المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
34. ذِكْرُ الْكَبَائِرِ التِّسْعِ .
نو بڑے (کبیرہ) گناہوں کا تذکرہ
حدیث نمبر: 7859
حَدَّثَنَا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا هشام بن علي السَّدُوسي، حَدَّثَنَا ابن رجاء، حَدَّثَنَا حرب بن شداد، حَدَّثَنَا يحيى بن أبي كثير، عن عبد الحميد بن سِنان، عن عُبيد بن عُمير، عن أبيه، أنه حدَّثه - وكانت له صُحبة - أنَّ رسول الله ﷺ قال في حَجَّة الوداع:"ألا إنَّ أولياء الله المصلُّون من يُقيم الصلواتِ (1) الخَمْسَ التي كُتِبْنَ عليه، ويصومُ رمضان يحتسبُ صومَه يرى أنَّه عليه حقٌّ، ويُعطي زكاةَ ماله يحتسبُها، ويجتنبُ الكبائرَ [التي نَهَى اللهُ عنها". ثمَّ إِنَّ رجلًا سأله، فقال: يا رسولَ الله، ما الكبائرُ؟] (2) فقال:"هو تِسعٌ: الشِّركُ (3) بالله، وقتلُ نفسِ المؤمن بغير حقٍّ، وفِرارٌ يومَ الزَّحف، وأكلُ مالِ اليتيم، وأكلُ الرِّبا، وقذفُ المُحصَنة، وعقوقُ الوالدينِ المسلمينِ، واستحلالُ البيتِ الحرام قِبلتكم أحياءً وأمواتًا". ثم قال:"لا يموتُ رجلٌ لم يَعمَلْ هذه الكبائرَ ويُقيمَ الصلاةَ ويُؤتيَ الزكاة، إلَّا كان مع النَّبِيِّ ﷺ في دارٍ أبوابُها مَصَاريعُ من ذَهَب" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7666 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7666 - صحيح
سیدنا عبید بن عمیر اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: ”آگاہ رہو! اللہ کے دوست وہ نمازی ہیں جو ان پانچ نمازوں کو قائم کرتے ہیں جو ان پر فرض کی گئی ہیں، اور رمضان کے روزے ثواب کی نیت سے رکھتے ہیں اور اسے اپنا حق سمجھتے ہیں، اور اپنے مال کی زکوٰۃ خوش دلی سے ادا کرتے ہیں، اور ان کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں جن سے اللہ نے منع فرمایا ہے۔“ پھر ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کبیرہ گناہ کون سے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ نو ہیں: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، کسی مومن کو ناحق قتل کرنا، میدانِ جنگ سے پیٹھ پھیر کر بھاگنا، یتیم کا مال کھانا، سود کھانا، پاکدامن عورت پر تہمت لگانا، مسلمان والدین کی نافرمانی کرنا، اور بیت اللہ کی حرمت کو حلال سمجھنا جو زندگی اور موت میں تمہارا قبلہ ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ان کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کیے بغیر مر گیا اور وہ نماز قائم کرتا رہا اور زکوٰۃ ادا کرتا رہا، تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسے گھر میں ہوگا جس کے دروازے سونے کے بنے ہوئے ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّوْبَةِ وَالْإِنَابَةِ/حدیث: 7859]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّوْبَةِ وَالْإِنَابَةِ/حدیث: 7859]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لجهالة عبد الحميد بن سنان» [ترقيم الرساله 7859] [ترقيم الشركة 7765] [ترقيم العلميه 7666]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف