🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

21. حَبْسُ الرَّجُلِ فِي التُّهْمَةِ احْتِيَاطًا
احتیاط کے طور پر ملزم کو تہمت کی بنیاد پر قید کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7239
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن أحمد بن عَتّاب العَبْدي ببغداد، حدثنا عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار، عن زيد بن أسلم، عن عبد الرحمن بن البَيْلماني (1) ، قال: رأيتُ شيخًا بالإسكندرية يقال له: سُرَّقٌ، فأتيتُه وسألتُه، فقال: لي: سمَّاني رسولُ الله ﷺ، ولم أكن لأدعَ ذلك أبدًا، فقلتُ: لم سمَّاك؟ قال: قَدِمَ رجلٌ من أهل البادية ببعيريَنِ فابتعتُهما منه، ثم دخلتُ بيتي وخرجتُ من خلفٍ، فبعتُهما فقَضيتُ بهما حاجتي، وغبتُ حتى ظننتُ أنَّ الأعرابي (2) قد خرج، فإذا الأعرابي مقيمٌ، فأخذَني فذهبَ بي إلى رسول الله ﷺ وأخبَره الخَبَر، فقال:"ما حَمَلَك على ما صنعتَ؟" قلتُ: قضيتُ بهما حاجتي يا رسولَ الله، قال:"اقضِهِ"، قلت: ليس عندي، قال:"أنتَ سُرَّقٌ، اذهب يا أعرابيُّ فبِعْه (3) حتى تستوفيَ حَقَّك"، قال: فجعل الناسُ يَسُومونَه فيَّ ويلتفتُ إليهم فيقول: ماذا تريدون؟ فيقولون: نريد أن نَفْدِيَه منك، فقال: والله إنِّي منكم أحقُّ وأحوجُ إلى الله ﷿، اذهب فقد أعتقتُك (4) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
عبدالرحمن بن بیلمانی فرماتے ہیں: میں نے اسکندریہ میں ایک بزرگ کو دیکھا لوگ اس کو سرق کے نام سے پکارتے تھے، میں اس کے پاس آیا اور اس کے اس نام کی وجہ پوچھی، اس نے بتایا کہ میرا یہ نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھا ہے، اور میں یہ نام کبھی بھی نہیں چھوڑوں گا۔ میں نے پوچھا: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارا یہ نام کیوں رکھا؟ اس نے کہا: ایک دیہاتی شخص دو اونٹ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں نے اس سے دونوں اونٹ خرید لئے، پھر میں اپنے گھر داخل ہوا، اور گھر کی پچھلی جانب سے نکل گیا اور جا کر وہ اونٹ بیچ ڈالے، اس کی رقم سے میں نے اپنی ضرورت پوری کی، اور غائب ہو گیا، جب مجھے یہ غالب گمان ہوا کہ اب وہ عراقی شخص چلا گیا ہو گا، (تو میں آ گیا) لیکن عراقی ابھی وہیں تھا۔ اس نے مجھے پکڑ لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لے گیا اور سارا قصہ سنایا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے وجہ پوچھی، میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے اس رقم کے ساتھ اپنی ضرورت پوری کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو اس کی رقم ادا کرو، میں نے کہا: میرے پاس تو کچھ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سرق ہو، اے عراقی تم اس کو لے جاؤ، اس کو بیچ کر اپنا حق وصول کر لو، لوگ میرا بھاؤ لگانے لگ گئے اور وہ لوگوں کی طرف متوجہ ہو گیا، اور کہنے لگا: تم کیا چاہتے ہو؟ لوگوں نے کہا: ہم تجھے اس کی طرف سے فدیہ دینا چاہتے ہیں، اس نے کہا: اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں، تم سے زیادہ میں اس چیز کا حاجت مند ہوں۔ جا میں نے تجھے آزاد کر دیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَحْكَامِ/حدیث: 7239]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7240
أخبرنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن حاتم الزاهد وأبو عبد الله محمد ابن علي الصنعاني بمكة، قالا: حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن بَهْز بن حَكيم، عن أبيه، عن جدِّه: أنَّ النبيَّ ﷺ حَبَسَ رجلًا في تُهْمة (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7063 - صحيح
بہز بن حکیم اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو تہمت لگنے کی بناء پر قید کروا دیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَحْكَامِ/حدیث: 7240]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7241
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن أيوب، أخبرنا عمار بن هارون. وأخبرني عبد الله بن محمد بن زياد العَدْل، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا إبراهيم بن خُثَيم، حدثني أبي، عن جدِّي عِرَاك بن مالك (2) ، عن أبي هريرة: أنَّ النبي ﷺ حَبَسَ رجلًا في تُهمةٍ يومًا وليلةً، استظهارًا واحتياطًا (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7064 - إبراهيم بن خثيم متروك
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو تہمت لگنے کی وجہ سے ایک دن اور ایک رات کے لئے احتیاطاً قید کروایا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَحْكَامِ/حدیث: 7241]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں