🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1101. رُقْيَةُ النَّمْلَةِ
نملہ (جلدی بیماری) کے دم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7063
كما حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيبانيُّ، حدَّثنا حامد بن أبي حامد المُقرئ، حدَّثنا إسحاق بن سليمان الرازي، حدَّثنا الجرَّاح بن الضحَّاك الكِنْدي، عن كُريب بن سليمان (1) الكِنْدي، قال: أخذَ بيدي عليُّ بن الحسين بن علي حتى انطلقَ بي إلى رجلٍ من قُريشٍ أحدِ بني زُهرة، يُقال له: ابن أبي حَثْمة، وهو يُصلِّي قريبًا منه، حتى فَرَغَ ابن أبي حَثْمة من صلاتِه، ثم أقبلَ علينا بوجهه، فقال له عليُّ بن الحسين: الحديثَ الذي ذكرتَ عن أمِّكَ في شأنِ الرُّقية، فقال: نعم، حدَّثتني أمِّي: أنَّها كانت تَرقي برُقْيةٍ في الجاهلية، فلما أن جاءَ الإسلامُ قالت: لا أَرقِي حتى أستأمِرَ رسولَ الله ﷺ، فقال لها النبيُّ ﷺ:"ارقِي ما لم يكن شِركٌ بالله ﷿" (2) .
کریب بن سلیمان الکندی فرماتے ہیں: علی بن حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے میرا ہاتھ پکڑا اور بنی زہرہ سے تعلق رکھنے والے ایک قرشی آدمی کے پاس مجھے لے گئے، اس آدمی کو ابن ابی حثمہ کے نام سے پکارا جاتا ہے، وہ ان کے قریب ہی نماز پڑھ رہے تھے۔ جب ابن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری جانب متوجہ ہوئے، سیدنا علی بن حسین نے ان سے کہا: دم کے بارے میں ایک حدیث، آپ اپنی والدہ کے حوالے سے بیان کرتے ہو، انہوں نے کہا: جی ہاں، وہ حدیث مجھے میری والدہ نے بتائی تھی، (وہ یہ ہے کہ میری والدہ) زمانہ جاہلیت میں دم کیا کرتی تھی، جب اسلام کا زمانہ آ گیا تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشورہ کروں گی (اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیں گے تو) میں دم کروں گی (ورنہ چھوڑ دوں گی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشورہ کیا تو) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دم کیا کرو، جب تک اس میں شرک کی آمیزش نہ ہو (تب تک دم کرنا جائز ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 7063]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7064
حدَّثنا بالحديث على وجهه أبو عمرو محمد بن جعفر بن محمد بن مَطَر الزَّاهد العَدْل إملاءً سنةَ سبعٍ وثلاثين وثلاث مئة، حدَّثنا محمود بن محمد الواسطي، حدَّثنا إبراهيم بن عبد الله أبو إسحاق الهَرَوي، حدثني عثمان بن عمر بن عثمان بن سليمان بن أبي حَثْمةَ القُرشي العَدَوي، حدثني أبي، عن جدِّي عثمان بن سليمان، عن أبيه، عن أُمِّه الشَّفاء بنت عبد الله: أنها كانت تَرقِي برُقًى في الجاهلية، وأنَّها قد كانت بايَعَت رسولَ الله ﷺ بمكة قبلَ الهجرة، فقَدِمَت عليه مُهاجرةً، فقالت: يا رسول الله، إني كنتُ أَرْقي برُقًى في الجاهلية، وقد رأيتُ أن أعرِضَها عليك، فقال:"اعرِضِيها"، فعرضَتْها عليه، وكانت فيها رُقْيةُ النَّمْلة، فقال:"ارقِي بها، وعلِّميها حفصةَ"؛ باسم الله صَلَوَا صُلب جبر، تعوُّذًا (1) من أفواهِها، ولا تضرُّ أحدًا، اللهمَّ اكشفِ البأسَ ربَّ الناس، قالت: تَرقِي بها على عُودِ كُركُم سبعَ مرَّات، وتضعُه مكانًا نظيفًا، ثم تَدلُكُه على حَجَر (1) ، وتَطلِيه على النَّملة (2) (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6890 - سئل ابن معين عن عثمان فلم يعرفه
عثمان بن سلیمان اپنے والد کے حوالے سے ان کی والدہ سیدنا شفاء بنت عبداللہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ وہ زمانہ جاہلیت میں دم کیا کرتی تھی، جب وہ ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئیں تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں زمانہ جاہلیت میں دم کیا کرتی تھی، میں وہ دم آپ کو سنانا چاہتی ہوں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت عطا فرمائی، انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دم سنایا۔ اس میں چیونٹی کے کاٹے کا بھی دم تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دم کر دیا کرو اور یہ حفصہ کو بھی سکھا دو، وہ دم یہ تھا۔ بِسْمِ اللَّهِ صَلُوبٌ حِينَ يَعُودُ مِنْ أَفْوَاهِهَا وَلَا تَضُرُّ أَحَدًا، اللَّهُمَّ اكْشِفِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ اللہ کے نام سے شروع وہ سختی والا ہے، جب وہ مونہوں سے لوٹے، اور کسی کو نقصان نہ دے، اے اللہ، اے انسانوں کے رب، تکلیف دور فرما دے ۔ راوی کہتے ہیں: یہ دعا سات مرتبہ پڑھ کر انگور کی ٹہنی پر دم کرتی، پھر اس کو ایک پاک صاف جگہ پر رکھ دیتی، پھر اس کو پتھر پر رگڑتی، اور اس کے اوپر قلعی کی لیپ کر دیتی۔ (پھر یہ لکڑی کاٹے کے مقام پر لگاتی تو درد فوراً ختم ہو جاتا۔) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 7064]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7065
أخبرني محمد بن الحسن، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدَّثنا أبو عُبيدٍ قال: قال الأصمعيُّ: النَّمْلة هي قُروحٌ تخرُجُ في الجَنْب وغيره.
اصمعی کہتے ہیں: (مذکورہ دونوں حدیثوں میں جو چیونٹی کا ذکر ہے اس چیونٹی یعنی) نملہ سے مراد وہ کیڑا ہے جو بغلوں وغیرہ میں پیدا ہو جاتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 7065]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں