المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
19. النَّهْيُ عَنِ التَّسْمِيَةِ بِمَلِكِ الْأَمْلَاكِ
ملک الاملاک (شہنشاہ) نام رکھنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 7917
أخبرنا أبو بكر بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا موسى بن الحسن، حَدَّثَنَا هَوْذة بن خَليفة، حَدَّثَنَا عوف، عن خِلَاس ومحمد، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"اشتدَّ غضبُ الله على رجل قتلَه رسولُ الله ﷺ واشتدَّ غضبُ الله على رجلٍ تسمَّى مَلِكَ الأملاك، لا مَلِكَ إِلَّا اللهُ ﷿" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7724 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7724 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص پر اللہ کا غضب شدید ہوتا ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل کیا ہو، اور اس شخص پر بھی اللہ کا غضب شدید ہوتا ہے جس نے اپنا نام «مَلِكُ الْاَمْلَاك» رکھا ہو، جبکہ اللہ عزوجل کے سوا کوئی حقیقی بادشاہ نہیں ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7917]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7917]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي متّصل من جهة محمد» [ترقيم الرساله 7917] [ترقيم الشركة 7823] [ترقيم العلميه 7724]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 7918
أخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجلَّاب بهَمَذان، حَدَّثَنَا أبو حاتم الرازي، حَدَّثَنَا سعيد بن مروان الرُّهَاوي (2) ، حَدَّثَنَا عصام بن بَشير، حدثني أبي، قال: وَفَّدَني قومي بنو الحارث بن كعب إلى النَّبِيّ ﷺ، فلما أتيته قال لي:"مَرحَبًا، ما اسمك؟": قلت: كثيرٌ، قال:"بل أنت بَشيرٌ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7725 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7725 - صحيح
عصام بن بشیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میری قوم بنو حارث بن کعب نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وفد بنا کر بھیجا، جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ نے فرمایا: ”خوش آمدید، تمہارا نام کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: کثیر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تم بشیر (خوشخبری دینے والے) ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7918]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7918]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل عصام بن بشير، فقد روى عنه جمع وذكره ابن حبان في "الثقات"» [ترقيم الرساله 7918] [ترقيم الشركة 7824] [ترقيم العلميه 7725]
الحكم على الحديث: إسناده حسن من أجل عصام بن بشير
حدیث نمبر: 7919
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى [حَدَّثَنَا مُسدَّد] (4) حَدَّثَنَا يحيى - وهو ابن سعيد - عن زكريا بن أبي زائدة، عن عامر، عن عبد الله بن مُطِيع بن الأسود، عن أبيه قال: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يومَ الفتح يقول:"لا يُقتلَنَّ قرشيٌّ بعد هذا اليوم صَبْرًا إلى يوم القيامة". قال: ولم يُدرِكْ (1) أحدٌ من عُصَاة قريشٍ الإسلامَ غير أَبي، قال: وكان اسمه العاصِ، فسمَّاه رسولُ الله ﷺ مُطيعًا (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7726 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7726 - صحيح
عبداللہ بن مطیع بن اسود اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں نے فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”آج کے دن کے بعد کسی قریشی کو قید کر کے (صبرًا) قتل نہیں کیا جائے گا۔“ وہ کہتے ہیں کہ میرے والد کے سوا قریش کے کسی نافرمان نے (اس وقت) اسلام قبول نہیں کیا تھا، ان کا نام ”العاص“ (نافرمان) تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام ”مطیع“ (فرمانبردار) رکھ دیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7919]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7919]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 7919] [ترقيم الشركة 7825] [ترقيم العلميه 7726]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح