المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
8. رَغْبَتُهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - إِلَى اللَّحْمِ
نبی کریم ﷺ کی گوشت کی طرف رغبت و پسندیدگی
حدیث نمبر: 7271
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا يحيى بن سُليم المكي، حدثنا إسماعيل بن كثير، عن عاصم بن لَقِيط بن صَبِرة، عن أبيه، قال: كنتُ وافدَ بني المُنتِفق إلى رسول الله ﷺ، فقدِمْنا على رسول الله ﷺ فلم نصادِفْه في منزله وصادفنا عائشةَ أمَّ المؤمنين، فأمرت لنا بخَزِيرة فصُنعت لنا، وأتتنا بقِناع - والقِناعُ الطَّبَقُ فيه تمرٌ - ثم جاء رسولُ الله ﷺ فقال:"هل أصبتُم شيئًا، أو أُمِرَ لكم بشيء؟" فقلنا: نعم يا رسولَ الله. قال: فبينما نحن معَ رسولِ الله ﷺ جلوسٌ، قال: فرفع الراعي غنمَه إلى المُرَاح ومعه سَخْلةٌ تَيْعرُ، فقال رسول الله ﷺ:"ما وَلَّدْتَ يا فلانُ؟" قال: بَهْمةً، قال:"فاذبَحْ لنا مكانَها شاةً" ثم مالَ (1) عليَّ فقال:"لا تَحْسِبَنَّ - ولم يقل: لا تَحْسَبَنَّ - أنَّا من أجلِكم ذبحناها، لنا غَنَمٌ مئةٌ، ولا نريدُ أن تزيدَ، فإذا ولَّد الراعي بَهْمةً ذبَحْنا مكانَها شاةً". قال: قلتُ: يا رسولَ الله، إنَّ لي امرأَةً؛ [فذَكَرَ من طُول لسانِها وبَذَائِها، فقال:"طَلِّقها" فقلت] (2) : إنَّ لي منها ولدًا، قال:"فمُرْها - يقول: عِظُها - فإِنْ يَكُ فيها خيرٌ، فستفعلُ، ولا تَضرِبْ ظَعِينتَك كضربِك أَمَتَك". قال: قلتُ: يا رسولَ الله، أخبِرْني عن الوضوء، قال:"أَسبِغِ الوضوءَ، وخلِّلِ الأصابعَ، وبالغ في الاستنشاقِ إلَّا أن تكون صائمًا" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7094 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7094 - صحيح
لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں بنی منتفق کے وفد کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں گھر میں نہ ملے، البتہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا موجود تھیں، آپ نے ہمارے لئے حریرہ (دودھ گھی اور آٹے سے بنا ہوا کھانا) بنوایا، اور کھجوروں والے تھال میں ڈال کر ہمیں عطا کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے پوچھا: تمہیں (کھانے کے لئے) کوئی چیز مل گئی ہے یا میں تمہارے لئے کچھ تیار کرواؤں؟ ہم نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں مل گیا ہے۔ (لقیط بن صبرہ) فرماتے ہیں: ہم لوگ ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک چرواہا اپنی بکریوں کو غلہ کی جانب لے جا رہا تھا، اس کے پاس ایک بکری کا بچہ بھی تھا جو کہ ادھر ادھر اچھل رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے فلاں، اس نے کیا جنا؟ اس نے کہا: بچہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ہمارے لئے اس کی بجائے کوئی بکری ذبح کر لو، پھر وہ شخص ہمارے پاس آیا اور اس نے کہا: لا تحسبن۔ (اس نے ” لا یحسبن “ نہیں کہا) یہ نہ سمجھنا کہ میں نے خاص طور پر یہ آپ کے لئے ذبح کی ہے۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ہمارے پاس 100 بکریاں ہیں اور ہم اس سے بڑھانا نہیں چاہتے۔ (اس لئے جو زائد ہے وہ میں نے ذبح کر کے آپ کو پیش کر دی ہے) چرواہا بھیڑ کے بچے کو پالنے کے لئے لے گیا، اور ہم نے اس کی بجائے بکری ذبح کر لی۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، میری ایک بیوی ہے، پھر اس کی زبان درازی، اور بدخلقی کا ذکر کیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو طلاق دے دے۔ میں نے کہا: اس سے میری اولاد بھی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو کہو: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اس کو نصیحت کرو، اگر اس میں کوئی بھلائی ہوئی تو وہ سدھر جائے گی اور تم اپنی بیوی کو لونڈی کی طرح مت مارا کرو۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ مجھے وضو کے بارے میں کچھ بتایئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو اچھے طریقے سے کرو، انگلیوں کے درمیان خلال کرو، ناک جھاڑنے میں مبالغہ کرو، سوائے اس کے کہ تم روزے سے ہو (یعنی اگر روزہ رکھا ہوا ہو تو ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ نہ کرو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7271]
حدیث نمبر: 7272
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا أسد بن موسى، حدثنا أبو هلال محمد بن سُليم، حدثنا إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة، عن جابر قال: جعَلْنا للنبيِّ ﷺ فَخّارةً، فأتيتُه بها، فاطَّلع في جوفها فقال:"حَسِبتُه لحمًا" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد إن كان إسحاق بن أبي طلحة سمع من جابر، ولم يخرجاه. وفيه البيانُ الواضح لمحبَّة رسولِ الله ﷺ اللحمَ. وشاهدُه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7095 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد إن كان إسحاق بن أبي طلحة سمع من جابر، ولم يخرجاه. وفيه البيانُ الواضح لمحبَّة رسولِ الله ﷺ اللحمَ. وشاهدُه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7095 - صحيح
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مٹی کی ہنڈیا میں کھانا بنایا، پھر میں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے درمیان جھانک کر دیکھا، پھر فرمایا: اس گوشت کے لئے میں کافی ہوں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ (لیکن یہ حکم اس صورت میں ہے کہ) اگر اسحاق بن ابی طلحہ کا جابر سے سماع ثابت ہو جائے۔ اور اس میں واضح بیان موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گوشت پسند کرتے تھے۔ اس کی شاہد حدیث درج ذیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7272]