المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1114. ذكر أم أيمن مولاة رسول الله - صلى الله عليه وآله وسلم - وحاضنته
سیدہ اُمِّ ایمن رضی اللہ عنہا کا بیان، جو رسول اللہ ﷺ کی آزاد کردہ باندی اور آپ کی پرورش کرنے والی تھیں
حدیث نمبر: 7085
حدَّثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدَّثنا الحسن بن الجَهْم، حدَّثنا الحسين بن الفَرَج، حدَّثنا محمد بن عمر قال: ومِنهنَّ أُمُّ أيمَنَ مولاةُ رسولِ الله ﷺ وحاضنتُه، واسمُها بَرَكةُ، كان رسولُ الله ﷺ وَرِثَها وخمسةَ أجمال وقطعةَ غَنَم مما ذُكِرَ، فأعتقَ رسولُ الله ﷺ أمَّ أيمن حين تزوَّجَ خديجة، فتزوَّجها عبيدُ بن يزيد (1) من بني الحارث بن الخَزرج، فولدت له أيمن (2) ، فقُتل يومَ حُنَين (3) شهيدًا. وكان زيدُ بن حارثة لخديجةَ، فوهبته لرسولِ الله ﷺ، فأعتَقه رسولُ الله ﷺ وزوَّجه أمَّ أيمنَ بعدَ النُّبوة، فولدت له أسامةَ بن زيد.
محمد بن عمر کہتے ہیں: اور ام ایمن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باندی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حاضنہ (بچے کی پرورش کرنے والی دایہ) ان کا نام ” برکت “ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پانچ اونٹ اور بکریوں کا ایک ریوڑ عطا فرمایا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کیا تو ان کو آزاد کر دیا تھا، ام ایمن نے عبید بن یزید (جن کا تعلق بنی حارث بن خزرج کے ساتھ تھا) کے ساتھ نکاح کیا، ان کے ہاں ایک لڑکی ایمن پیدا ہوئی، جنگ خیبر میں عبید بن یزید شہید ہو گئے، سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سیدہ خدیجہ کے غلام تھے، انہوں نے یہ غلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفے میں دے دیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آزاد کر کے ام ایمن کے ساتھ ان کا نکاح کر دیا۔ (ام ایمن کے ساتھ نکاح کا یہ واقعہ اعلان نبوت سے پہلے کا ہے) ام ایمن کے ہاں اس نکاح سے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 7085]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7085 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) كذا في النسخ الخطية: ابن يزيد، وفي "الطبقات" لابن سعد 5/ 368، و "الإصابة" لابن حجر: ابن زيد، وفي "معجم الصحابة" لابن قانع 1/ 54، و "معرفة الصحابة" لأبي نعيم 1/ 318: ابن عمرو.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام "ابن یزید" لکھا ہے، جبکہ ابن سعد کی "الطبقات" 5/ 368 اور ابن حجر کی "الاصابہ" میں یہ "ابن زید" ہے؛ ابن قانع کی "معجم الصحابہ" 1/ 54 اور ابو نعیم کی "معرفۃ الصحابہ" 1/ 318 میں یہ "ابن عمرو" مذکور ہے۔
(2) في النسخ: أم أيمن، وهو خطأ.
📝 نوٹ / توضیح: نسخوں میں یہاں "ام ایمن" لکھا ہے، جو کہ غلطی ہے۔
(3) تحرَّف في (ز) و (ب) خيبر، وضبب عليها في (ز)، وترك مكانها بياضًا في (م) و (ص)، والمحفوظ - كما في السير والتراجم - أنَّ أيمنَ استُشهد يوم حُنين.
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ز) اور (ب) میں تحریف کی وجہ سے اسے "خیبر" لکھ دیا گیا اور نسخہ (ز) میں اس پر نشان (ضبب) لگایا گیا ہے، جبکہ نسخہ (م) اور (ص) میں اس جگہ کو خالی چھوڑ دیا گیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: کتبِ سیر و تراجم میں محفوظ اور درست بات یہ ہے کہ حضرت ایمن رضی اللہ عنہ غزوہ حنین کے دن شہید ہوئے تھے۔