🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1104. استقامة فاطمة على الإسلام
سیدہ فاطمہ بنت خطاب رضی اللہ عنہا کا اسلام پر ثابت قدم رہنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7071
حدَّثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدَّثنا أبو عمرو أحمد بن المبارك المُستملي، حدَّثنا علي بن خَشْرَم، حدَّثنا إسحاق بن يوسف، عن القاسم بن عثمان أبي العلاء البصري، عن أنس بن مالك: أنَّ رجلًا من بني زُهْرة لقي عمر قبلَ أن يسلمَ وهو متقلِّد بالسَّيف، فقال: إلى أين تَعمِدُ؟ قال: أريدُ أن أقتلَ محمدًا، قال: أفلا أدلُّك (1) على العَجَبِ يا عمرُ؟! إِنَّ خَتَنَك سعيدًا وأختَكَ قد صَبَوَا وتركا دينَهما الذي هما عليه، قال: فمشَى عمر إليهم ذامِرًا، حتى إذا دنا من الباب، قال: وكان عندَهما رجلٌ يُقال له: خبَّاب، يُقرئهما سورة (طه) ، فلما سَمِعَ حَبَّابٌ بحِسٌ عمر دخلَ تحتَ سريرٍ لهما، فدخلَ عمرُ، فقال: ما هذه الهَيْنمةُ التي رأيتُها عندكم؟ قالا: ما عدا حديثًا تحدَّثناه بينَنا، قال: لعلكما صَبوتُما وتركتُما دينَكما الذي أنتما عليه، فقال له خَتَنُه سعيدُ بن زيد: يا عمرُ، أرأيتَ إن كان الحقُّ في غير دينِك؟! فأقبلَ على خَتَنِه فَوَطِئَه وطئًا شديدًا، قال: فدفعَتْه أختُه عن زوجِها، فضربَ وجهَها فأدمَى وجهَها، قالت: أرأيتَ إن كان الحقُّ في غير دينك؟! أشهدُ أن لا إله إلَّا الله، وأشهدُ أنَّ محمدًا رسولُ الله، قال: فسكتَ، فقالت أختُه: قُمْ فاغتسِلْ أو توضأ (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6897 - قد سقط منه
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بنی زہرہ کا ایک آدمی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام سے پہلے ان سے ملا، سیدنا عمر تلوار لٹکائے جا رہے تھے، اس نے پوچھا: کہاں جا رہے ہو؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: محمد کو قتل کرنے جا رہا ہوں، اس نے کہا: اے عمر! کیا میں تمہیں اس سے بھی زیادہ عجیب بات نہ بتاؤں؟ تمہارا بہنوئی سعید اور تمہاری بہن اپنے آباء کے دین کو چھوڑ کر صابی ہو چکے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسی وقت غصے کے عالم میں چلتے ہوئے بہن کے گھر آئے، جب وہ ان کے دروازے کے قریب پہنچے، ان لوگوں کے پاس خباب نامی ایک شخص ہوتا تھا، وہ ان دونوں کو سورۃ طہ کی تعلیم دے رہا تھا، جب خباب رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قدموں کی آہٹ سنی، تو ان کی چارپائی کے نیچے چھپ گئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اندر آئے اور کہنے لگے: یہ جو تم آہستہ آواز میں پڑھ رہے تھے جو ابھی میں نے تمہارے پاس دیکھا، یہ کیا ہے؟ ان کے بہنوئی سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عمر! تمہارا کیا خیال ہے، اگر حق تیرے دین کے علاوہ کسی دوسرے دین میں ہو، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا زید کو مارنا شروع کر دیا، سیدنا عمر کی بہن نے اپنے شوہر کا دفاع کرتے ہوئے سیدنا عمر کا ہاتھ پکڑنا چاہا تو سیدنا عمر نے ان کے چہرے پر تھپڑ رسید کر دیا، ان کے چہرے پر تھپڑ کا نشان چھپ گیا، ان کی بہن نے جلال میں آ کر کہا: اے عمر! اگر سچائی تمہارے دین کے خلاف میں ہو تو تمہارا کیا خیال ہے؟ میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور میں گواہی دیتی ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ (سیدنا انس رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں: جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مایوس ہو گئے تو فرمایا: تم وہ تحریر مجھے دو جو تمہارے پاس ہے، میں اس کو پڑھنا چاہتا ہوں، ان کی بہن نے کہا: تم پلید ہو، اور اس تحریر کو صرف پاک شخص چھو سکتا ہے، اٹھو غسل کرو یا (کم از کم) وضو کر لو، (اس کے بعد مفصل حدیث بیان کی) [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 7071]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7071 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: أراك، والتصويب من مصادر التخريج.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (1) قلمی نسخوں میں یہ تحریف ہو کر "أراك" ہو گیا ہے، درستگی تخریج کے مصادر سے کی گئی ہے۔
(2) إسناده ضعيف، القاسم بن عثمان قال البخاري: له أحاديث لا يتابع عليها، وقال الدارقطني عقب حديثه هذا في "السنن": ليس بقوي، وقال العقيلي في "الضعفاء" 3/ 383: لا يتابع على حديثه، حدَّث عنه إسحاقُ الأزرق أحاديث لا يتابع عليها، وأورده ابن حبان في "ثقاته" وقال: ربما أخطأ.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند ضعیف ہے۔ قاسم بن عثمان کے بارے میں بخاری نے فرمایا: ان کی کچھ ایسی احادیث ہیں جن پر ان کی متابعت نہیں کی جاتی۔ دارقطنی نے "السنن" میں ان کی اس حدیث کے بعد فرمایا: یہ قوی نہیں ہیں۔ عقیلی نے "الضعفاء" 3/ 383 میں فرمایا: ان کی حدیث پر متابعت نہیں کی جاتی، ان سے اسحاق الازرق نے ایسی احادیث بیان کی ہیں جن پر ان کی متابعت نہیں کی جاتی۔ ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں ذکر کیا اور فرمایا: یہ کبھی کبھار غلطی کرتے ہیں۔
وأخرجه مطولًا ومختصرًا ابن سعد في "الطبقات الكبرى" 3/ 248، وابن شبة في "تاريخ المدينة" 2/ 657 - 659، والطبراني في "الأوسط" (1860)، والدارقطني في "السنن" (441)، والبيهقي في "السنن الكبرى" 1/ 88، وفي "دلائل النبوة" 2/ 219 - 220، والضياء المقدسي في "المختارة" 7/ (2573) من طرق عن إسحاق بن يوسف الأزرق، بهذا الإسناد. وقال الطبراني: لا يروى عن أنس إلَّا بهذا الإسناد، تفرَّد به القاسم.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسے طویلاً اور مختصراً ابن سعد نے "الطبقات الکبریٰ" 3/ 248 میں، ابن شبہ نے "تاریخ المدینہ" 2/ 657-659 میں، طبرانی نے "الاوسط" (1860)، دارقطنی نے "السنن" (441)، بیہقی نے "السنن الکبریٰ" 1/ 88 اور "دلائل النبوۃ" 2/ 219-220 میں، اور ضیاء المقدسی نے "المختارۃ" (2573/7) میں اسحاق بن یوسف الازرق سے مختلف طرق کے ذریعے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: طبرانی نے فرمایا: یہ انس سے صرف اسی سند کے ساتھ روایت کی جاتی ہے، اس میں قاسم منفرد ہیں۔
قوله: "ذامرًا"، أي: متهددًا كما في "النهاية" لابن الأثير (ذمر).
📝 نوٹ / توضیح: قول: "ذَامِرًا" کا مطلب ہے: دھمکی دیتے ہوئے، جیسا کہ ابن اثیر کی "النھایۃ" (مادہ: ذمر) میں ہے۔