المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
10. قَبُولُ النَّبِيِّ عَجُزَ أَرْنَبٍ مَشْوِيٍّ
نبی کریم ﷺ کا بھنے ہوئے خرگوش کی ران قبول فرمانا
حدیث نمبر: 7276
أخبرني أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا أبو عبد الرحمن أحمد بن شعيب النَّسائي (3) وعبد الله بن محمد بن ناجيَة، قالا: حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن حبيب بن الشَّهيد، حدثنا أبي [عن أبيه] (4) عن عمرو بن دينار، عن جابر بن عبد الله بن عمرو بن حَرَام، قال: أمر أبي بخَزيرة، فصُنعت، ثم أمرني فحملتُها إلى رسول الله ﷺ فإذا هو في منزله، فقال:"ما هذا يا جابرُ؟ ألحمٌ هذا؟" قلتُ: لا يا رسول الله، ولكنها خَزيرة أمر بها أبي فصُنعت، ثم أمرني فحملتُها إليك، ثم رجعتُ إلى أبي فقال: هل رأيتَ رسول الله ﷺ؟ قلتُ: نعم، قال: فما قال لك؟ قلت: قال:"ألحمٌ هذا يا جابر؟" قال أبي: عسى أن يكونَ رسولُ الله ﷺ اشتهَى اللحمَ، فقام إلى داجنٍ له فذبحَها وشواها، ثم أمرني بحملها إليه، فقال رسول الله ﷺ:"جَزَى الله الأنصارَ عنَّا خيرًا، ولا سيَّما عبدِ الله بن عمرو بن حَرَام وسعدِ بن عُبادة" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7099 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7099 - صحيح
سیدنا جابر بن عبداللہ بن عمرو بن حرام بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے ” حریرہ “ تیار کرنے کا حکم دیا، میں نے حریرہ بنا دیا۔ پھر اپنے والد کے حکم کے مطابق میں وہ حریرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لے گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت گھر میں ہی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے جابر، یہ کیا ہے؟ کیا یہ گوشت ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، یہ حریرہ ہے، والد صاحب کے حکم سے میں نے یہ بنایا ہے، پھر انہوں نے حکم دیا تو میں یہ آپ کی خدمت میں لے آیا ہوں۔ (میں وہ ” حریرہ “ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرنے کے بعد) وہاں سے اپنے والد کے پاس واپس آ گیا، میرے والد نے پوچھا: کیا تمہاری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہو گئی؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ والد صاحب نے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں کیا کہا؟ میں نے بتایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: اے جابر کیا یہ گوشت ہے؟ میرے والد نے یہ سن کر کہا: لگتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گوشت کی خواہش ہو رہی ہے۔ والد صاحب نے بکری ذبح کی، اس کو بھونا اور مجھے حکم دیا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کر آؤ، آپ فرماتے ہیں: میں نے وہ بکری اٹھائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بکری قبول کرنے کے بعد) فرمایا: اللہ تعالیٰ ہماری طرف سے انصار کو جزائے خیر عطا فرمائے، بالخصوص عبداللہ بن عمرو بن حرام کو اور سعد بن عبادہ کو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7276]
حدیث نمبر: 7277
أخبرنا عبد الله بن إسحاق الخُرَاساني العَدْل ببغداد، حدثنا يحيى بن جعفر بن الزِّبْرقان، حدثنا علي بن عاصم، حدثنا عبيد الله بن أبي بكر بن أنس، قال: سمعت أنسًا يقول: انتفجتُ أرنبًا بالبَقيع، فاشتُدَّ في أثرها، فكنتُ فيمن اشتدَّ، فسبقتُهم إليها فأخذتها، فأتيتُ بها أبا طلحةَ، فأمر بها فذُبحت ثم شُوِيَت، فأخذ عَجُزَها فأرسلَ به معي إلى النبيِّ ﷺ، فقال النبيُّ ﷺ:"ما هذا؟" قلتُ: عَجُزُ أرنب بعث بها أبو طلحةَ إليك، فقَبِلَه مني (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7100 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7100 - صحيح
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے بقیع میں ایک خرگوش کو دیکھا اس کو بھڑکا کر باہر نکالا، اور اس کے پیچھے تیزی سے دوڑ پڑا، اس کے پیچھے بھاگنے والوں میں، میں بھی تھا۔ میں نے سب سے آگے بڑھ کر اس کو پکڑ لیا، اس کو لے کر ابوطلحہ کے پاس آ گیا، انہوں نے حکم دیا تو اس کو ذبح کر کے بھونا گیا، اس کی عجز کاٹ دی گئی۔ پھر وہ مجھے دے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں بھیجا گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: خرگوش کی پشت کا گوشت ہے۔ ابوطلحہ نے آپ کے لئے بھیجی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مجھ سے قبول کر لی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7277]
حدیث نمبر: 7278
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، حدثني سعيد بن أبي هلال، أنَّ عبد الله بن عبيد الله حدثه عن أبي غَطَفان، عن أبي رافع قال: كنتُ أَشوي لرسولِ الله ﷺ بطنَ الشاة، فيأكلُ منه ثم يخرجُ إلى الصلاة (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7101 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7101 - على شرط البخاري ومسلم
ابورافع کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بکری کا سینہ بھون رہا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے تناول فرماتے اور (نیا وضو کئے بغیر) نماز کے لئے چلے جاتے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7278]
حدیث نمبر: 7279
حدَّثَناه أبو العباس في فوائد ابن عبد الحَكَم، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرني أبي وشعيبُ بن الليث، حدثنا الليث بن سعد، حدثنا خالد بن يزيد (2) ، عن سعيد بن أبي هِلال، عن عُبيد الله بن أبي رافع، أنَّ أَبا غَطَفان المُرِّي حدَّثه عن أبي رافع قال: كنتُ أشوي لرسولِ الله ﷺ بطنَ الشاة - وقد توضَّأ للصلاة - فيأكلُ منه ثم يخرجُ إلى الصلاة (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
سیدنا ابورافع فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بکری کا سینہ بھونتا، آپ نماز کے لئے وضو کر چکے ہوتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے کھاتے اور (تازہ وضو کئے بغیر) نماز کے لئے تشریف لے جاتے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7279]