🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

49. أَفْضَلُ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ 8226 - أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْفَقِيهُ بِالرَّيِّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ، ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ -: " مَنْ أَذْنَبَ ذَنْبًا فِي الدُّنْيَا فَسَتَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَفَا عَنْهُ فَاللَّهُ أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ فِي شَيْءٍ قَدْ عَفَا عَنْهُ وَسَتَرَهُ، وَمَنْ أَذْنَبَ ذَنْبًا فِي الدُّنْيَا فَعُوقِبَ عَلَيْهِ فَاللَّهُ أَعْدَلُ مِنْ أَنْ يُثَنِّيَ عُقُوبَتَهُ عَلَى عَبْدٍ مَرَّتَيْنِ "
کتاب اللہ کی سب سے افضل آیت (کا مفہوم) کہ تمہیں جو مصیبت پہنچتی ہے (وہ تمہارے اعمال کی وجہ سے ہے)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8363
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا يونس بن بُكَير، حدثني محمد بن إسحاق، حدثني عاصم بن عمر بن قَتَادة، عن أبيه، عن جدِّه قَتَادة بن النُّعمان قال: كان بنو أُبَيرِق رَهْطًا (2) من بني ظَفَر، وكانوا ثلاثةً: بُشَيرٌ (3) وبِشْر ومُبشِّر، وكان بُشَير يُكنى أبا طُعْمة، وكان شاعرًا، وكان منافقًا، وكان يقول الشِّعر يَهجُو به أصحابَ رسولِ الله ﷺ ثم يقولُ: قاله فلان، فإذا بلغَهم ذلك قالوا: كَذَبَ عدوُّ الله، ما قاله إلا هو، فقال: أفكلَّما قال الرِّجالُ قصيدةً … ضمُّوا إليَّ بأنْ أُبَيرقُ قالَها (4) مُتخطِّمِينَ كأَنَّني أخشاهمُ … جَدَعَ الإلهُ أُنوفَهم فأبانَها وكانوا أهلَ فَقرٍ وحاجةٍ في الجاهلية والإسلام، وكان عمِّي رفاعةُ بن زيد رجلًا مُوسِرًا أدرَكَه الإسلامُ، فوالله إن كنتُ لأرى أنَّ في إسلامه شيئًا، فكان الرجلُ إذا كان له يَسارُ فَقَدِمَت عليه هذه الطائفةُ (1) من الشام (2) تحملُ الدَّرْمَكَ، ابتاع لنفسِه ما يَخُصُّ به (3) ، فأما العِيالُ فكان يَقِيتُهم الشعيرُ. فقَدِمَت طائفة - وهم الأنباط - تحمل دَرْمَكًا، فابتاع رفاعةُ حِملَينِ من شعير، فجعلهما في عِلِّيّة له، وكان في عِلَّيْته دِرْعانِ له وما يُصلِحُهما من آلتِهما، فيطرقُه بُشَيرٌ من الليل فيَخرقُ العِّلَّيّة من ظَهرها، فأخذَ الطعامَ، ثم أخذَ السِّلاح، فلمَّا أصبحَ عمِّي بعث إليَّ فأتيتُه، فقال: أغِيرَ علينا هذه الليلةَ فذُهِبَ بطعامِنا وسلاحنا، فقال بُشيرٌ وإخوتُه: والله ما صاحبُ متاعِكم إلَّا لبيدُ بن سهل؛ لرجل منَّا كان ذا حَسَب وصلاح، فلما بَلَغَه قال: أُصلِتُ والله بالسيفِ، ثم قال: أيْ بني الأبَيرِق: أنا أَسرِقُ؟! فوالله ليخالطَنَّكم هذا السيفُ، أو لَتُبيِّنُنَّ مَن صاحبُ هذه السرقة، فقالوا: انصرف عنَّا، فوالله إنك لبرئٌ من هذه السرقة، فقال: كلا وقد زعمتُم. ثم سَأَلْنا في الدار وتَحسَّسْنا حتى قيل لنا: والله لقد استَوقَدَت بنو أُبيرق الليلة، وما نُراه إلا على طعامِكم، فما زلنا حتى كِدْنا نستيقنُ أنهم أصحابُه، فجئتُ رسولَ الله ﷺ فكلَّمتُه فيهم، فقلتُ: يا رسول الله، إنَّ أهل بيتٍ منَّا أَهلَ جَفَاءٍ وسَفَهٍ عَدَوْا على عمِّي، فخَرَقُوا عِلَّيّةً له من ظهرها فعَدَوا على طعامٍ وسلاحٍ، فأما الطعامُ فلا حاجة لنا فيه، وأما السلاحُ فليرُدُّوه علينا، فقال رسول الله ﷺ:"سأنظُرُ في ذلك". وكان لهم ابن عمٍّ يقال له: أُسَيْر بن عُروة، فجَمَع رجال قومِه، ثم أتى رسول الله ﷺ، فقال: إنَّ رفاعةَ بن زيد وابنَ أخيه قَتَادة بن النُّعمان قد عَمَدا إلى أهل بيتٍ منَّا أهلِ حَسَبٍ وشرفٍ وصلاح، يَأبِنُونهم بالقَبيح، ويَأبِنُونهم بالسَّرقة بغير بيِّنة ولا شهادة، فوَضَعَ عندَ رسولِ الله ﷺ بلسانِه ما شاء، ثم انصرف، وجئتُ رسول الله ﷺ وكلَّمتُه، فنَجَهَني نَجْهًا (1) شديدًا وقال:"بئسَ ما صنعتَ، وبئسَ ما شئتَ فيه، عَمَدتَ إلى أهل بيتٍ منكم أهل حَسَبٍ وصلاح تَرمِيهم بالسَّرقة، وتَأبِنُهم فيها بغير بيِّنة ولا تثبُّتٍ". فسمعتُ مِن رسول الله ﷺ ما أكرَهُ، فانصرفتُ عنه ولوَدِدتُ أَنِّي خرجتُ من مالي ولم أكلِّمْه. فلمَّا أن رجعتُ إلى الدار أرسلَ إليَّ عمِّي: يا ابنَ أخي، ما صنعتَ؟ فقلتُ: والله لوَدِدتُ أنّي خرجتُ من مالي ولم أُكلِّمْ رسول الله ﷺ فيه، وايمُ الله لا أعودُ إليه أبدًا، فقال: الله المستعانُ، فنزل القرآنُ: ﴿إِنَّا أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللَّهُ وَلَا تَكُنْ لِلْخَائِنِينَ خَصِيمًا﴾ [النساء: 105] أبو طُعْمة بن أُبَيرِق ﴿وَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ﴾ فقرأ حتى بلَغَ ﴿يَرْمِ بِهِ بَرِيئًا﴾ [النساء:112] لَبِيدَ بن سهل ﴿وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ وَرَحْمَتُهُ لَهَمَّتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ أَنْ يُضِلُّوكَ﴾ يعنى أُسير بن عُرْوة وأصحابَه، ثم قال - يعني بذلك أسير بن عُرْوة وأصحابه: ﴿لَا خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِنْ نَجْوَاهُمْ﴾ إلى قوله: ﴿وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ﴾ [النساء: 112 - 116] أي: كان ذَنبُه دونَ الشِّرك، فلما نزلَ القرآنُ هَرَبَ فَلَحِقَ بمكة، وبعثَ رسولُ الله ﷺ إليَّ الدِّرعَينِ وأداتَهما، فردَّهما على رفاعةَ. قال قَتَادة: فلما جئتُه بهما وما معهما قال: يا ابن أخي، هما في سبيل الله ﷿، فرَجَوتُ أنَّ عمِّي حَسُنَ إسلامه، وكان ظنِّي به غيرَ ذلك. وخرج ابن أُبيرِق حتى نزل على سُلافةَ (2) بنتِ سعد بن شُهَيد أُختِ بني عمرو ابن عوف، وكانت عند طلحةَ بن أبي طلحة بمكة، فوقع برسولِ الله ﷺ وأصحابه يَشتِمُهم، فرَمَاه حسانُ بن ثابت بأبياتٍ فقال: وما سارقُ (1) الدِّرعَينِ إن كنتَ ذاكرًا … بذي كَرَمٍ [من] الرجالِ أُوادِعُهْ وقد أنزلَتْه بنتُ سعدٍ فأصبَحَتْ … يُنازِعُها جِلدَ استِه وتُنازِعُهْ فهلَّا أُسَيرًا جنتَ جارَكَ راغبًا … إليه ولم تَعمِدْ له فتُرافِعُهْ ظننتُمْ بأن يخفى الذي قد فعلتُمُ … وفيكم نبيٌّ عندَه الوحيُ واضِعُهْ (2) فلولا رِجالٌ منكمُ تَشتُمونَهُمْ … بذاكَ لقد حَلَّتْ عليكم (3) طوالِعُهْ فإنْ تَذكرُوا كعبًا إذا ما (4) نَسيتُمُ … فَهَلْ مِن أَديمٍ ليسَ فيه أَكارِعُهْ وجدتُهمُ يُرجونكُمْ قد عَلِمْتُمُ … كما الغَيثُ يُرْجِيهِ السَّمِينُ وتابعُهْ فلما بلغَها شِعرُ حسانَ أَخَذَت رَحْلَ أُبيرِق، فَوَضَعَته على رأسها حتى قَذَفَته بالأَبطَح، ثم حَلَقتْ وسَلَقتْ وخَرَقتْ وحَلَفَت: أن بِتَّ في بيتي ليلةً سوداء، أهديتَ لي شِعرَ حسان بن ثابت، ما كنتَ لَتَنزل عليَّ بخيرٍ، فلما أخرجَتْه لَحِقَ بالطائف، فدخل بيتًا ليس فيه [أحدٌ] (5) فوَقَعَ عليه فقتله، فجَعَلَت قريشٌ تقول: والله لا يُفارِقُ محمدًا أحدٌ من أصحابه فيه خيرٌ (6) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8164 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنو ابیرق، بنی ظفر کی ایک شاخ ہے، یہ تین بھائی تھے، بشیر، بشر اور مبشر۔ بشیر کی کنیت ابوطعمہ تھی، وہ شاعر تھا، منافق تھا، یہ اپنی شاعری میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو سب و شتم کیا کرتا تھا، اور یہ اشعار کسی اور کے نام منسوب کر دیا کرتا تھا، جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس کی حرکتوں کا پتا چلتا تو وہ سمجھ جاتے کہ یہ اشعار اس نے خود ہی لکھے ہیں، یہ ہمیں جھوٹ بتا رہا ہے۔ پھر اس نے کہا: جب کبھی بھی کوئی شخص قصیدہ کہتا ہے تو مجھے مغلوب کرنے کے لئے وہ میری طرف منسوب کر کے کہتا ہے کہ یہ قصیدہ ابن ابیرق نے کہا ہے۔ میں ان سے ڈرتا نہیں ہوں، اللہ کرے کہ ان کے ناک کان کٹ کر الگ ہو جائیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم زمانہ جاہلیت میں اور اسلام میں بہت غریب ہوتے تھے، اور میرے چچا رفاعہ بن زید مالدار شخص تھے، انہوں نے اسلام کا زمانہ بھی پایا ہے، اللہ کی قسم! میں ان کے اسلام میں کوئی شک نہیں کرتا، ان کی عادت تھی کہ جب بھی ان کے پاس دولت آتی، ان کے پاس ضرورت مند مسافر آتے، وہ آٹا بیچ کر اپنی ضرورت کی اشیاء خریدتے، اور وہ بچوں کا گزارا جوپر کرواتے تھے۔ چنانچہ کچھ مسافر آٹا بیچنے کے لئے ان کے پاس آئے، رفاعہ نے جو کے دو بورے ان سے خرید لئے، اور وہ بالاخانے میں رکھوا دیئے، اس بالاخانے میں دو زرہیں اور ان سے متعلقہ سامان موجود تھا۔ بشیر نے رات کے وقت مکان کی پشت کی جانب سے بالاخانے کی دیوار پھاڑی، اور غلہ اور اسلحہ لے گیا، صبح ہوئی تو میرے چچا نے میری جانب پیغام بھیج کر مجھے بلوایا، میں ان کے پاس گیا، انہوں نے بتایا کہ گزشتہ رات واردات ہو گئی اور ہمارا طعام اور ہتھیار چوری ہو گئے ہیں، بشیر اور اس کے ساتھیوں نے کہا: اللہ کی قسم! تمہارا یہ سامان لبید بن سہل نے چرایا ہے، وہ شخص ہم میں حسب و نسب والا اور باعزت تھا، جب اس تک یہ بات پہنچی تو اس نے تلوار سونت کر کہا: اللہ کی قسم! اے بنی الابیرق کیا میں چوری کروں گا؟ اللہ کی قسم! میں تم پر یہ تلوار چلاؤں گا یا تم بتاؤ گے کہ یہ چوری کس نے کی ہے؟ انہوں نے کہا: ہماری جان چھوڑو، اللہ کی قسم! تو اس چوری سے بری ہے، اس نے کہا: ہرگز نہیں، تم تو مجھے چور سمجھتے ہو، پھر ہم نے اس گھر کا پوچھا اور تفتیش شروع کر دی، تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ بنو ابیرق نے گزشتہ رات آگ روشن کی تھی، اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ وہ صرف تمہارا غلہ چوری کرنے کے لئے ہی جلائی گئی ہو گی۔ ہم نے تفتیش کا سلسلہ جاری رکھا، حتیٰ کہ ہمیں یقین ہو گیا کہ یہی لوگ چور ہیں، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا، اور آپ سے ان کے متعلق بات کی، میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر والے مظلوم اور بھولے بھالے ہیں، کچھ لوگ میرے چچا پر چڑھ دوڑے، ان کا بالاخانہ پشت کی جانب سے پھاڑا، اور ان کا طعام اور ہتھیار وغیرہ چرا لئے، ہمیں طعام کی کوئی زیادہ ضرورت نہیں ہے، لیکن آپ ہمیں ہمارا اسلحہ واپس دلا دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس پر غور کرتا ہوں۔ ان کا ایک چچا زاد بھائی تھا، اس کو اسیر بن عروہ کہا جاتا تھا، وہ اپنے قبیلے کے لوگوں کو جمع کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لے آیا، اور کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رفاعہ بن یزید اور اس کے بھتیجے، قتادہ بن نعمان نے ہم باعزت شریف سادہ لوح لوگوں کو ذلیل و رسوا کر دیا ہے۔ انہوں نے ہم پر بہت برے الزامات لگائے ہیں، انہوں نے ہم پر چوری کا بھی الزام لگایا ہے، حالانکہ ان کے پاس کوئی گواہ نہیں ہے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان لوگوں کی بہت برائی کی، اور پھر واپس چلا گیا، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، اور آپ سے اس موضوع پر بات چیت کی، آپ نے مجھے بہت سختی سے جھنجھوڑا اور فرمایا: تم نے جو کچھ بھی کیا ہے، اچھا نہیں کیا، تو نے اپنے قبیلے کے عزت دار، شریف اور سادہ لوح لوگوں پر چوری کا الزام لگایا ہے، اور بغیر ثبوت کے، بغیر گواہوں کے ان کو ذلیل کیا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو باتیں سنیں، وہ باتیں مجھے ذرا بھی اچھی نہیں لگیں، میں وہاں سے واپس آ گیا اور میرا ارادہ بن رہا تھا کہ میں اپنے مال کے قضیے سے ہی نکل جاؤں گا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کلام نہیں کروں گا۔ جب میں اپنی حویلی میں واپس آیا تو میرے چچا نے میری جانب پیغام بھجوایا کہ اے بھتیجے! تو نے کیا کیا؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے ارادہ کر لیا ہے کہ میں اپنے مال کے قضیے سے نکل جاؤں گا اور اس سلسلے میں اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی کلام نہیں کروں گا، اور اللہ کی قسم! میں اس معاملے میں دوبارہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نہیں جاؤں گا، انہوں نے فرمایا: اللہ ہی سے مدد لی جاتی ہے۔ اس وقت قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی۔ انا انزلنا الیک الکتاب بالحق لتحکم بین الناس بما اراک اللہ ولا تکن للخائنین خصیما (النساء: 105) اے محبوب بے شک ہم نے تمہاری طرف سچی کتاب اتاری کہ تم لوگوں میں جس طرح تمہیں اللہ دکھائے اور دغا والوں کی طرف سے نہ جھگڑو اس میں خائن سے مراد طعمہ بن ابیرق ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی حتیٰ کہ آپ ثم یرم بہ بریئا پھر اسے کسی بے گناہ پر تھوپ دے تک پہنچے، اس میں بری سے مراد لبید بن سہل ہے۔ پھر فرمایا: ولو لا فضل اللہ علیک و رحمۃ لھمت طائفۃ منھم ان یضلوک اے محبوب اگر اللہ کا فضل و رحمت تم پر نہ ہوتا تو ان میں سے کچھ لوگ یہ چاہتے کہ تمہیں دھوکا دے دیں اس سے مراد اسیر بن عروہ اور اس کے ساتھی ہیں، پھر فرمایا: لا خیر فی کثیر من نجواھم (النساء: 114)۔ الی قولہ۔ (و یغفر ما دون ذلک لمن یشاء ان کے اکثر مشوروں میں کچھ بھلائی نہیں مگر جو حکم دے خیرات یا اچھی بات یا لوگوں میں صلح کرنے کا اور جو اللہ کی رضا چاہنے کو ایسا کرے اسے عنقریب ہم بڑا ثواب دیں گے اور جو رسول کا خلاف کرے بعد اس کے کہ حق راستہ اس پر کھل چکا اور مسلمانوں کی راہ سے جدا راہ چلے ہم اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں گے اور اسے دوزخ میں داخل کریں گے اور کیا ہی بری جگہ پلٹنے کی، اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کا کوئی شریک ٹھہرایا جائے اور اس سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرما دیتا ہے اور جو اللہ کا شریک ٹھہرائے وہ دور کی گمراہی میں پڑا یعنی شرک سے کمتر کوئی بھی گناہ ہو، اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا۔ جب قرآن کریم کی یہ آیات نازل ہوئیں تو وہ بھاگ کر مکہ چلا گیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں زرہیں اور ان کا سامان میری جانب بھیج دیا، میں نے وہ رفاعہ کو واپس کر دیا۔ سیدنا قتادہ فرماتے ہیں: جب میں ان کی دونوں زرہیں اور ان کا سامان لے کر ان کے پاس گیا تو انہوں نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! یہ دونوں میں نے اللہ کی راہ میں وقف کیں، مجھے امید ہو گئی کہ میرا چچا مشرف با اسلام ہو جائے گا، اس سے پہلے ان کے بارے میں میرا گمان کچھ اور تھا۔ ابن ابیرق وہاں سے نکلا اور بنی عمرو بن عوف کی بہن سلامہ بنت سعد بن سہل کے پاس پہنچ گیا، سلامہ، طلحہ بن ابی طلحہ کے نکاح میں، مکہ میں تھیں، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بہت بکواس کرتا ہوا آیا اور صحابہ کرام کو بھی برا بھلا کہنے لگا۔ سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے اشعار میں اس کی بکواسات کا جواب دیا۔ جب سیدنا حسان کے اشعار سلامہ تک پہنچے تو اس نے ابیرق کا کجاوہ پکڑا، اس کو اپنے سر پر رکھا اور اٹھا کر نالے میں پھینک دیا، اس کا سر مونڈ دیا، اس کو برا بھلا کہا، اس کے کپڑے پھاڑ ڈالے اور یہ قسم کھائی کہ تیری وجہ سے حسان نے میرے بارے میں یہ اشعار کہے ہیں تو نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا اگر تو نے میرے گھر میں رات گزاری تو تیری خیر نہیں ہو گی، جب سلامہ نے اس کو اپنے گھر سے نکال دیا تو وہ طائف میں چلا گیا، وہاں جا کر ایک خالی گھر میں گھس گیا، وہ مکان اس کے اوپر گر گیا اور وہ نیچے دب کر مر گیا، اس کے بعد قریش کہا کرتے تھے اللہ کی قسم! محمد کے جس صحابی میں بھلائی ہوتی ہے وہ کبھی بھی محمد کو نہیں چھوڑتا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8363]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8364
أخبرني إسماعيل بن محمد بن إسماعيل الفقيه بالرَّي، حدَّثنا محمد بن الفَرَج، حدَّثنا حجَّاج بن محمد، حدَّثنا يونس بن أبي إسحاق، عن أبيه، عن أبي جُحَيفة، عن علي قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن أذنبَ ذنبًا في الدنيا فسَتَرَه الله عليه وعَفَا عنه، فالله أكرمُ من أن يَرجعَ في شيء قد عَفَا عنه وسَتَره، ومَن أذنب ذنبًا في الدنيا فعُوقِبَ عليه، فالله أعدلُ من أن يُثنِّيَ عقوبتَه على عبدٍ مرَّتينِ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه. وله شاهدٌ بزيادة ألفاظٍ وتلاوةٍ من القرآن فيه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8165 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے دنیا میں کوئی گناہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کی پردہ پوشی فرما دی، اور اس کو معاف کر دیا، تو اللہ تعالیٰ کی شان کریمی سے یہ قومی امید ہے کہ جس گناہ کو ایک مرتبہ چھپا چکا ہے اور معاف کر چکا ہے، اس کو دوبارہ نہیں کھولے گا۔ اور جس نے دنیا میں کوئی گناہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے دنیا ہی میں اس کو اس گناہ کی سزا دے دی تو اللہ تعالیٰ کی شان عدل سے یہ قوی امید ہے کہ وہ اپنے بندے کو ایک گناہ کی دو مرتبہ سزا نہیں دے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے، اس میں چند الفاظ زائد ہیں، اور اس میں قرآن کریم کی آیات بھی موجود ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8364]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8365
حدَّثَناه الحسين بن علي التَّميمي، حدَّثنا عبد الله بن محمد محمد البَغَوي، حدَّثنا جدِّي، حدَّثنا مروان (2) بن معاوية، عن أزهَرَ بن راشد الكاهِلي [عن الخَضِر بن القَوّاس] (3) عن أبي سُخَيلةَ، قال: قال لنا أمير المؤمنين عليُّ بن أبي طالب: ألا أخبرُكم بأفضل آيةٍ في كتاب الله ﷿ أخبَرني بها نبيُّ الله ﷺ: ﴿وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ﴾ [الشورى: 30] ، فالله أكرمُ من أن يُثنِّيَ عليهم العقوبةَ، وما عفا الله عنه في الدنيا فالله أكرمُ من أن يعودَ في عفوِه (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8166 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابوسخیلہ فرماتے ہیں: امیرالمومنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی آیت نہ بتاؤں، جو قرآن کریم میں سے سب سے افضل ہے؟ مجھے اللہ تعالیٰ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا (وہ آیت یہ ہے) ما اصابکم (الشوری: 30) من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم و یعفو عن کثیر اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ اس کے سبب سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایا اور بہت کچھ تو معاف فرما دیتا ہے جب مصیبت انسان کے اپنے ہاتھوں سے آتی ہے، تو اللہ تعالیٰ کی شان عدل سے یہی امید ہے کہ وہ اپنے بندے کو ایک گناہ کی دو مرتبہ سزا نہیں دے گا، اور جو گناہ اس نے دنیا میں معاف کر دیا ہے، اللہ تعالیٰ کی شان کریمی سے یہی امید ہے کہ وہ دی ہوئی معافی واپس نہیں لے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8365]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں