المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1104. اسْتِقَامَةُ فَاطِمَةَ عَلَى الْإِسْلَامِ
سیدہ فاطمہ بنت خطاب رضی اللہ عنہا کا اسلام پر ثابت قدم رہنا
حدیث نمبر: 7070
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدَّثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدَّثنا مصعب بن عبد الله الزُّبَيري قال: ومنهنَّ فاطمةُ بنت الخطاب بن نُفيل امرأةُ سعيد بن زيد بن عمرو بن نُفيل، وكانت قد أسلمت قبل عمر، وكانت من أولِ المبايعات بمكة.
مصعب بن عبداللہ زبیری فرماتے ہیں: ان میں سے فاطمہ بنت خطاب بن نفیل رضی اللہ عنہا بھی ہیں۔ آپ سعید بن زید بن عمرو بن نفیل کی زوجہ محترمہ ہیں۔ آپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پہلے اسلام لے آئی تھیں۔ مکہ مکرمہ میں بیعت کرنے والی خواتین میں سب سے پہلی یہی خاتون ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 7070]
حدیث نمبر: 7071
حدَّثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدَّثنا أبو عمرو أحمد بن المبارك المُستملي، حدَّثنا علي بن خَشْرَم، حدَّثنا إسحاق بن يوسف، عن القاسم بن عثمان أبي العلاء البصري، عن أنس بن مالك: أنَّ رجلًا من بني زُهْرة لقي عمر قبلَ أن يسلمَ وهو متقلِّد بالسَّيف، فقال: إلى أين تَعمِدُ؟ قال: أريدُ أن أقتلَ محمدًا، قال: أفلا أدلُّك (1) على العَجَبِ يا عمرُ؟! إِنَّ خَتَنَك سعيدًا وأختَكَ قد صَبَوَا وتركا دينَهما الذي هما عليه، قال: فمشَى عمر إليهم ذامِرًا، حتى إذا دنا من الباب، قال: وكان عندَهما رجلٌ يُقال له: خبَّاب، يُقرئهما سورة (طه) ، فلما سَمِعَ حَبَّابٌ بحِسٌ عمر دخلَ تحتَ سريرٍ لهما، فدخلَ عمرُ، فقال: ما هذه الهَيْنمةُ التي رأيتُها عندكم؟ قالا: ما عدا حديثًا تحدَّثناه بينَنا، قال: لعلكما صَبوتُما وتركتُما دينَكما الذي أنتما عليه، فقال له خَتَنُه سعيدُ بن زيد: يا عمرُ، أرأيتَ إن كان الحقُّ في غير دينِك؟! فأقبلَ على خَتَنِه فَوَطِئَه وطئًا شديدًا، قال: فدفعَتْه أختُه عن زوجِها، فضربَ وجهَها فأدمَى وجهَها، قالت: أرأيتَ إن كان الحقُّ في غير دينك؟! أشهدُ أن لا إله إلَّا الله، وأشهدُ أنَّ محمدًا رسولُ الله، قال: فسكتَ، فقالت أختُه: قُمْ فاغتسِلْ أو توضأ (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6897 - قد سقط منه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6897 - قد سقط منه
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بنی زہرہ کا ایک آدمی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام سے پہلے ان سے ملا، سیدنا عمر تلوار لٹکائے جا رہے تھے، اس نے پوچھا: کہاں جا رہے ہو؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: محمد کو قتل کرنے جا رہا ہوں، اس نے کہا: اے عمر! کیا میں تمہیں اس سے بھی زیادہ عجیب بات نہ بتاؤں؟ تمہارا بہنوئی سعید اور تمہاری بہن اپنے آباء کے دین کو چھوڑ کر صابی ہو چکے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسی وقت غصے کے عالم میں چلتے ہوئے بہن کے گھر آئے، جب وہ ان کے دروازے کے قریب پہنچے، ان لوگوں کے پاس خباب نامی ایک شخص ہوتا تھا، وہ ان دونوں کو سورۃ طہ کی تعلیم دے رہا تھا، جب خباب رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قدموں کی آہٹ سنی، تو ان کی چارپائی کے نیچے چھپ گئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اندر آئے اور کہنے لگے: یہ جو تم آہستہ آواز میں پڑھ رہے تھے جو ابھی میں نے تمہارے پاس دیکھا، یہ کیا ہے؟ ان کے بہنوئی سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عمر! تمہارا کیا خیال ہے، اگر حق تیرے دین کے علاوہ کسی دوسرے دین میں ہو، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا زید کو مارنا شروع کر دیا، سیدنا عمر کی بہن نے اپنے شوہر کا دفاع کرتے ہوئے سیدنا عمر کا ہاتھ پکڑنا چاہا تو سیدنا عمر نے ان کے چہرے پر تھپڑ رسید کر دیا، ان کے چہرے پر تھپڑ کا نشان چھپ گیا، ان کی بہن نے جلال میں آ کر کہا: اے عمر! اگر سچائی تمہارے دین کے خلاف میں ہو تو تمہارا کیا خیال ہے؟ میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور میں گواہی دیتی ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ (سیدنا انس رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں: جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مایوس ہو گئے تو فرمایا: تم وہ تحریر مجھے دو جو تمہارے پاس ہے، میں اس کو پڑھنا چاہتا ہوں، ان کی بہن نے کہا: تم پلید ہو، اور اس تحریر کو صرف پاک شخص چھو سکتا ہے، اٹھو غسل کرو یا (کم از کم) وضو کر لو، (اس کے بعد مفصل حدیث بیان کی) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 7071]