المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1022. ذِكْرُ تِسْعِ خِلَالِ عَائِشَةَ لَمْ تَكُنْ فِي غَيْرِهَا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وہ نو خصوصیات جو کسی اور میں نہ تھیں
حدیث نمبر: 6878
حَدَّثَنَا أبو أحمد محمد بن الحسين الشَّيباني، حَدَّثَنَا أبو عبد الرحمن أحمد بن شُعيب الفقيه النَّسائي بمصر، حَدَّثَنَا سعيد بن يحيى بن سعيد الأُموي، حدثني أبي، حدثني أبو العَنْبَس، عن أبيه، حدثتنا عائشةُ: أنَّ رسولَ الله ﷺ ذكر فاطمةَ، قالت: فتكلَّمتُ أنا، فقال:"أما ترضَيْنَ أن تكوني زوجتي في الدنيا والآخرة؟" قلتُ: بلى والله، قال:"فأنتِ زوجتي في الدنيا والآخرة" (1) . أبو العَنْبس هذا سعيد بن كثير مدنيٌّ ثقة، والحديث صحيح ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6729 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6729 - صحيح
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا۔ آپ فرماتی ہیں: میں نے کہا: (وہ تو فاطمہ کی فضیلت ہے،) میں کہاں گئی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم دنیا اور آخرت میں میری بیوی ہو؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں راضی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو تم دنیا آخرت میں میری بیوی ہو۔ ٭٭ اس حدیث کے راوی ابوالعنبس (کا اصل نام) سعید بن کثیر ہے، مدنی ہیں، ثقہ ہیں، اور یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6878]
حدیث نمبر: 6879
أخبرنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا موسى بن هارون، حَدَّثَنَا أبو الخطاب زياد بن يحيى الحَسَّاني، حَدَّثَنَا مالك بن سُعير، حَدَّثَنَا إسماعيل بن أبي خالد، أخبرنا عبد الرحمن بن أبي (2) الضحاك: أنَّ عبد الله بن صفوان أتى عائشةَ وآخرُ معه، فقالت عائشةُ لأحدِهما: أسمعتَ حديثَ حفصةَ يا فلان؟ قال: نعم يا أمَّ المؤمنين، فقال لها عبد الله بن صفوان وما ذاكِ يا أمَّ المؤمنين؟ قالت: خِلالٌ لي تسعٌ لم يكنَّ لأحدٍ من النِّساء قبلي إلَّا ما أتى اللهُ ﷿ مريمَ بنتَ عِمران، والله ما أقولُ هذا أنِّي أفخَرُ (3) على أحدٍ من صَواحباتي، فقال لها عبد الله بن صفوان: وما هُنَّ يا أمَّ المؤمنين؟ قالت: جاء المَلَكُ بصورتي إلى رسول الله ﷺ، فتزوَّجني (1) رسولُ الله وأنا ابنةُ سبعِ سنينَ، وأُهديتُ إليه وأنا ابنةُ تسعِ سنينَ، وتزوَّجني بِكرًا لم يَشْرَكهُ فيَّ أحدٌ من الناس، وكان يأتيه الوحيُ وأنا وهو في لِحافٍ واحد، وكنتُ من أحبِّ الناس إليه، ونزل فيَّ آياتٌ من القرآن كادت الأمّةُ تَهْلِكُ فيها، ورأيتُ جبريلَ ﵇ ولم يَرَه أحدٌ من نسائِه غيري، وقُبِضَ في بيتي لم يَلِهِ أحدٌ غيرُ المَلَك إلَّا أنا (2) (3)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6730 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6730 - صحيح
عبدالرحمن بن ضحاک بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن صفوان اور ایک دوسرا شخص ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان میں سے ایک سے فرمایا: اے فلاں! کیا تم نے حفصہ والی بات سنی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں اے ام المومنین۔ سیدنا عبداللہ بن صفوان رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اے ام المومنین! وہ کون سی بات ہے؟ ام المومنین نے فرمایا: میری نو خاصیتیں ایسی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی خاتون کو نصیب نہیں ہوئیں، سوائے اس فضیلت کے جو کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا مریم بنت عمران رضی اللہ عنہا کو عطا فرمائی ہے۔ اللہ کی قسم! میں اپنی ساتھیوں (دیگر امہات المومنین) پر فخر کرتے ہوئے نہیں کہہ رہی ہوں۔ سیدنا عبداللہ بن صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ام المومنین! وہ نو خاصیتیں کون کون سی ہیں؟ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: * فرشتہ میری تصویر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا۔ * رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے نکاح کیا، اس وقت میری عمر 7 برس تھی۔ * میری رخصتی عمل میں آئی تو اس وقت میری عمر 9 برس تھی۔ * حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں کنواری صرف میں ہوں۔ * حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور میں ایک لحاف میں ہوتے تھے اور عین اس حال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوا کرتی تھی۔ * رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ مجھ سے محبت کرتے تھے۔ * میرے حق میں قرآن کریم کی آیات نازل ہوئیں، جبکہ لوگ ہلاک ہونے کے قریب ہو چکے تھے۔ * میں نے سیدنا جبریل امین علیہ السلام کی زیارت کی ہے۔ * آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال میرے حجرے میں ہوا، اس وقت ملک الموت کے علاوہ صرف میں ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6879]
حدیث نمبر: 6880
أخبرني أبو العبّاس محمد بن أحمد المحبوبي، حَدَّثَنَا سعيد بن مسعود، حَدَّثَنَا يزيد بن هارون، أخبرنا العوَّام بن حَوْشَب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبّاس: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ﴾ [النور: 23] قال: نزلت في عائشةَ خاصةً (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6731 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6731 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سورۃ النور کی آیت نمبر 23: إِنَّ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ لُعِنُوا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ” بیشک وہ جو عیب لگاتے ہیں انجان پارسا ایمان والیوں کو ان پر لعنت ہے دنیا اور آخرت میں اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے “ بالخصوص سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حق میں نازل ہوئی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6880]