سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
45. باب مَنْ رَأَى التَّحَوُّلَ
باب: عدت میں نقل مکانی کو جائز کہنے والوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 2301
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ، حَدَّثَنَا شِبْلٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:"نَسَخَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: عِدَّتَهَا عِنْدَ أَهْلِهَا فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ، وَهُوَ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: غَيْرَ إِخْرَاجٍ سورة البقرة آية 240". قَالَ عَطَاءٌ:" إِنْ شَاءَتِ اعْتَدَّتْ عِنْدَ أَهْلِهِ وَسَكَنَتْ فِي وَصِيَّتِهَا، وَإِنْ شَاءَتْ خَرَجَتْ، لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: فَإِنْ خَرَجْنَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ سورة البقرة آية 240"، قَالَ عَطَاءٌ:" ثُمَّ جَاءَ الْمِيرَاثُ فَنَسَخَ السُّكْنَى تَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں «غير إخراج» (سورة البقرہ: ۲۴۰) والی آیت جس میں عورت کو شوہر کے گھر والوں کے پاس عدت گزارنے کا حکم ہے منسوخ کر دی گئی ہے، اب وہ جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے، عطاء کہتے ہیں: اگر چاہے تو شوہر کے گھر والوں کے پاس عدت گزارے اور شوہر کی وصیت سے فائدہ اٹھا کر وہیں سکونت اختیار کرے، اور اگر چاہے تو اللہ کے فرمان «فإن خرجن فلا جناح عليكم فيما فعلن» ”اگر وہ خود نکل جائیں تو ان کے کئے ہوئے کا تم پر کوئی گناہ نہیں“ کے مطابق نکل جائے، عطاء کہتے ہیں کہ پھر جب میراث کا حکم آ گیا، تو شوہر کے مکان میں رہائش کا حکم منسوخ ہو گیا اب وہ جہاں چاہے عدت گزارے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2301]
جناب عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آیت کریمہ «غَيْرَ إِخْرَاجٍ» نے عورت کے لیے شوہر کے اہل میں عدت گزارنے کو منسوخ کر دیا ہے، سو جہاں چاہے عدت گزارے۔“ عطاء نے (اس قول کی وضاحت میں) کہا: ”چاہے تو شوہر کے اہل میں عدت گزارے جیسے کہ اس کے لیے وصیت ہے اور چاہے تو وہاں سے رخصت ہو جائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ﴾ [سورة البقرة: 240] ۔“ عطاء کہتے ہیں کہ پھر آیت میراث نازل ہوئی، پس وہ سکنیٰ منسوخ ہو گیا تو جہاں چاہے عدت گزارے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2301]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التفسیر 41 (4531)، الطلاق 50 (5344)، سنن النسائی/ الکبری/ الطلاق (5725)، (تحفة الأشراف: 5900) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5344، 4531)