🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

20. لَا يَمْسَحْ أَحَدُكُمْ يَدَهُ بِالْمِنْدِيلِ حَتَّى يَلْعَقَ يَدَهُ
تم میں سے کوئی اپنے ہاتھ رومال سے نہ پونچھے جب تک انہیں چاٹ نہ لے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7304
أخبرنا محمد بن أحمد بن تَميم القَنطَري، حدثنا أبو قِلابة، حدثنا أبو عاصم، أخبرنا ابن جُريج، أخبرني أبو الزُّبير، عن جابر بن عبد الله، أنه سمع النبيَّ ﷺ يقول:"لا يَمْسَحْ أحدُكم يدَه بالمِنْديل حتى يَلعَقَ يدَه، فإنَّ الرجلَ لا يدري في أيِّ طعامِه يُبارَكُ له، وإنَّ الشيطان يَرصُدُ النَّاسَ - أو الإنسانَ - على كلِّ شيء حتى عند طعامِه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7126 - على شرط مسلم
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے کوئی اپنے ہاتھ کو رومال سے نہ پونچھے یہاں تک کہ اسے چاٹ لے، کیونکہ انسان نہیں جانتا کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں اس کے لیے برکت رکھی گئی ہے، اور بیشک شیطان انسان کی ہر چیز پر گھات لگا کر بیٹھتا ہے یہاں تک کہ اس کے کھانے کے وقت بھی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7304]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل أبي قلابة، واسمه عبد الملك بن محمد الرَّقاشي،» [ترقيم الرساله 7304] [ترقيم الشركة 7222] [ترقيم العلميه 7126]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7305
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العنبري، حدثنا أبو بكر محمد بن النَّضْر الجارودي (1) ، حدثنا أحمد بن مَنِيع، حدثنا يعقوب بن الوليد، حدثنا ابن أبي ذِئب، عن سعيد بن أبي سعيد المَقُبري، قال: سمعتُ أبا هريرة يقول: قال رسولُ الله ﷺ:"إِنَّ الشيطان حسَّاسٌ لحَّاسٌ، فاحذَروه على أنفسِكم، من باتَ وفي يده رِيحٌ فأصابه شيءٌ، فلا يَلُومنَّ إلَّا نفسَه" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه الألفاظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7127 - بل موضوع
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک شیطان بہت حساس اور (ہاتھ) چاٹنے والا ہے، لہٰذا تم اس سے اپنی جانوں کا بچاؤ کرو، جو شخص اس حال میں سویا کہ اس کے ہاتھ میں (کھانے کی) بو باقی تھی اور اسے کوئی تکلیف پہنچی تو وہ صرف اپنے آپ ہی کو ملامت کرے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7305]
تخریج الحدیث: «موضوع، كما قال الذهبي في "تلخيصه"، يعقوب بن الوليد» [ترقيم الرساله 7305] [ترقيم الشركة 7223] [ترقيم العلميه 7127]

الحكم على الحديث: موضوع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7306
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه وعلي بن حَمْشَاذَ العدل، قالا: حدثنا بشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن مسلم الكوفي الأعور المُلَائي، سمع أنس بن مالك يقول: كان النبيُّ ﷺ يُردِفُ خلفَه، ويضعُ طعامَه في الأرض، ويُجيبُ دعوة المملوك، ويركبُ الحِمار (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7128 - مسلم ترك
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (سواری پر) اپنے پیچھے کسی کو بٹھا لیتے تھے، اپنا کھانا زمین پر رکھ کر کھاتے تھے، غلام کی دعوت قبول فرماتے تھے اور گدھے پر سواری کرتے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7306]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف مسلم» [ترقيم الرساله 7306] [ترقيم الشركة 7224] [ترقيم العلميه 7128]

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں