🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1107. ذِكْرُ سَهْلَةَ بِنْتِ سُهَيْلٍ امْرَأَةِ أَبِي حُذَيْفَةَ بْنِ عُتْبَةَ
سیدہ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا کا بیان، جو سیدنا ابو حذیفہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ کی زوجہ تھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7074
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان بن الحسن الفقيه ببغداد، حدَّثنا الحسن بن مُكرَم، حدَّثنا يزيد بن هارون، أخبرنا عبد الملك بن قُدَامة بن بن أوْس بن قُدامة بن مَظعون (3) ، حدثني عمر بن شعيب - أخو عمرو بن شعيب بالشام، عن أبيه، عن جدِّه قال: كانت أمُّ نُبيهٍ بنت الحجَّاج أمُّ عبد الله بن عمرو امرأةً تُهدي لرسول الله ﷺ وتُلطِفُه، فأتاها رسول الله ﷺ يومًا زائرًا، فقال:"كيف أنتِ يا أمَّ عبد الله؟" قالت: بخيرٍ بأبي أنتَ وأمِّي يا رسولَ الله، قال:"وكيف عبدُ الله؟" قالت: بخيرٍ بأبي أنت وأمِّي، وعبدُ الله رجلٌ قد تخلَّى من الدُّنيا، قال:"كيف؟" قالت: حرَّمَ النومَ فلا ينامُ ولا يُفطِرُ، وحرَّمَ اللحمَ فلا يَطْعَمُ اللحمَ، ولا يُؤدِّي إلى أهلِه حقَّهم، قال:"أينَ هو؟" قالت: خرجَ آنفًا يُوشِكُ أن يَرجِعَ يا رسولَ الله، فقال رسولُ الله ﷺ:"فإذا جاءَكِ فاحبِسيه عليَّ"، فلم يَلبَثْ عبدُ الله أن جاء، فقال له رسول الله ﷺ:"إِنَّ لنفسِكَ عليكَ حقًّا، وإنَّ لأهلِكَ عليك حقًّا" (1) . ذكرُ سَهْلةَ بنتِ سُهيل امرأة أبي حذيفة بن عُتبة
عمرو بن شعیب اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ام نبیہ بنت حجاج ام عبداللہ بن عمرو ایسی خاتون تھیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں تحائف بھیجا کرتی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بہت اچھا سلوک کرتی تھیں۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس ملاقات کے لئے تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا حال دریافت فرمایا، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں، میں ٹھیک ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: عبداللہ کا کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ بھی ٹھیک ہے، (عبداللہ دنیا سے بالکل الگ تھلگ ہو چکا تھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ اس نے اپنے اوپر نیند کو حرام کیا ہوا ہے، وہ سوتا ہی نہیں ہے، نہ ہی وہ روزے میں ناغہ کرتا ہے، وہ گوشت نہیں کھاتا، اپنے گھر والوں کے حقوق پورے نہیں کرتا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: وہ کہاں ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ابھی ابھی باہر کہیں نکلے ہیں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ واپس آنے ہی والے ہوں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب وہ آ جائے تو اس کو میرے پاس بھیج دینا۔ لیکن ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ عبداللہ بھی آ گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو فرمایا: تیری اپنی جان کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 7074]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں