المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1100. جَوَازُ الرُّقْيَةِ مَا لَمْ تَكُنْ شِرْكًا
دم (رقیہ) کا جواز، بشرطیکہ اس میں شرک شامل نہ ہو، اور یہ روایت سیدنا ابو بکر بن سلیمان نے اپنی دادی سے سنی
حدیث نمبر: 7062
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدَّثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد، حدَّثنا أبي، عن صالح بن كَيسان، حدَّثنا إسماعيل بن محمد بن سعد، أنَّ أبا بكر بن سليمان بن أبي حَثْمة القرشي حدَّثه: أَنَّ رجلًا من الأنصار خرجت به نَمْلَةٌ، فدُلَّ أَنَّ الشِّفاء بنت عبد الله تَرْقي من النَّملة، فجاءها فسألها أن تَرقِيَه فقالت: والله ما رَقَيتُ منذ أسلمتُ، فذهب الأنصاريُّ إلى رسول الله ﷺ فأخبَره بالذي قالتِ الشفاءُ، فدعا رسولُ الله ﷺ الشِّفاء، فقال:"اعرِضِي عليَّ" فعَرَضَتْها عليه، فقال:"ارقِيهِ، وعلِّمِيها حفصة كما علَّمتِيها الكِتابَ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين. وقد سمعه أبو بكر بن سليمان من جدَّته:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6888 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين. وقد سمعه أبو بكر بن سليمان من جدَّته:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6888 - على شرط البخاري ومسلم
ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ قرشی رحمۃ اللہ علیہ ایک انصاری کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ اس کو چیونٹی نے کاٹ لیا، کسی نے اس کو بتایا کہ شفاء بت عبداللہ رضی اللہ عنہا چیونٹی کے کاٹے کا دم کرتی ہے، وہ سیدنا شفاء بنت عبداللہ کے پاس آ گئے، اور ان سے دم کرنے کا کہا، (انہوں نے معذرت کرتے ہوئے کہا:) میں جب سے اسلام لائی ہوں، تب سے کبھی بھی دم نہیں کیا۔ وہ انصاری شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو گیا، اور شفاء بنت عبداللہ کی شکایت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شفاء بنت عبداللہ کو بلوایا (جب وہ آ گئیں تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ دم میرے سامنے پیش کرو، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ دم سنایا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو دم کر دو (کیونکہ اس دم میں کوئی کفریہ کلمات نہیں تھے) اور یہ دم حفصہ کو بھی سکھا دو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ ابوبکر بن سلیمان نے اپنے دادا سے حدیث کا سماع کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 7062]