المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1114. ذِكْرُ أُمِّ أَيْمَنَ مَوْلَاةِ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - وَحَاضِنَتِهِ
سیدہ اُمِّ ایمن رضی اللہ عنہا کا بیان، جو رسول اللہ ﷺ کی آزاد کردہ باندی اور آپ کی پرورش کرنے والی تھیں
حدیث نمبر: 7084
حدَّثنا أبو النَّضر الفقيه بالطَّابَران وأبو يحيى الخَتَنُ الفقيه ببُخارى، قالا: حدَّثنا صالح بن محمد بن حَبيب البغدادي، حدَّثنا سعيدٌ بن سليمان الواسطي، حدثني عبد الرحمن بن عثمان بن إبراهيم بن محمد بن حاطب القرشي، حدثني أبي عثمانُ، عن جدِّي محمد بن حاطب، عن أُمِّه أمِّ جميل قالت: أقبلتُ بك، حتى إذا كنتُ من المدينة بليلةٍ أو ليلتين طبختُ لك طَبيخًا، ففَنِيَ الحَطَبُ، فخرجتُ أطلُبُ الحطَبَ، فتناولتَ القِدرَ فانكفأَت على ذِراعك، فقدمتُ المدينة فأتيتُ بك النبيَّ ﷺ، فقلتُ: يا رسولَ الله، هذا محمدُ بن حاطب، وهو أولُ من سُمّي بكَ، فمَسَحَ على رأسِكَ ودعا بالبَرَكة، ثم تَفَلَ في فيك، وجعلَ يَتفُلُ على يَدِك ويقول:"أذهب البأسَ ربَّ الناس، اشفِ أنت الشافي، لا شِفاءَ إلا شفاؤُك، شفاءً لا يُغَادِرُ سقمًا" (1) . ذكرُ أمِّ أيمنَ مولاةِ رسولِ الله ﷺ وحاضنتِه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6909 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6909 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
محمد بن حاطب اپنی والدہ ام جمیل کا یہ بیان نقل کرتے ہیں (وہ فرماتی ہیں) میں تجھے لے کر ہجرت کے لئے روانہ ہوئی، جب میں مدینہ منورہ سے ایک رات یا دو راتوں کے فاصلے پر تھی، میں تیرے لئے کھانا پکا رہی تھی کہ ایندھن ختم ہو گیا، میں لکڑیاں جمع کرنے کے لئے نکلی تو مجھے ایک ہنڈیا ملی، (میں وہ اپنے ساتھ اپنے خیمے میں لے آئی) وہ ہنڈیا تیری ٹانگ پر گری تھی (جس کی وجہ سے زخم ہو گیا تھا) میں تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لے گئی، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ محمد بن حاطب ہے، یہ پہلا بچہ تھا جس کا یہ نام رکھا گیا تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرے سر پر اپنا دست مبارک پھیرا اور برکت کی دعا فرمائی، پھر تیرے منہ میں اپنا لعاب دہن مبارک ڈالا، اور تیرے ہاتھ پر بھی لعاب دہن مبارک لگایا تھا اور تیرے لئے یہ دعا بھی کی تھی۔ أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا ” اے اللہ، اے انسانوں کے پالنے والے، شفاء عطا فرما، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری شفاء کے علاوہ کوئی شفا نہیں ہے، الہی ایسی شفاء عطا فرما کہ کوئی کمی باقی نہ رہے “ آپ فرماتی ہیں: میں ابھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ سے اٹھی نہیں تھی کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دم کی برکت سے) تیرا بازو ٹھیک ہو گیا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 7084]
حدیث نمبر: 7085
حدَّثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدَّثنا الحسن بن الجَهْم، حدَّثنا الحسين بن الفَرَج، حدَّثنا محمد بن عمر قال: ومِنهنَّ أُمُّ أيمَنَ مولاةُ رسولِ الله ﷺ وحاضنتُه، واسمُها بَرَكةُ، كان رسولُ الله ﷺ وَرِثَها وخمسةَ أجمال وقطعةَ غَنَم مما ذُكِرَ، فأعتقَ رسولُ الله ﷺ أمَّ أيمن حين تزوَّجَ خديجة، فتزوَّجها عبيدُ بن يزيد (1) من بني الحارث بن الخَزرج، فولدت له أيمن (2) ، فقُتل يومَ حُنَين (3) شهيدًا. وكان زيدُ بن حارثة لخديجةَ، فوهبته لرسولِ الله ﷺ، فأعتَقه رسولُ الله ﷺ وزوَّجه أمَّ أيمنَ بعدَ النُّبوة، فولدت له أسامةَ بن زيد.
محمد بن عمر کہتے ہیں: اور ام ایمن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باندی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حاضنہ (بچے کی پرورش کرنے والی دایہ) ان کا نام ” برکت “ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پانچ اونٹ اور بکریوں کا ایک ریوڑ عطا فرمایا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کیا تو ان کو آزاد کر دیا تھا، ام ایمن نے عبید بن یزید (جن کا تعلق بنی حارث بن خزرج کے ساتھ تھا) کے ساتھ نکاح کیا، ان کے ہاں ایک لڑکی ایمن پیدا ہوئی، جنگ خیبر میں عبید بن یزید شہید ہو گئے، سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سیدہ خدیجہ کے غلام تھے، انہوں نے یہ غلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفے میں دے دیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آزاد کر کے ام ایمن کے ساتھ ان کا نکاح کر دیا۔ (ام ایمن کے ساتھ نکاح کا یہ واقعہ اعلان نبوت سے پہلے کا ہے) ام ایمن کے ہاں اس نکاح سے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 7085]