المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1021. فَضَائِلُ عَائِشَةَ عَنْ لِسَانِ ابْنِ عَبَّاسٍ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضائل سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی زبان سے
حدیث نمبر: 6874
أخبرنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدْل، حَدَّثَنَا يحيى بن أبي طالب، حَدَّثَنَا زيد بن الحُباب، أخبرنا عمر بن سعيد بن أبي حُسين المكي، حدثني عبد الله بن أبي مُليكة، حدثني ذَكْوان أبو عمرو مولى عائشة: أنَّ دُرْجًا قَدِمَ إلى عمر من العِراق وفيه جوهرٌ، فقال لأصحابه: تدرون ما ثمنُه؟ قالوا: لا، ولم يدروا كيف يَقسِمونَه، فقال: تأذنونَ أن أبعثَ به إلى عائشةَ لحبِّ رسولِ الله ﷺ إياها؟ قالوا: نعم، فبعثَ به (1) إليها، ففتحته فقالت: ماذا فُتِحَ على ابن الخطاب بعدَ رسولِ الله ﷺ؟! اللهم لا تُبقِني لعطيَّتِه لقابلٍ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين إذا صحَّ سماعُ ذكوان أبي عمرو، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6725 - فيه إرسال
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين إذا صحَّ سماعُ ذكوان أبي عمرو، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6725 - فيه إرسال
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ابوعمرو کہتے ہیں: عراق سے ایک تابوت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اس میں ہیرا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا: تم جانتے ہو کہ اس کی قیمت کیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں۔ اور ان کو یہ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اس کو تقسیم کیسے کیا جائے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تم لوگ اجازت دو تو میں یہ ہیرا ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھیج دیتا ہوں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے بہت محبت کرتے تھے۔ سب لوگوں نے متفقہ طور پر اجازت دے دی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہ صندوق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیج دیا۔ ام المومنین نے اس کو کھول کر دیکھا تو بے ساختہ بول اٹھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ابن خطاب رضی اللہ عنہ پر فتوحات کا کیسا دروازہ کھلا ہے، اے اللہ! تو مجھے آئندہ ان کے عطیہ کے لئے باقی نہ رکھنا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6874]
حدیث نمبر: 6875
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حَدَّثَنَا بِشر بن موسى، حَدَّثَنَا الحُميدي، حَدَّثَنَا سفيان، عن عبد الله بن عثمان بن خُثيم، عن ابن أبي مُليكة قال: جاء ابن عبّاس يستأذنُ على عائشةَ في مرضِها، فأبَتْ أن تأذنَ له، فقال لها بنو أخيها: ائذني له، فإنه من خير ولدِك، قالت: دعوني مِن تزكيتِه، فلم يزالوا بها حتَّى أذِنت له، فلما دخلَ عليها قال ابن عَبَّاس: إنَّما سُمِّيتِ أُمّ المؤمنين لِتسعَدي، وإنه لاسمُك قبل أن تُولدي، إنَّكِ كنتِ من أحبِّ أزواج النَّبِيِّ ﷺ إليه، ولم يكن رسولُ الله ﷺ يحبُّ إلَّا طيّبًا، وما بينَكِ وبينَ أن تَلقَي الأحبةَ إلَّا أن تُفارقَ (1) الروحُ الجسدَ، ولقد سقطَتْ قِلادتُك ليلةَ الأبواء، فجعل الله للمسلمين خِيْرةً في ذلك، فأنزل الله ﵎ آيةَ التيمُّم، ونزلت فيكِ آياتٌ من القرآن، فليس مسجدٌ من مساجِد المسلمين إِلَّا يُتلى فيه عُذرُكِ آناءَ الليل وآناءَ النهار. فقالت: دَعْني من تزكيتِك لي يا ابنَ عبّاس، فوَدِدتُ أَنِّي كنتُ نَسيًا منسيًّا (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6726 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6726 - صحيح
ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں: جب ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیمار ہوئیں تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ان کی عیادت کے لئے آئے، اندر آنے کی اجازت مانگی، ام المومنین نے اجازت نہ دی، ام المومنین کے بھتیجوں نے سفارش کی کہ آپ ان کو اجازت دے دیجئے، یہ تو آپ کے خیرخواہ ہیں، ام المومنین نے پھر انکار کیا، وہ لوگ مسلسل سفارش کرتے رہے، بالآخر انہوں نے اجازت دے دی۔ جب سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ان کے پاس آئے اور کہنے لگے:” آپ کی سعادت مندی کی بناء پر آپ کا نام ” ام المومنین “ ہے، اور آپ کا یہ نام آپ کی پیدائش سے بھی پہلے کا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ آپ سے محبت کرتے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ ہی سے محبت کرتے تھے، جب تک جسم میں روح ہے، آپ سے محبت کرنے والے آپ سے ملنے آتے رہیں گے، ابواء کی رات آپ کا ہار گم ہو گیا تھا، اللہ تعالیٰ نے وہ بھی امت کے لئے بہتر کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے تیمم کے احکام والی آیت نازل فرمائی۔ آپ کے حق میں قرآن کی آیات نازل ہوئیں۔ مسلمانوں کی ہر مسجد میں دن رات آپ کے عذر کی آیات تلاوت ہوتی رہیں گی۔ ام المومنین نے کہا: اے ابن عباس مجھے میرے حال پر چھوڑ دو، میں چاہتی ہوں، کاش کہ میں نسیا منسیا ہو جاتی (یعنی میرا نام و نشان تک مٹ جائے)۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6875]
حدیث نمبر: 6876
حدثني علي بن عيسى، حَدَّثَنَا إبراهيم بن أبي طالب، حَدَّثَنَا ابن أبي عمر، حَدَّثَنَا سفيان، عن أبي سعد سعيد بن المَرزُبان، عن عبد الرحمن بن الأسود، عن أبيه قال: قالت عائشة: ما تزوَّجني رسولُ الله ﷺ حتَّى أتاه جبريلُ بصُورتي، وقال: هذه زوجتُك، وتزوَّجني وإني لجاريةٌ عليَّ حَوْف، فلمَّا تزوجني ألقى الله عليَّ حياءً وأنا صغيرةُ (1) . قال سفيان: قال الزُّهْري: الحَوْف: سُيُورٌ (2) تكون في وَسَطِها.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6727 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6727 - صحيح
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میری شادی سے پہلے سیدنا جبریل امین علیہ السلام نے میری تصویر لا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائی اور کہا: یہ آپ کی بیوی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے نکاح کیا، میں اس وقت چھوٹی بچی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے نکاح کر لیا، اللہ تعالیٰ نے مجھ پر حیاء القاء فرما دیا میں اس وقت چھوٹی تھی۔ ٭٭ زہری کہتے ہیں: حوف ایک تسمہ ہے جو کمر پر باندھا جاتا ہے۔ (یہ ازار نما چمڑے کی ایک چیز ہوتی ہے جس کو بچے پہنتے ہیں: المنجد) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6876]
حدیث نمبر: 6877
أخبرنا عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْوٍ، حَدَّثَنَا الحارث بن أبي أسامة، حَدَّثَنَا يزيد بن هارون، أخبرنا حماد بن سَلَمة، حَدَّثَنَا هشام بن عُرْوة، عن عوف بن الحارث بن الطُّفيل، عن رُمَيثةَ أمِّ عبد الله بن محمد بن أبي عَتيق، عن أمِّ سلمة قالت: كلَّمني صواحبي أن أُكلِّمَ رسولَ الله ﷺ أن يأمرَ الناسَ فيُهدُون له حيث كان، فإنَّ الناسَ يتحرَّونَ بهداياهم يومَ عائشة، وإِنَّا نُحِبُّ الخيرَ كما تحبُّه عائشةُ، فقلتُ: يا رسولَ الله، إنَّ صواحبي كلَّمْنَني أن أكلِّمك أن تأمرَ الناسَ فيُهدون لكَ حيث كنتَ، فإنَّ الناس يتحرَون بهداياهم يومَ عائشةَ، وإنَّا نحبُّ الخيرَ كما تحبُّه عائشةُ، فسكت رسولُ الله ﷺ فلم يُراجِعْني، فجاءني صواحبي، فأخبرتُهن بأنَّه ﷺ لم يُكلِّمني، فقُلنَ: والله لا تَدَعيهِ، وما هذا حينَ تَدَعيه، قالت: فدارَ فكلَّمتُه، فقلتُ: إِنَّ صواحبي قُلنَ لي أن أُكلِّمَك تأمرُ الناسَ فيُهدون لكَ حيث كنتَ، فقلتُ له مثلَ المقالة الأُولى مرَّتين أو ثلاثًا، كلُّ ذلك يسكتُ عنها رسولُ الله ﷺ، ثم قال:"يا أُمّ سَلَمة، لا تُؤذيني في عائشةَ، فإنِّي والله ما نزل الوحيُ عليَّ وأنا في بيتِ امرأةٍ من نسائي غيرَ عائشة" قالت: فقلتُ: أعوذُ بالله أن أسُوءَك في عائشة (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6728 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6728 - صحيح
ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میری ساتھیوں (دیگر ازواج) نے مجھے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کروں کہ آپ لوگوں کو حکم دیں کہ وہ جس زوجہ کے گھر ہوں وہ وہیں پر اپنے تحائف بھیجا کریں۔ کیونکہ لوگ تحائف بھیجنے کے لئے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کا انتظار کیا کرتے تھے، اور یہ کہ ہم بھی اسی طرح بھلائی چاہتی ہیں، جیسے عائشہ رضی اللہ عنہا چاہتی ہے۔ (میں نے یہ بات کہی تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاموشی اختیار فرمائی، اور مجھے کوئی جواب نہ دیا۔ میری ساتھی میرے پاس آئیں، میں نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے کہا: تم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے لگی رہو، اور بار بار یہ بات کہتی رہو۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب اگلی مرتبہ ان کی باری پر ان کے گھر تشریف لائے تو انہوں نے کہا: میری سہیلیوں نے کہا ہے کہ میں آپ سے بات کروں کہ آپ لوگوں کو حکم دے دیں کہ میں جہاں ہوں، اپنے تحائف وغیرہ وہیں بھیجا کرو، میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں دو یا تین مرتبہ یہ بات کہی، لیکن ہر بار حضور صلی اللہ علیہ وسلم خاموشی اختیار فرماتے۔ (آخری بار جب میں نے یہی بات کہی تو) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ام سلمہ! تم عائشہ کے حوالے سے مجھے ٹینشن مت دیا کرو۔ کیونکہ صرف عائشہ وہ خاتون ہیں جن کے بستر میں بھی مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: عائشہ کے حوالے سے آپ کو تکلیف دینے سے میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتی ہوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6877]