المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1103. ذِكْرُ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْخَطَّابِ بْنِ نُفَيْلٍ أُخْتِ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا -
سیدہ فاطمہ بنت خطاب رضی اللہ عنہا کا بیان، جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بہن تھیں
حدیث نمبر: 7069
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، حدثني عبد الرحمن بن الحارث بن عبد الله بن عيّاش، عن عبد العزيز بن عبد الله بن عامر بن رَبيعة، عن أبيه، عن أمِّه أمِّ عبد الله بنت أبي حَثْمةَ قالت: والله إنا لَنرحلُ إلى أرض الحَبشة، وقد ذهبَ عامرٌ في بعض حاجتِنا، إذ أقبل عمرُ بن الخطاب حتى وَقَفَ عليَّ وهو على شِركِه، وكنَّا نلقَى منه البلاءَ وشدةً (2) علينا، فقال: إنه لَلانطِلاقُ يا أمَّ عبد الله؟ فقلتُ: نعم، والله لنَحْرُجِنَّ في أرض الله، آذيتُمونا وقهرتُمونا، حتى يجعلَ الله لنا مَخرَجًا، فقال: صَحِبَكم الله، ورأيت له رِقَّةً لم أكن أراها، ثم انصرف وقد أحزنَه فيما أُرى خروجُنا، قال: فجاء عامرٌ من حاجتِه تلك، فقلتُ: يا أبا عبد الله، لو رأيتَ عمر آنفًا ورِقَّتَه وحُزْنَه علينا، قال: فيُطْمَعُ في إسلامه؟ قلتُ: نعم، قال: لا يُسلِمُ الذي رأيتِ حتى يُسلِمَ حِمارُ (1) الخطَّاب، قال يائسًا منه ممّا كان يَرَى من غِلظِته وقَسوتِه على الإسلام (2) . ذكرُ فاطمةَ بنتِ الخطَّاب بن نُفَيل أخت عُمَرَ ﵄
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6895 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6895 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ اپنی والدہ ام عبداللہ بنت ابی حثمہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتی ہیں: اللہ کی قسم! ہم سرزمین حبشہ کی جانب روانہ ہوئے، عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ اپنے کسی کام سے گئے تھے، کہ اسی دوران سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے، آپ میرے پاس کھڑے ہو گئے، آپ اپنے گھوڑے پر ہی تھے، جبکہ ہمیں ان کی جانب سے بہت سختیوں اور تکالیف کا سامنا تھا، آپ فرمانے لگے: اے ام عبداللہ! اب تو آزاد ہو رہی ہو، میں نے کہا: جی ہاں اللہ کی قسم! ہم اللہ کی زمین میں نکل جائیں گے، تم نے ہمیں بہت تکالیف دی ہیں اور ہم پر ظلم و ستم کے بہت پہاڑ توڑے ہیں، بالآخر اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے نکلنے کا راستہ بنا ہی دیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہارا ساتھ دیا ہے، میں نے اس دن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو رقت کی جس کیفیت میں دیکھا اس سے پہلے کبھی آپ پر ایسی کیفیت نہیں دیکھی۔ پھر آپ چلے گئے اور ہمارے جانے پر آپ بہت غمگین تھے، راوی کہتے ہیں: پھر سیدنا عامر بن ربیعہ اپنا کام کر کے واپس آ گئے، میں نے کہا: اے ابوعبداللہ! کاش تم آج عمر کی حالت دیکھتے اور ہمارے جانے پر اس کی رقت والی کیفیت دیکھتے، عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم اس کے اسلام قبول کرنے کی لالچ رکھتی ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے (عمر کے اسلام سے مایوس ہو کر) کہا: تم جس شخص کو مسلمان دیکھنا چاہتی ہو، وہ اس وقت تک اسلام نہیں لائے گا جب تک خطاب کے اونٹ اسلام نہیں لے آئیں گے۔ (یہ باتیں انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام سے مایوس ہو کر کہی تھیں کیونکہ وہ اسلام کے بارے میں سیدنا عمر کی شدت اور سختی کو دیکھ چکے تھے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 7069]