المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
5. مَنْ قَالَ أَنَا بَرِيءٌ مِنَ الْإِسْلَامِ فَهُوَ كَمَا قَالَ
جس نے کہا کہ "میں اسلام سے بری ہوں"، وہ ویسا ہی ہو گیا جیسا اس نے کہا
حدیث نمبر: 8012
حدثنا أبو العباس قاسم بن القاسم السَّيَّاري بمَرْو، حدثنا إبراهيم بن هِلال البُوزَنْجِرْدي، حدثنا علي بن الحسن بن شَقيق، أخبرنا الحُسين بن واقد، حدثنا عبد الله بن بُرَيدة، عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن قال: أنا بريءٌ من الإسلام، فإن كان كاذبًا فهو كما قالَ، وإن كان صادقًا فلن يَرجِعَ إلى الإسلام سالمًا" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7818 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7818 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے یہ کہا کہ میں اسلام سے بری (بیزار) ہوں، تو اگر وہ جھوٹا ہے تو وہ ویسا ہی ہے جیسا اس نے کہا، اور اگر وہ (اپنے دعوے میں) سچا ہے تو وہ کبھی سلامتی کے ساتھ اسلام کی طرف نہیں لوٹ سکے گا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 8012]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 8012]
تخریج الحدیث: «حديث قوي، وهذا إسناد حسن من أجل إبراهيم بن هلال، وقد توبع» [ترقيم الرساله 8012] [ترقيم الشركة 7917] [ترقيم العلميه 7818]
الحكم على الحديث: حديث قوي
حدیث نمبر: 8013
أخبرنا محمد بن علي الشيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري، حدثنا أبو نُعيم وأبو غسان، قالا: حدثنا شَريك، عن منصور، عن رِبْعي بن حِراش، حدثنا عليٌّ في رَحَبةِ الكوفة (2) قال: لمّا افتَتَحَ رسولُ الله ﷺ مكةَ أتاه ناسٌ من قريش، فقالوا: إنه قد لَحِقَ بك ناسٌ من مَوالِينا وأرقّائِنا ليس لهم رغبةٌ في الدِّين إلَّا فِرارًا من مواشينا وزَرْعِنا، فقال رسول الله ﷺ:"والله يا معشرَ قريش، لَتُقيمُنَّ الصلاةَ، ولَتُؤْتُنَّ الزَّكَاةَ، أو لأبعثنَّ عليكم رجلًا فيضرِبُ أعناقَكم على الدِّين" ثم قال:"أنا أو خاصِفُ النَّعْل"، قال عليٌّ: وأنا أَخصِفُ نَعْلَ رسولِ الله ﷺ. ثم قال عليٌّ: سمعتُ النبيَّ ﷺ يقول:"مَن كَذَبَ عليَّ يَلِجِ النَّارَ" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7819 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7819 - على شرط مسلم
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کوفہ کے چوک میں بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو قریش کے کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: ہمارے کچھ غلام اور نوکر آپ سے آ ملے ہیں، ان کا مقصد دین نہیں بلکہ صرف ہمارے مویشیوں اور کھیتیوں سے بھاگنا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے گروہِ قریش! اللہ کی قسم، تم ضرور نماز قائم کرو گے اور زکوٰۃ ادا کرو گے، ورنہ میں تم پر ایک ایسے شخص کو بھیجوں گا جو دین کی خاطر تمہاری گردنیں مارے گا“، پھر فرمایا: ”وہ میں ہوں گا یا وہ جو جوتا گانٹھ رہا ہے“، سیدنا علی فرماتے ہیں کہ اس وقت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جوتا گانٹھ رہا تھا، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا وہ آگ میں اپنا ٹھکانہ بنا لے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 8013]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 8013]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف بهذا السياق، تفرَّد به شريك» [ترقيم الرساله 8013] [ترقيم الشركة 7918] [ترقيم العلميه 7819]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف بهذا السياق
حدیث نمبر: 8014
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دِينار العَدْل الزاهد، حدثنا أحمد بن محمد بن نصر (1) ، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا إسماعيل بن قيس بن سعد بن زيد بن ثابت الأنصاري، حدثني أبي، عن خارجة بن زيد، عن زيد قال: بينما رسولُ الله ﷺ جالسٌ مع أصحابه يُحدِّثُهم إذ قام فدخلَ فقام زيدٌ فجلَسَ في مَجلِس النبيِّ ﷺ وجعل يُحدِّثهم عن النبيِّ ﷺ، إذ مُرَّ بلحمِ هديةٍ إلى رسول الله ﷺ، فقال القوم لزيدٍ - وكان أحدَثَهم سِنًّا -: يا أبا سعيد، لو قمتَ إلى النبيِّ ﷺ فأقرأتَه منَّا السلامَ، وتقول له: يقولُ لك أصحابُك: إنْ رأيتَ أن تَبعَثَ إلينا من هذا اللَّحم، فقال:"ارجِعْ إليهم فقد أكلُوا لحمًا بعدَك" فجاء زيدٌ فقال: قد بلَّغتُ النبيَّ ﷺ الذي أرسلتموني به، فقال:"ارجِعْ إليهم فقد أكلُوا لحمًا بعدَك" فقال القوم: ما أكلنا لحمًا، وإنَّ هذا لأمرٍ حَدَثَ، فانطلِقوا بنا إلى رسول الله ﷺ نسألُه ما هذا، فجاؤوا إلى رسول الله ﷺ فقالوا: يا رسولَ الله، أرسَلْنا إليك في اللَّحم الذي جاءك، فزَعَمَ زيدٌ أنهم قد أكلوا لحمًا! فوالله ما أكلنا لحمًا، فقال رسولُ الله ﷺ:"كأنّي أنظرُ إلى خُضرةِ لحم زيدٍ في أسنانِكم" فقالوا: أيْ رسولَ الله، فاستَغفِرْ لنا، قال: فاستغفرَ لهم (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7820 - إسماعيل بن قيس بن سعد بن زيد بن ثابت ضعفوه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7820 - إسماعيل بن قيس بن سعد بن زيد بن ثابت ضعفوه
سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ بیٹھے باتیں کر رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر (گھر) تشریف لے گئے۔ زید (جو سب سے کم عمر تھے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ بیٹھ گئے اور صحابہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سنانے لگے۔ اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے گوشت کا ہدیہ آیا۔ لوگوں نے زید سے کہا: اے ابوسعید! آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں، ہمارا سلام کہیں اور عرض کریں کہ آپ کے صحابہ کہہ رہے ہیں کہ اگر آپ مناسب سمجھیں تو اس گوشت میں سے کچھ ہمیں بھی بھیج دیں؟ (زید گئے تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے پاس واپس جاؤ، وہ تمہارے بعد گوشت کھا چکے ہیں“۔ زید واپس آئے اور بتایا کہ میں نے آپ کا پیغام پہنچا دیا ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ وہ گوشت کھا چکے ہیں۔ لوگوں نے کہا: ہم نے تو کوئی گوشت نہیں کھایا، یہ تو کوئی خاص بات معلوم ہوتی ہے، چلو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خود پوچھتے ہیں۔ وہ حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم نے گوشت کے لیے کہلوایا تھا تو زید کا دعویٰ ہے کہ ہم گوشت کھا چکے ہیں، حالانکہ اللہ کی قسم! ہم نے گوشت نہیں کھایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گویا میں تمہارے دانتوں میں زید کے گوشت کی سبزی (اثر) دیکھ رہا ہوں“ (یعنی تم نے اس کی پیٹھ پیچھے بات کر کے اس کی غیبت کی ہے)۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمارے لیے استغفار فرمائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعائے مغفرت فرمائی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 8014]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 8014]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا، إسماعيل بن قيس منكر الحديث فيما قاله البخاري والدارقطني، وقال أبو حاتم: ضعيف الحديث منكر الحديث يحدِّث بالمناكير، لا أعلم له حديثًا قائمًا» [ترقيم الرساله 8014] [ترقيم الشركة 7919] [ترقيم العلميه 7820]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا
حدیث نمبر: 8015
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المَحْبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن إبراهيم بن عبد الأعلى، عن جدَّته، عن أبيها سُوَيد بن حَنْظلة، قال: خرَجْنا نريدُ رسولَ الله ﷺ ومعنا وائل بن حُجْر، فأخذه عدوٌّ له، فتحرَّجَ القومُ أن يَحلِفوا وحلفتُ أنه أخي، فخُلِّي سبيلُه، فأتينا رسولَ الله ﷺ فأخبرتُه أنَّ القومَ تحرَّجوا وحلفتُ أنا أنَّه أخي، فقال:"صدقتَ، المُسلِمُ أخو المُسلِم" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7821 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7821 - صحيح
سیدنا سوید بن حنظلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے نکلے، ہمارے ساتھ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ راستے میں ان کے ایک دشمن نے انہیں پکڑ لیا۔ لوگوں نے (انہیں چھڑانے کے لیے) قسم کھانے میں تامل کیا، لیکن میں نے قسم کھا لی کہ وہ میرا بھائی ہے، چنانچہ دشمن نے انہیں چھوڑ دیا۔ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ باقی لوگ تامل کر رہے تھے جبکہ میں نے قسم کھا لی کہ وہ میرا بھائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے سچ کہا، مسلمان مسلمان کا بھائی ہوتا ہے (اس لیے تمہاری یہ قسم جھوٹی نہیں تھی)۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 8015]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 8015]
تخریج الحدیث: «المرفوع منه صحيح لغيره، وهو قوله: "المسلم أخو المسلم"، وهذا إسناد فيه جهالة من قبل جدِّه إبراهيم وأبيها، ولا يعرفان إلّا في هذا الحديث» [ترقيم الرساله 8015] [ترقيم الشركة 7920] [ترقيم العلميه 7821]
الحكم على الحديث: المرفوع منه صحيح لغيره