سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
55. باب فِي صَوْمِ الْمُحَرَّمِ
باب: محرم کے روزے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2429
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ شَهْرُ اللَّهِ الْمُحَرَّمُ، وَإِنَّ أَفْضَلَ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْمَفْرُوضَةِ صَلَاةٌ مِنَ اللَّيْلِ". لَمْ يَقُلْ قُتَيْبَةُ: شَهْرٌ، قَالَ: رَمَضَانُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ماہ رمضان کے روزوں کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والے روزے محرم کے ہیں جو اللہ کا مہینہ ہے، اور فرض نماز کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والی نماز رات کی نماز (تہجد) ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2429]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے افضل روزے ماہ رمضان کے بعد، اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں، اور سب سے افضل نماز فرضوں کے بعد رات کی نماز ہے۔“ قتیبہ بن سعید نے «شَهْر» کا لفظ استعمال نہیں کیا، بلکہ صرف «رَمَضَان» کہا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2429]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصیام 38 (1163)، سنن الترمذی/الصلاة 207 (438)، الصوم 40 (740)، سنن النسائی/قیام اللیل 6 (1614)، سنن ابن ماجہ/الصیام 43 (1742)، (تحفة الأشراف: 12292)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/302، 329، 342، 344، 535) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1163)
حدیث نمبر: 2430
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ يَعْنِي ابْنَ حَكِيمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنْ صِيَامِ رَجَبٍ. فَقَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ".
عثمان بن حکیم کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر سے رجب کے روزوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے بتایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے تو رکھتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم کہتے: افطار ہی نہیں کریں گے، اسی طرح جب روزے چھوڑتے تو چھوڑتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم کہتے: اب روزے رکھیں گے ہی نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2430]
عثمان بن حکیم کہتے ہیں کہ ”میں نے سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے رجب کے روزے کے متعلق سوال کیا“ تو انہوں نے کہا: ”مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھا کرتے تو ہم کہتے: ”اب نہیں چھوڑیں گے“ اور کبھی چھوڑ دیتے تو ہم کہتے: ”اب نہیں رکھیں گے۔““ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2430]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصیام 34 (1157)، (تحفة الأشراف: 5554)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الصیام 41 (2348، 2348)، سنن ابن ماجہ/الصیام 30 (1711)، مسند احمد (1/226، 227، 231، 326) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ باب کئی نسخوں میں نہیں ہے، جب کہ مولانا وحیدالزماں کے نسخہ میں موجود ہے، اور تبویب حدیث کے مطابق ہے، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1971 مختصرًا) صحيح مسلم (1157)