🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1088. ذِكْرُ أَوَّلِ امْرَأَةٍ قَتَلَتْ رَجُلًا
اسلام میں پہلی عورت کا ذکر جس نے ایک مرد کو قتل کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7039
أخبرنا أبو جعفر أحمد بن عُبيد بن إبراهيم بن محمد بن عبيد بن عبد الملك الأسدي الحافظ بهمذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين بن ديزيل، حدثنا إسحاق بن محمد الفَرْوي (2) ، حدثتنا أم عُرْوة (3) بنت جعفر بن الزبير، عن أبيها، عن جدها الزبير، عن أمه صفية بنت عبد المطلب: أنَّ رسول الله ﷺ لَمَّا خرج إلى أحد جعل نساءه في أُطُمٍ يقال له: فارع (4) ، وجعل معهنَّ حسان بن ثابت، فجاء اليهود إلى الأُطم يلتمسون غِرَّةَ نساء النَّبيِّ ﷺ، فترقَّى إنسانٌ من الأُطم علينا، فقلتُ له: يا حسان، قُمْ إليه فاقتله، فقال: والله ما كان ذلك في، ولو كان ذلك فيَّ كنتُ مع النَّبيِّ ﷺ، فقلتُ له: اربط هذا السيف على ذراعي، فربطه، فقمتُ إليه فضربتُ رأسه حتى قطعته، فقلتُ له: خُذ بأذنيه فارم به عليهم، فقال: والله ما ذلك فيَّ، فأخذتُ برأسه فرميتُ به عليهم، فتضعْضَعُوا وهم يقولون: قد علمنا أن محمدًا لم يكن ليترك أهله خُلوفًا ليس معهن أحدٌ. قالت: وكان رسول الله ﷺ إذا اشتدَّ على المشركين شدَّ حسانُ مع رسول الله صلى الله عليه وهو معنا في الحصْن، فإذا رجع رجع وراءه كما يرجع رسول الله ﷺ، وهو ثَمَّ، فمرَّ بنا سعد بن معاذ وقد أخذ صُفْرةً وهو بعُرس قبل ذلك بأيام، وهو يرتجز: مهلًا قليلًا يَلحقِ الهَيْجا حَمَلْ … لا بأس بالموت إذا حلَّ الأَجَلْ قالت عائشة: فما رأيتُ رجلًا أحمل منه في ذلك اليوم (1) .
هذا حديث كبير غريب بهذا الإسناد، وقد روي بإسناد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6866 - غريب وقد روي بإسناد صحيح
سیدہ صفیہ بنت عبدالمطلب فرماتی ہیں کہ جنگ خندق کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو فارع نامی قلعہ میں رکھا تھا۔ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو ان کا نگران مقرر کر دیا، کچھ یہودی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کا اطم ڈھونڈتے ہوئے ادھر آ نکلے، ایک انسان نے اوپر چڑھ کر اطم سے ہماری طرف جھانکا، میں نے کہا: اے حسان! اٹھو اور اس کو قتل کر دو، سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میرے اندر اتنی طاقت نہیں ہے، اگر مجھ میں اتنی ہمت ہوتی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ میں ہوتا، میں نے ان سے کہا: یہ تلوار میرے بازو پر باندھ دو، انہوں نے تلوار میرے بازو پر باندھ دی، میں اٹھی اور اس کے سر پر کاری وار کر کے اس کا سر کاٹ ڈالا۔ میں نے سیدنا حسان رضی اللہ عنہ سے کہا: اس سر کو کانوں سے پکڑ کر ان کی طرف پھینک دو، سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! مجھ میں اتنی ہمت نہیں ہے، چنانچہ میں نے خود اس کا سر پکڑ کر یہودیوں کی طرف پھینک دیا، یہ دیکھتے ہی وہ لرزہ براندام ہو گئے اور کہنے لگے: ہم تو یہ سمجھے تھے محمد نے اپنی عورتوں کے پاس کسی کو چھوڑا ہی نہیں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت کریمہ تھی کہ جب مشرکین پر چڑھائی کرتے تو حسان رضی اللہ عنہ کو یہ معاملہ بہت سخت محسوس ہوتا تو وہ ہمارے ساتھ قلعہ میں ہوتے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آتے تو حسان رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے آتے (دیکھنے والا سمجھتا کہ وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آئے ہیں) اس کے بعد سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس سے گزرے، ان کے مہندی لگی ہوئی تھی، کیونکہ ابھی نئی نئی شادی ہوئی تھی، وہ درج ذیل رجزیہ اشعار پڑھ رہے تھے۔ تھوڑا ہی وقت ہے جب اونٹ بھڑکتی ہوئی (جنگ تک) پہنچ جائے گا، جب وقت پورا ہو جائے تو پھر موت میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اس دن سعد جس قدر خوبصورت لگ رہے تھے، میں نے اس سے زیادہ خوبصورت کوئی مرد نہیں دیکھا۔ ٭٭ یہ حدیث کبیر ہے، اس اسناد کے ہمراہ غریب ہے، جبکہ یہی حدیث صحیح اسناد کے ہمراہ بھی مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 7039]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں