المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1089. ذِكْرُ أَرْوَى بِنْتِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمَّةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ -
رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی سیدہ اروٰی بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا کا بیان
حدیث نمبر: 7040
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد (1) بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن صفيَّةَ بنتِ عبد المطلب - قال عُرْوة: وسمعتها تقول: أنا أول امرأة قتلت رجلًا - كنتُ في فارع حصن حسانَ بن ثابت، وكان حسانُ معنا في النساء والصبيان حين خندق النَّبيُّ ﷺ، قالت صفية: فمرَّ بنا رجلٌ من يهود، فجعل يُطيفُ بالحصن، فقلتُ لحسان: إنَّ هذا اليهودي بالحِصن كما تَرَى، ولا آمنه أن يدلّ على عورتنا، وقد شُغِلَ عَنَّا رسول الله ﷺ وأصحابه، فقُمْ إليه فاقتله، فقال: يَغْفِرُ الله لكِ يا بنت عبد المطلب، والله لقد عرفتِ ما أنا بصاحب هذا، قالت صفيَّةُ: فلما قال ذلك ولم أرَ عنده شيئًا، احتجزتُ وأخذتُ عمودًا من الحصن، ثم نزلتُ من الحصن إليه، فضربته بالعمود حتى قتلته، ثم رجعتُ إلى الحصن، فقلتُ: يا حسان، انزل فاستَلِبْه، فإنه لم يمنعني أن أسلُبَه (1) إلَّا أنه رجلٌ، فقال: ما لي بسَلَبه من حاجةٍ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه. ذكرُ أَرْوى بنتِ عبد المطلب عمة رسول الله ﷺ ولم أجد إسلامها إِلَّا في كتاب أبي عبد الله الواقدي (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6867 - عروة لم يدرك صفية
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه. ذكرُ أَرْوى بنتِ عبد المطلب عمة رسول الله ﷺ ولم أجد إسلامها إِلَّا في كتاب أبي عبد الله الواقدي (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6867 - عروة لم يدرك صفية
عروہ فرماتے ہیں: سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں وہ سب سے پہلی عورت ہوں، جس نے کسی مرد کو قتل کیا، میں حسان بن ثابت کے فارع قلعہ میں تھی، جنگ خندق کے موقع پر سیدنا حسان بھی عورتوں اور بچوں کے ہمراہ قلعے میں تھے، سیدہ صفیہ فرماتی ہیں: ہمارے پاس سے ایک یہودی شخص گزرا، اور وہ قلعے کے اردگرد گھومنے لگ گیا، میں نے حسان سے کہا، آپ دیکھ رہے ہو، یہ یہودی قلعے کے گرد گھوم رہا ہے، مجھے خدشہ ہے کہ یہ شخص ہم عورتوں کی مخبری کر دے گا، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ میں مصروف ہیں، تم اٹھو اور اس کو قتل کر ڈالو، سیدنا حسان نے کہا: اے عبدالمطلب کی بیٹی! اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کرے، اللہ کی قسم! آپ تو جانتی ہیں کہ میں اتنی جرأت نہیں رکھتا ہوں، سیدہ صفیہ فرماتی ہیں: جب حسان نے یہ بات کہی اور مجھے اس کے پاس کوئی ہتھیار بھی نظر نہ آیا، میں نے قلعہ کا ایک ستون اٹھا لیا، پھر میں قلعے سے نیچے اتری اور وہی ستون اس کو دے مارا اور اس یہودی کو قتل کر دیا، پھر میں قلعے میں واپس آئی، میں نے کہا: اے حسان! نیچے اترو اور اس کا سازوسامان اتار لو، کیونکہ میں عورت ذات ہو کر اس مرد کا سامان اتاروں، یہ اچھا نہیں لگتا، سیدنا حسان نے کہا: مجھے اس کے سامان کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن ان دونوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 7040]