المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
33. الصَّلَاةُ الْمَكْتُوبَةُ إِلَى الَّتِي بَعْدَهَا كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا .
ایک فرض نماز دوسری نماز تک کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے
حدیث نمبر: 7857
حدثنا أبو جعفر أحمد بن عُبيد بن إبراهيم الأَسدي الحافظ بهَمَذان، حَدَّثَنَا عُمير بن مِرْداس، حَدَّثَنَا عبد الله بن نافع حَدَّثَنَا هشام بن سعد، عن زيد بن أسلم، عن عبد الرحمن بن البَيْلماني، قال: سمعتُ عبد الله بن عمرو يقول: قال رسولُ الله ﷺ:"مَن تابَ قبلَ موتِه بعامٍ تِيبَ عليه"، حتَّى قال:"بشَهر"، حتَّى قال:"بجُمعة" حتَّى قال:"بيوم"، حتَّى قال:"بساعة"، حتَّى قال:"بفُوَاق". فقلتُ: سبحان الله، أوَلم يَقُلِ اللهُ ﷿: ﴿وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ حَتَّى إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّي تُبْتُ الآنَ﴾ [النساء: 18] ؟ فقال عبدُ الله: إنما أُحدِّثك بما سمعتُ من رسولِ الله ﷺ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7664 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7664 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
زید بن اسلم، عبدالرحمن بن بیلمانی کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے موت سے ایک سال پہلے توبہ کر لی، اس کی توبہ قبول ہے، حتیٰ کہ ایک مہینے کا کہا، پھر ایک ہفتے کا کہا، پھر ایک دن کا کہا، پھر ایک ساعت کا کہا پھر ایک فواق (اونٹنی کو ایک بار دوہنے کے بعد دوسری بار دوہنے کے درمیان جو وقفہ ہوتا ہے یا تھن سے دودھ نکالنے کے لیے مٹھی بھینچنے سے مٹھی کھولنے تک کا وقت) کا کہا۔ میں نے کہا: سبحان اللہ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ حَتَّى إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّي تُبْتُ الْآنَ وَلَا الَّذِينَ يَمُوتُونَ وَهُمْ كُفَّارٌ أُولَئِكَ أَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا (النساء: 18) ” اور وہ توبہ ان کی نہیں جو گناہوں میں لگے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آئے تو کہے اب میں نے توبہ کی اور نہ ان کی جو کافر مریں ان کے لیے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے “ تو سیدنا عبداللہ نے فرمایا: میں نے تجھے وہ حدیث سنائی ہے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّوْبَةِ وَالْإِنَابَةِ/حدیث: 7857]