المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
20. ذِكْرُ قِصَّةِ سُرَقَ
سارق (چوری) کے قصے کا تذکرہ
حدیث نمبر: 7239
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن أحمد بن عَتّاب العَبْدي ببغداد، حدثنا عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار، عن زيد بن أسلم، عن عبد الرحمن بن البَيْلماني (1) ، قال: رأيتُ شيخًا بالإسكندرية يقال له: سُرَّقٌ، فأتيتُه وسألتُه، فقال: لي: سمَّاني رسولُ الله ﷺ، ولم أكن لأدعَ ذلك أبدًا، فقلتُ: لم سمَّاك؟ قال: قَدِمَ رجلٌ من أهل البادية ببعيريَنِ فابتعتُهما منه، ثم دخلتُ بيتي وخرجتُ من خلفٍ، فبعتُهما فقَضيتُ بهما حاجتي، وغبتُ حتى ظننتُ أنَّ الأعرابي (2) قد خرج، فإذا الأعرابي مقيمٌ، فأخذَني فذهبَ بي إلى رسول الله ﷺ وأخبَره الخَبَر، فقال:"ما حَمَلَك على ما صنعتَ؟" قلتُ: قضيتُ بهما حاجتي يا رسولَ الله، قال:"اقضِهِ"، قلت: ليس عندي، قال:"أنتَ سُرَّقٌ، اذهب يا أعرابيُّ فبِعْه (3) حتى تستوفيَ حَقَّك"، قال: فجعل الناسُ يَسُومونَه فيَّ ويلتفتُ إليهم فيقول: ماذا تريدون؟ فيقولون: نريد أن نَفْدِيَه منك، فقال: والله إنِّي منكم أحقُّ وأحوجُ إلى الله ﷿، اذهب فقد أعتقتُك (4) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
عبد الرحمن بن بیلمانی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے اسکندریہ میں ایک بزرگ کو دیکھا جنہیں «سرق» (چور) کہا جاتا تھا، میں ان کے پاس گیا اور ان سے اس متعلق سوال کیا، تو انہوں نے مجھے بتایا: میرا یہ نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھا تھا اور میں اسے کبھی نہیں چھوڑوں گا، میں نے پوچھا: آپ کا یہ نام کیوں رکھا؟ انہوں نے کہا: صحرا کا ایک دیہاتی دو اونٹ لے کر آیا، میں نے وہ اس سے خرید لیے، پھر میں اپنے گھر میں داخل ہوا اور پیچھے کے راستے سے نکل گیا، میں نے وہ اونٹ آگے بیچ کر اپنی ضرورت پوری کر لی اور غائب ہو گیا یہاں تک کہ میرا گمان تھا کہ وہ اعرابی (دیہاتی) اب چلا گیا ہوگا، لیکن وہ وہیں مقیم تھا، اس نے مجھے پکڑ لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لے گیا اور سارا واقعہ گوش گزار کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں اس کام پر کس چیز نے ابھارا جو تم نے کیا؟“ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نے ان کے ذریعے اپنی ضرورت پوری کر لی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا حق ادا کرو“، میں نے عرض کی: میرے پاس اس وقت کچھ نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم تو «سرق» ہو، اے اعرابی! جاؤ اور اسے (بطور غلام) بیچ دو یہاں تک کہ تم اپنا پورا حق وصول کر لو“، وہ کہتے ہیں کہ لوگ میرے بارے میں اس اعرابی سے بولی لگانے لگے اور وہ ان کی طرف دیکھ کر کہتا: تم کیا چاہتے ہو؟ وہ کہتے: ہم چاہتے ہیں کہ فدیہ دے کر اسے تم سے چھڑا لیں، تو اس اعرابی نے کہا: اللہ کی قسم! میں تم سب سے زیادہ اس بات کا حقدار اور اللہ عزوجل (کی بخشش) کا محتاج ہوں، (اے شخص!) جاؤ میں نے تمہیں اللہ کے لیے آزاد کر دیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَحْكَامِ/حدیث: 7239]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَحْكَامِ/حدیث: 7239]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف وقد سلف الكلام عليه عند الحديث (2361).» [ترقيم الرساله 7239] [ترقيم الشركة 7157]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف