🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

21. باب مَا يُفْطَرُ عَلَيْهِ
باب: افطار کس چیز سے کیا جائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2355
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ الرَّبَابِ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ عَمِّهَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ صَائِمًا فَلْيُفْطِرْ عَلَى التَّمْرِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدِ التَّمْرَ فَعَلَى الْمَاءِ فَإِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ".
سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو اسے کھجور ۱؎ سے روزہ افطار کرنا چاہیئے اگر کھجور نہ پائے تو پانی سے کر لے اس لیے کہ وہ پاکیزہ چیز ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2355]
سیدنا سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ (یہ رباب کے چچا ہیں) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی نے روزہ رکھا ہو تو چاہیے کہ کھجور سے افطار کرے۔ اگر کھجور نہ پائے تو پانی سے افطار کرے، بلاشبہ پانی پاک کرنے والا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2355]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الزکاة 26 (658)، الصوم 10 (695)، سنن ابن ماجہ/الصیام 25 (1699)، (تحفة الأشراف: 4486)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/18، 214)، سنن الدارمی/الصوم 12 (1743) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (کیونکہ رباب لین الحدیث ہیں) اس حدیث کی تصحیح ترمذی، ابن خزیمة، ابن حبان نے کی ہے، البانی نے پہلے اس کی تصحیح کی تھی، بعد میں اسے ضعیف الجامع الصغیر میں رکھ دیا (369) تراجع الالبانی (132)۔
وضاحت: ۱؎: اس سے نگاہ کو طاقت ملتی ہے اور روزے سے پیدا ہونے والی نقاہت دور ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1990)
أخرجه ابن ماجه (1699 وسنده حسن) وصححه ابن خزيمة (2067 وسنده حسن) الرباب بنت صليع ثقة وثقھا الترمذي وابن حبان والحاكم وأخطأ من جھلھا وضعّف الحديث

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2356
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْطِرُ عَلَى رُطَبَاتٍ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ رُطَبَاتٌ فَعَلَى تَمَرَاتٍ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ حَسَا حَسَوَاتٍ مِنْ مَاءٍ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز (مغرب) پڑھنے سے پہلے چند تازہ کھجوروں سے روزہ افطار کرتے تھے، اگر تازہ کھجوریں نہ ملتیں تو خشک کھجوروں سے افطار کر لیتے اور اگر خشک کھجوریں بھی نہ مل پاتیں تو چند گھونٹ پانی نوش فرما لیتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2356]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے پہلے تازہ کھجوروں سے روزہ افطار فرماتے، اگر تازہ کھجوریں نہ ہوتیں، تو خشک کھجور تناول فرما لیتے، یہ بھی نہ ہوتیں، تو پانی کے چند گھونٹ پی لیا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2356]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصوم 10 (696)، (تحفة الأشراف: 265) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1991)
أخرجه الترمذي (696 وسنده حسن) وصححه الدارقطني (2/85) والحاكم (1/432) ووافقه الذهبي

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں