اور اندر آنے کی اجازت مانگ رہا ہے۔ میں نے سوچا کہ اس وقت یہ شخص ضرور کسی ضروری کام سے ہی آیا ہو گا۔ اس کو اندر آنے کی اجازت دے دو، وہ اندر آ گیا، اس نے اندر آ کر مجھ سے پوچھا: آپ مجھے اس آدمی کے بارے میں نہیں بتائیں گے؟ میں نے کہا: کس آدمی کے بارے میں؟ اس نے کہا: علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں۔ میں نے کہا: ان کے بارے میں تم کیا پوچھنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: ان کو کب اٹھایا جائے گا؟ میں نے کہا: سبحان اللہ! جب دیگر اہل قبور کو اٹھایا جائے گا تو ان کو بھی اٹھا لیا جائے گا۔ اس نے کہا: آپ بھی ان بے وقوفوں جیسی بات کر رہے ہیں۔ میں نے کہا: اس کو یہاں سے نکال دو، یہ میرے پاس نہ آئے ورنہ یہ مجھ سے مار کھائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6433]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6434
أخبرني أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا ابن نُمَير، حدثنا ابن أبي عُبَيدة، حدثني أبي، عن الأعمش، عن أبي صالح، عن ابن عبّاس قال: كنت قاعدًا عند عمر بن الخطَّاب إذْ جاءَه كتابٌ: أنَّ أهل الكوفة قد قرأَ منهم القرآنَ كذا وكذا، فكَبَّر ﵀، فقلت: اختَلَفوا؟ فقال: أُفٍّ، وما يُدريك؟ قال: فغَضِبتُ، فأَتيتُ المنزل، قال: فأَرسل إليَّ بعد ذلك فاعتَلَلْتُ له، فقال: عَزَمتُ عليك إلّا جئتَ، فأتيتُه، فقال: كنتَ قلتَ شيئًا، قلت: أستغفرُ الله، لا أعودُ إلى شيء بعدها، فقال: عَزَمتُ عليكَ إِلّا أعدتَ عليَّ الذي قلت، [قلتُ] : قلت: كُتِبَ إليَّ أنه قد قرأَ القرآنَ كذا وكذا، فقلتُ: اختَلَفوا، قال: ومن قِبَل أي شيءٍ عرفتَ؟ قلتُ: قرأتُ: ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللَّهَ عَلَى مَا فِي قَلْبِهِ﴾ حتى انتهيتُ إلى ﴿وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ﴾ [البقرة: 204 - 205] ، فإذا فعلوا ذلك لم يَصبِرْ صاحبُ القرآن، ثم قرأتُ: ﴿وَإِذَا قِيلَ لَهُ اتَّقِ اللَّهَ أَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْإِثْمِ فَحَسْبُهُ جَهَنَّمُ وَلَبِئْسَ الْمِهَادُ (206) وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ وَاللَّهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ﴾ [البقرة: 206 - 207] ، قال: صدقت والذي نفسي بيده (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6301 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ان کے پاس ایک خط آیا جس میں لکھا ہوا تھا کہ اہل کوفہ میں کچھ لوگوں نے قرآن پاک کی آیات الگ طریقے سے پڑھی ہیں۔ انہوں نے اللہ اکبر کہتے ہوئے کہا: اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے، میں نے پوچھا: کیا ان لوگوں کا قرآن کی قراءت کے بارے میں کوئی اختلاف واقع ہو گیا ہے؟ انہوں نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا: تمہیں کیا معلوم؟ راوی کہتے ہیں: میری بات سن کر ان کو غصہ آ گیا، میں اٹھ کر اپنے گھر آ گیا، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے میری طرف پیغام بھیجا، لیکن میں نے ان سے معذرت کر لی، انہوں نے دوبارہ بہت زیادہ تاکید کے ساتھ مجھے بلوایا، تو میں ان کے پاس آ گیا۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا: آپ نے کچھ کہا تھا، میں نے کہا: میں اللہ تعالیٰ سے توبہ کرتا ہوں، آئندہ ایسی بات نہیں کروں گا۔ انہوں نے کہا: میں تمہیں قسم دیتا ہوں، جو باتیں تم نے پہلے کہی ہیں وہ دوبارہ مت دہرانا۔ میں نے کہا: تم نے یہ کہا تھا کہ میرے پاس ایک خط آیا ہے جس میں قرآن پر الگ الگ قراءتوں میں پڑھنے کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ میں نے پوچھا تھا کہ کیا لوگوں کا آپس میں اختلاف ہو گیا ہے، تم نے کہا: تمہیں اس بات کا کیا پتا؟ میں نے کہا: میں نے سورہ بقرہ کی آیت 204 یوں پڑھی تھی۔ {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللَّهَ عَلَى مَا فِي قَلْبِهِ} [البقرة: 204] یہ پڑھتے ہوئے، واللہ لا یحب الفساد تک پہنچے، جب کوئی آدمی ایسے قراءت کرے گا قرآن کی قراءت جاننے والا صبر نہیں کر سکتا، پھر میں نے یہ آیت پڑھی: {إِذَا قِيلَ لَهُ اتَّقِ اللَّهَ أَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْإِثْمِ فَحَسْبُهُ جَهَنَّمُ وَلَبِئْسَ الْمِهَادُ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاةِ اللَّهِ وَاللَّهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ} انہوں نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، تم نے سچ کہا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6434]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں