🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

50. باب فِي تَعْظِيمِ الزِّنَا
باب: زنا بہت بڑا گناہ ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2310
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ؟ قَالَ:" أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ"، قَالَ: فَقُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ:" أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مَخَافَةَ أَنْ يَأْكُلَ مَعَكَ"، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ:" أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِكَ"، قَالَ: وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى تَصْدِيقَ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ وَلا يَزْنُونَ سورة الفرقان آية 68 الْآيَةَ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ) تم اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراؤ حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے، میں نے پوچھا اس کے بعد کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے بچے کو اس ڈر سے مار ڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا، میں نے کہا پھر اس کے بعد؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو، نیز کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کی تصدیق کے طور پر یہ آیت نازل ہوئی «والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق ولا يزنون الخ (سورۃ الفرقان: ۶۸) جو لوگ اللہ کے علاوہ کسی کو نہیں پکارتے اور ناحق اس نفس کو قتل نہیں کرتے جس کے قتل کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اور نہ زنا کرتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2310]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تو اللہ کے ساتھ اس کا شریک بنائے حالانکہ اس نے تجھے پیدا کیا ہے۔ کہتے ہیں: میں نے کہا: پھر کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تو اپنے بچے کو اس ڈر سے قتل کر دے کہ وہ تیرے ساتھ مل کر کھائے گا۔ کہتے ہیں (میں نے کہا): پھر کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تو اپنے ہمسائے کی بیوی سے بدکاری کرے۔ کہتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی تصدیق میں یہ آیت نازل فرمائی: ﴿لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ﴾ [سورة الفرقان: 68] (رحمن کے بندے وہی ہیں) جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہیں پکارتے اور نہ اللہ کی حرام کردہ کسی جان کو قتل کرتے ہیں مگر حق کے ساتھ اور نہ بدکاری کرتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2310]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/ تفسیر سورة البقرة 3 (4477)، والأدب 20 (4761)، والحدود 20 (6811)، والدیات 2 (6861)، والتوحید 40 (7520)، 46 (7532)، صحیح مسلم/الایمان 37 (86)، سنن الترمذی/تفسیر سورة الفرقان (3182)، (تحفة الأشراف: 9480)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/380، 471، 424، 434، 462) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6001) صحيح مسلم (141)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2311
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ:" جَاءَتْ مُسَيْكَةُ مِسْكِينَةٌ لِبَعْضِ الأَنْصَارِ، فَقَالَتْ: إِنَّ سَيِّدِي يُكْرِهُنِي عَلَى الْبِغَاءِ، فَنَزَلَ فِي ذَلِكَ: وَلا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ سورة النور آية 33".
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ ایک انصاری شخص کی مسکینہ لونڈی آ کر کہنے لگی کہ میرا مالک مجھے بدکاری کے لیے مجبور کرتا ہے، تو یہ آیت نازل ہوئی «ولا تكرهوا فتياتكم على البغاء» (سورۃ النور: ۳۳) تمہاری جو لونڈیاں پاک دامن رہنا چاہتی ہیں انہیں دنیا کی زندگی کے فائدے کی غرض سے بدکاری پر مجبور نہ کرو۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2311]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مسیکہ ایک انصاری کی لونڈی تھی، وہ آئی اور کہا: میرا مالک مجھے بدکاری کے لیے مجبور کرتا ہے۔ چنانچہ اس سلسلے میں یہ آیت اتری: ﴿وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ﴾ [سورة النور: 33] اور اپنی لونڈیوں کو بدکاری کے لیے مجبور مت کرو۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2311]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2833) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2312
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، أَخْبَرَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ وَمَنْ يُكْرِههُّنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مِنْ بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة النور آية 33، قَالَ: قَالَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ:" غَفُورٌ لَهُنَّ الْمُكْرَهَاتِ".
سیلمان تیمی سے روایت ہے کہ آیت کریمہ: «ومن يكرههن فإن الله من بعد إكراههن غفور رحيم» (النور: ۳۳) اور جو انہیں مجبور کرے تو اللہ تعالیٰ مجبور کرنے کی صورت میں بخشنے ولا رحم کرنے والا ہے کے متعلق سعید بن ابوالحسن نے کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ جنہیں زنا کے لیے مجبور کیا گیا، اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2312]
معتمر اپنے والد (سلیمان تیمی) سے بیان کرتے ہیں کہ آیت کریمہ ﴿وَمَنْ يُكْرِهُّنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مِنْ بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ [سورة النور: 33] کی تفسیر میں سعید بن ابی الحسن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مجبور کردہ لونڈیوں کے لیے غفور رحیم ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2312]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18689) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال يحيي بن معين : كان سليمان التيمي يدلس (تاريخ ابن معين : 3600) وتقدم (1488)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 87

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں