🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. مَنْ قَالَ أَنَا بَرِيءٌ مِنَ الْإِسْلَامِ فَهُوَ كَمَا قَالَ
جس نے کہا کہ "میں اسلام سے بری ہوں"، وہ ویسا ہی ہو گیا جیسا اس نے کہا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8011
حدثني علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا عُبَيس بن ميمون، حدثنا يحيى بن أبي كثير، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن حَلَفَ على يمين فهو كما حَلَفَ، إن قال: هو يهوديٌّ، فهو يهوديٌّ، وإن قال: هو نَصرانيٌّ، فهو نَصرانيُّ، وإن قال: هو بَريء من الإسلام، فهو بَريءٌ من الإسلام، ومن ادَّعى دُعاءَ الجاهلية فإنه من جُثَى جهنَّم" قالوا: يا رسول الله، وإن صام وصلَّى؟ قال:"وإن صام وصلَّى" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7817 - الخبر منكر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے کوئی مشروط قسم کھائی، وہ اسی طرح ہے جیسے اس نے قسم کھائی، اگر اس نے کہا: میں یہودی ہوں، تو وہ یہودی ہی ہو گیا۔ اور اگر اس نے کہا کہ میں نصرانی ہوں تو وہ نصرانی ہی ہو گیا، اور اگر اس نے کہا کہ میں اسلام سے بری ہوں تو وہ واقعی اسلام سے لاتعلق ہو گیا، اور جس نے زمانہ جاہلیت کی طرح کوئی دعویٰ کیا تو وہ جہنم کا ایندھن ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگرچہ وہ روزہ رکھتا ہو اور نمازیں پڑھتا ہو؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ وہ روزہ رکھتا ہو اور نمازیں پڑھتا ہو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 8011]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8012
حدثنا أبو العباس قاسم بن القاسم السَّيَّاري بمَرْو، حدثنا إبراهيم بن هِلال البُوزَنْجِرْدي، حدثنا علي بن الحسن بن شَقيق، أخبرنا الحُسين بن واقد، حدثنا عبد الله بن بُرَيدة، عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن قال: أنا بريءٌ من الإسلام، فإن كان كاذبًا فهو كما قالَ، وإن كان صادقًا فلن يَرجِعَ إلى الإسلام سالمًا" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7818 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن بریدہ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے کہا کہ میں اسلام سے بری ہوں، وہ اگر جھوٹ کہہ رہا ہے تو اپنے قول کے مطابق ہے اور اگر وہ سچ کہہ رہا ہے تو اسلام کی طرف سلامتی کے ساتھ ہرگز نہیں لوٹے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 8012]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8013
أخبرنا محمد بن علي الشيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري، حدثنا أبو نُعيم وأبو غسان، قالا: حدثنا شَريك، عن منصور، عن رِبْعي بن حِراش، حدثنا عليٌّ في رَحَبةِ الكوفة (2) قال: لمّا افتَتَحَ رسولُ الله ﷺ مكةَ أتاه ناسٌ من قريش، فقالوا: إنه قد لَحِقَ بك ناسٌ من مَوالِينا وأرقّائِنا ليس لهم رغبةٌ في الدِّين إلَّا فِرارًا من مواشينا وزَرْعِنا، فقال رسول الله ﷺ:"والله يا معشرَ قريش، لَتُقيمُنَّ الصلاةَ، ولَتُؤْتُنَّ الزَّكَاةَ، أو لأبعثنَّ عليكم رجلًا فيضرِبُ أعناقَكم على الدِّين" ثم قال:"أنا أو خاصِفُ النَّعْل"، قال عليٌّ: وأنا أَخصِفُ نَعْلَ رسولِ الله ﷺ. ثم قال عليٌّ: سمعتُ النبيَّ ﷺ يقول:"مَن كَذَبَ عليَّ يَلِجِ النَّارَ" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7819 - على شرط مسلم
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قریشی لوگ آئے، اور کہنے لگے: ہمارے ساتھ ہمارے کچھ غلام اور خدام ہیں، ان کو دین اسلام میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ صرف ہمارے مویشیوں اور زراعت کی ذمہ داریوں سے جان چھڑانا چاہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے گروہ قریش، اللہ کی قسم! تمہیں ہر صورت میں نماز قائم کرنا ہو گی اور زکاۃ دینا ہو گی ورنہ میں تم پر ایسا آدمی مسلط کروں گا جو دین کے معاملہ میں تمہاری گردنیں مار دے گا۔ پھر فرمایا: میں یا جوتے سینے والا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے میں سی رہا تھا۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے مجھ پر جھوٹ بولا، وہ دوزخ میں جائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 8013]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8014
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دِينار العَدْل الزاهد، حدثنا أحمد بن محمد بن نصر (1) ، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا إسماعيل بن قيس بن سعد بن زيد بن ثابت الأنصاري، حدثني أبي، عن خارجة بن زيد، عن زيد قال: بينما رسولُ الله ﷺ جالسٌ مع أصحابه يُحدِّثُهم إذ قام فدخلَ فقام زيدٌ فجلَسَ في مَجلِس النبيِّ ﷺ وجعل يُحدِّثهم عن النبيِّ ﷺ، إذ مُرَّ بلحمِ هديةٍ إلى رسول الله ﷺ، فقال القوم لزيدٍ - وكان أحدَثَهم سِنًّا -: يا أبا سعيد، لو قمتَ إلى النبيِّ ﷺ فأقرأتَه منَّا السلامَ، وتقول له: يقولُ لك أصحابُك: إنْ رأيتَ أن تَبعَثَ إلينا من هذا اللَّحم، فقال:"ارجِعْ إليهم فقد أكلُوا لحمًا بعدَك" فجاء زيدٌ فقال: قد بلَّغتُ النبيَّ ﷺ الذي أرسلتموني به، فقال:"ارجِعْ إليهم فقد أكلُوا لحمًا بعدَك" فقال القوم: ما أكلنا لحمًا، وإنَّ هذا لأمرٍ حَدَثَ، فانطلِقوا بنا إلى رسول الله ﷺ نسألُه ما هذا، فجاؤوا إلى رسول الله ﷺ فقالوا: يا رسولَ الله، أرسَلْنا إليك في اللَّحم الذي جاءك، فزَعَمَ زيدٌ أنهم قد أكلوا لحمًا! فوالله ما أكلنا لحمًا، فقال رسولُ الله ﷺ:"كأنّي أنظرُ إلى خُضرةِ لحم زيدٍ في أسنانِكم" فقالوا: أيْ رسولَ الله، فاستَغفِرْ لنا، قال: فاستغفرَ لهم (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7820 - إسماعيل بن قيس بن سعد بن زيد بن ثابت ضعفوه
سیدنا زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام کے ہمراہ تشریف فرما تھے، اچانک آپ اٹھ کر گھر تشریف لے گئے، سیدنا زید اپنی جگہ سے اٹھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ کے قریب بیٹھ گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سنانے لگ گئے، اسی اثناء میں ایک آدمی گوشت لے کر گزرا، وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ دینے جا رہا تھا، سیدنا زید رضی اللہ عنہ عمر میں سب سے چھوٹے تھے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے زید رضی اللہ عنہ سے کہا: تم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ، ہمارا سلام عرض کرنے کے بعد کہنا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کے ساتھی کہہ رہے ہیں کہ اگر آپ مناسب سمجھیں تو اس گوشت میں سے کچھ ہمیں بھی عطا فرما دیجئے۔ (سیدنا زید رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئے اور صحابہ کرام کا پیغام پہنچایا،) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان کے پاس واپس چلے جاؤ، انہوں نے تیری غیر موجودگی میں گوشت کھا لیا ہے، سیدنا زید رضی اللہ عنہ واپس آ گئے اور آ کر بتایا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: تم ان کے پاس چلے جاؤ، انہوں نے تمہاری غیر موجوگی میں گوشت کھا لیا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ہم نے تو کوئی گوشت نہیں کھایا، یہ تو انوکھی بات ہو گئی ہے، تم ہمارے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں چلو، ہم اس معاملہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خود بات کرتے ہیں۔ یہ سب لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے اس کو آپ کی خدمت میں وہ گوشت لینے کے لیے بھیجا تھا جو آپ کے پاس تحفہ آیا تھا، یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم نے ان کی غیر موجودگی میں گوشت کھایا ہے، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم! ہم نے گوشت نہیں کھایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو اب بھی تمہارے دانتوں میں زید کے گوشت کی باقیات دیکھ رہا ہوں، وہ لوگ کہنے لگے۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے بخشش کی دعا فرما دیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے مغفرت کی دعا فرمائی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 8014]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں