سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
50. باب في تعظيم الزنا
باب: زنا بہت بڑا گناہ ہے۔
حدیث نمبر: 2311
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ:" جَاءَتْ مُسَيْكَةُ مِسْكِينَةٌ لِبَعْضِ الأَنْصَارِ، فَقَالَتْ: إِنَّ سَيِّدِي يُكْرِهُنِي عَلَى الْبِغَاءِ، فَنَزَلَ فِي ذَلِكَ: وَلا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ سورة النور آية 33".
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ ایک انصاری شخص کی مسکینہ لونڈی آ کر کہنے لگی کہ میرا مالک مجھے بدکاری کے لیے مجبور کرتا ہے، تو یہ آیت نازل ہوئی «ولا تكرهوا فتياتكم على البغاء» (سورۃ النور: ۳۳) ”تمہاری جو لونڈیاں پاک دامن رہنا چاہتی ہیں انہیں دنیا کی زندگی کے فائدے کی غرض سے بدکاری پر مجبور نہ کرو“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2311]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مسیکہ ایک انصاری کی لونڈی تھی، وہ آئی اور کہا: ”میرا مالک مجھے بدکاری کے لیے مجبور کرتا ہے۔“ چنانچہ اس سلسلے میں یہ آیت اتری: ﴿وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ﴾ [سورة النور: 33] ”اور اپنی لونڈیوں کو بدکاری کے لیے مجبور مت کرو۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2311]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2833) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Sunan Abi Dawud Hadith 2311 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري