🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

44. باب فِي الْمُتَوَفَّى عَنْهَا تَنْتَقِلُ
باب: کیا شوہر کی موت کے بعد عورت دوسرے گھر منتقل ہو سکتی ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2300
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عَجْرَةَ، عَنْ عَمَّتِهِ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ عَجْرَةَ، أَنَّ الْفُرَيْعَةَ بِنْتَ مَالِكِ بْنِ سِنَانٍ وَهِيَ أُخْتُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَخْبَرَتْهَا، أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهَا فِي بَنِي خُدْرَةَ، فَإِنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْبُدٍ لَهُ أَبَقُوا، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِطَرَفِ الْقَدُومِ لَحِقَهُمْ فَقَتَلُوهُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَرْجِعَ إِلَى أَهْلِي، فَإِنِّي لَمْ يَتْرُكْنِي فِي مَسْكَنٍ يَمْلِكُهُ وَلَا نَفَقَةٍ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ"، قَالَتْ: فَخَرَجْتُ، حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي الْحُجْرَةِ أَوْ فِي الْمَسْجِدِ، دَعَانِي أَوْ أَمَرَ بِي، فَدُعِيتُ لَهُ، فَقَالَ:" كَيْفَ قُلْتِ؟" فَرَدَدْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ الَّتِي ذَكَرْتُ مِنْ شَأْنِ زَوْجِي، قَالَتْ: فَقَالَ:" امْكُثِي فِي بَيْتِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ"، قَالَتْ: فَاعْتَدَدْتُ فِيهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، قَالَتْ: فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ أَرْسَلَ إِلَيَّ فَسَأَلَنِي عَنْ ذَلِكَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَاتَّبَعَهُ وَقَضَى بِهِ.
زینب بنت کعب بن عجرۃ سے روایت ہے کہ فریعہ بنت مالک بن سنان رضی اللہ عنہا (ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی بہن) نے انہیں خبر دی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں، وہ آپ سے پوچھ رہی تھیں کہ کیا وہ قبیلہ بنی خدرہ میں اپنے گھر والوں کے پاس جا کر رہ سکتی ہیں؟ کیونکہ ان کے شوہر جب اپنے فرار ہو جانے والے غلاموں کا پیچھا کرتے ہوئے طرف القدوم نامی مقام پر پہنچے اور ان سے جا ملے تو ان غلاموں نے انہیں قتل کر دیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا میں اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ جاؤں؟ کیونکہ انہوں نے مجھے جس مکان میں چھوڑا تھا وہ ان کی ملکیت میں نہ تھا اور نہ ہی خرچ کے لیے کچھ تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں (وہاں چلی جاؤ) فریعہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: (یہ سن کر) میں نکل پڑی لیکن حجرے یا مسجد تک ہی پہنچ پائی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا لیا، یا بلانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے کہا، (میں آئی) تو پوچھا: تم نے کیسے کہا؟ میں نے وہی قصہ دہرا دیا جو میں نے اپنے شوہر کے متعلق ذکر کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے اسی گھر میں رہو یہاں تک کہ قرآن کی بتائی ہوئی مدت (عدت) پوری ہو جائے فریعہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پھر میں نے عدت کے چار مہینے دس دن اسی گھر میں پورے کئے، جب عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا دور خلافت آیا تو انہوں نے مجھے بلوایا اور اس مسئلہ سے متعلق مجھ سے دریافت کیا، میں نے انہیں بتایا تو انہوں نے اسی کی پیروی کی اور اسی کے مطابق فیصلہ دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2300]
سیدہ فریعہ بنت مالک بن سنان رضی اللہ عنہا سے مروی ہے اور یہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں، بیان کرتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی کہ آپ سے اجازت لے کر اپنے خاندان بنی خدرہ میں چلی جاؤں کیونکہ میرا شوہر اپنے ان غلاموں کی تلاش میں گیا تھا جو بھاگ گئے تھے۔ وہ مقام قدوم کے اطراف میں تھے کہ میرے شوہر نے ان کو جا لیا مگر انہوں نے اس کو قتل کر ڈالا، چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لینے کے لیے آئی تھی کہ مجھے اپنے اہل میں لوٹ جانے کی اجازت دیں، کیونکہ اس نے مجھے اپنے مملوکہ مکان میں نہیں چھوڑا تھا اور نہ کوئی خرچ ہی بچا گیا تھا۔ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن کر (پہلے تو) اجازت دے دی۔ پس میں آپ کے پاس سے نکلی حتیٰ کہ جب میں حجرے یا مسجد نبوی میں تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا یا بلوایا اور فرمایا: تو نے کیسے کہا ہے؟ تو میں نے اپنا قصہ یعنی شوہر کا واقعہ دوبارہ دہرایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے (شوہر کے) مکان میں اقامت رکھ، حتیٰ کہ کتاب اللہ کی (بیان کی ہوئی) مدت پوری ہو جائے۔ کہتی ہیں: پھر میں نے اسی مکان میں اپنی عدت پوری کی، یعنی چار ماہ دس دن۔ بیان کرتی ہیں کہ جب سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا دور خلافت آیا تو انہوں نے میری طرف پیغام بھیجا اور مجھ سے اس مسئلہ کی تفصیل دریافت کی اور میں نے انہیں (تفصیل سے) خبر دی۔ چنانچہ انہوں نے اسی پر عمل کیا اور اسی کے مطابق فیصلہ کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2300]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الطلاق 23 (1204)، سنن النسائی/الطلاق 60 (3558)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 31 (2031)، (تحفة الأشراف: 18045)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطلاق 31 (87)، مسند احمد (6/370، 420)، سنن الدارمی/الطلاق 14 (2333) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (3332)
أخرجه الترمذي (1204 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں