🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

15. ذِكْرُ مِائَةِ رَحْمَةٍ لِلَّهِ وَتَقْسِيمِهَا .
اللہ کی سو رحمتوں کا تذکرہ اور ان کی تقسیم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7820
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا مُسدَّد، حَدَّثَنَا يزيد بن زُرَيع، حَدَّثَنَا داود بن أبي هِند، حَدَّثَنَا أبو عثمان النَّهْدي، عن سلمان الفارسي، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إِنَّ الله خلقَ يومَ خلقَ السماواتِ والأرضَ مئةَ رحمةٍ، كلُّ رحمةٍ مِلءُ ما بينَ السماءِ والأرض، فقَسَمَ منها رحمةً بين الخلائق بها تَعطِفُ الوالدة على ولدِها، وبها يشربُ الوحشُ والطيرُ الماءَ، وبها يتراحَمُ الخلائقُ، فإذا كان يومُ القيامة قَصَرَها على المتقينَ، وزادَهم بِضعًا وتسعينَ" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتَّفقا على حديث سليمان التَّيمي عن أبي عثمان عن سليمان مختصرًا مثل حديث الزُّهْري عن سعيد عن (1) أبي هريرة (2) .
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جس دن آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اسی دن سو رحمتیں پیدا فرمائیں، ہر رحمت اتنی وسعت رکھتی ہے جتنا زمین و آسمان کے درمیان خلا ہے، اللہ نے ان میں سے ایک رحمت تمام مخلوقات کے درمیان تقسیم فرمائی ہے جس کی وجہ سے ماں اپنے بچے پر شفقت کرتی ہے، جنگلی جانور اور پرندے پانی پیتے ہیں اور اسی کی بدولت تمام مخلوقات ایک دوسرے پر رحم کرتی ہیں، پس جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ (اس ایک رحمت کو بھی) اپنے پاس سمیٹ کر متقین کے لیے خاص کر لے گا اور ان کے لیے اسے ننانوے رحمتوں کے ساتھ مزید بڑھا دے گا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّوْبَةِ وَالْإِنَابَةِ/حدیث: 7820]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات، إلَّا أنه قد اختلف على أبي عثمان النهدي» [ترقيم الرساله 7820] [ترقيم الشركة 7727]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7821
حدثني علي بن حَمْشاذ العَدْل، حَدَّثَنَا العباس بن الفضل ومحمد بن غالب، قالا: حَدَّثَنَا بكّار بن محمد السِّيرِيني (3) ، حَدَّثَنَا عَوف (4) بن أبي جَميلة، عن محمد بن سِيرين، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"إِنَّ الله مئةَ رحمةٍ، قَسَمَ رحمةً بين أهل الدنيا وَسِعَتهم إلى آجالهم، وأَخَّر تسعًا وتسعينَ رحمةً لأوليائِه، وإنَّ الله تعالى قابضٌ تلك الرحمةَ التي قَسَمَها بين أهل الدنيا إلى التسعِ والتسعينَ فيُكمِلُها مئةَ رحمةٍ لأوليائه يومَ القيامة" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ کی سو رحمتیں ہیں، اس نے ایک رحمت دنیا والوں کے درمیان تقسیم فرمائی جو ان کی زندگیوں کے خاتمے تک انہیں کافی ہے، اور ننانوے رحمتیں اپنے اولیاء کے لیے (آخرت میں) محفوظ کر رکھی ہیں، اور اللہ تعالیٰ اس ایک رحمت کو بھی، جو اس نے دنیا والوں میں تقسیم فرمائی تھی، قیامت کے دن ان ننانوے کے ساتھ ملا لے گا تاکہ اپنے اولیاء کے لیے سو رحمتیں مکمل فرما دے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّوْبَةِ وَالْإِنَابَةِ/حدیث: 7821]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل بكار بن محمد السيريني، وقد توبع» [ترقيم الرساله 7821] [ترقيم الشركة 7728]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7822
أخبرني أبو بكر محمد بن عبد الله الشَّافعي، حَدَّثَنَا محمد بن مَسْلَمة الواسطي ومحمد بن رِبْح السَّمَّاك، قالا: حَدَّثَنَا يزيد بن هارون، أخبرنا سعيد بن إياس الجُرَيري، عن أبي عبد الله الجَسْري، حَدَّثَنَا جُندُب قال: جاء أعرابيٌّ فأناخ راحلتَه ثم عَقَلَها، فصلَّى خلفَ رسول الله ﷺ، فلما سلَّم رسولُ الله ﷺ أتى راحلتَه فأطلقَ عِقالَها ثم رَكِبَها (2) ، ثم نادى: اللهمَّ ارحَمْني ومحمدًا ولا تُشرِكْ في رحمتنا أحدًا، فقال النَّبِيُّ ﷺ:"أتقولونَ: هو أضلُّ أم بَعِيرُه؟ ألم تَسمَعوا ما قال؟" قالوا: بلى، قال:"لقد حَظَرَ رحمةَ الله واسعةً، إِنَّ الله خَلَقَ مئةَ رحمةٍ، فأنزل رحمةً تَعاطَفُ بها الخلائقُ جِنُّها وإنسُها وبهائمُها، وعنده تسعٌ وتسعون، تقولون: هو أضلُّ أم بعيرُه؟" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7630 - صحيح
سیدنا جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی آیا، اس نے اپنی اونٹنی بٹھا کر اسے باندھ دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو وہ اپنی اونٹنی کے پاس گیا، اس کا بندھن کھولا، اس پر سوار ہوا اور پکار کر کہنے لگا: اے اللہ! مجھ پر اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر رحم فرما اور ہماری اس رحمت میں کسی اور کو شریک نہ کر، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے، یہ زیادہ بھٹکا ہوا ہے یا اس کا اونٹ؟ کیا تم نے نہیں سنا جو اس نے کہا؟ صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے اللہ کی وسیع رحمت کو محدود کر دیا، اللہ نے سو رحمتیں پیدا کی ہیں، پھر ایک رحمت نازل فرمائی جس کی وجہ سے تمام مخلوقات، جنات، انسان اور چوپائے آپس میں ایک دوسرے پر شفقت کرتے ہیں، جبکہ ننانوے رحمتیں اللہ کے پاس محفوظ ہیں، (اب بتاؤ) یہ زیادہ بھٹکا ہوا ہے یا اس کا اونٹ؟
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّوْبَةِ وَالْإِنَابَةِ/حدیث: 7822]
تخریج الحدیث: «إسناده ليّن من أجل أبي عبد الله الراوي عن جندب، وقد سلف الكلام عليه برقم (188)» [ترقيم الرساله 7822] [ترقيم الشركة 7729] [ترقيم العلميه 7630]

الحكم على الحديث: إسناده ليّن من أجل أبي عبد الله الراوي عن جندب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں