المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
19. النهي عن التسمية بملك الأملاك
ملک الاملاک (شہنشاہ) نام رکھنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 7918
أخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجلَّاب بهَمَذان، حَدَّثَنَا أبو حاتم الرازي، حَدَّثَنَا سعيد بن مروان الرُّهَاوي (2) ، حَدَّثَنَا عصام بن بَشير، حدثني أبي، قال: وَفَّدَني قومي بنو الحارث بن كعب إلى النَّبِيّ ﷺ، فلما أتيته قال لي:"مَرحَبًا، ما اسمك؟": قلت: كثيرٌ، قال:"بل أنت بَشيرٌ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7725 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7725 - صحيح
عصام بن بشیر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میری قوم بنی الحارث بن کعب نے مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں مجھے بھیجا، جب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مرحبا کہا اور میرا نام پوچھا، میں نے کہا: میرا نام ” کثیر “ ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلکہ تم ” بشیر “ ہو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7918]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7918 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى الزهراني.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہاں تحریف (کتابت کی غلطی) ہوئی ہے اور لفظ "الزهراني" لکھ دیا گیا ہے (جو کہ اصل کے خلاف ہے)۔
(3) إسناده حسن من أجل عصام بن بشير، فقد روى عنه جمع وذكره ابن حبان في "الثقات".
⚖️ درجۂ حدیث: عصام بن بشیر کی وجہ سے اس کی سند "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی عصام بن بشیر سے محدثین کی ایک جماعت نے روایت لی ہے اور امام ابن حبان نے انہیں اپنی کتاب "الثقات" میں ذکر کیا ہے، جو ان کی توثیق کی دلیل ہے۔
وأخرجه النسائي (10072) عن أحمد بن سليمان، عن سعيد بن مروان، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی (10072) نے احمد بن سلیمان عن سعید بن مروان کی سند سے اسی سابقہ اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے۔