المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
15. بَيَانُ كَاذِبَيْنِ مُسَيْلِمَةُ وَالْعَدَنِيُّ صَاحِبُ عَنْسَاءَ
دو جھوٹے دعویداروں (مسیلمہ اور عنسی) کے انجام کا بیان
حدیث نمبر: 8402
أخبرَناه أبو الحسين علي بن عبد الرحمن السَّبيعي (2) بالكوفة، حَدَّثَنَا أحمد بن حازمٍ الغِفَاريّ، حَدَّثَنَا خالد بن مَخْلَد القَطَواني، قال: حدثني موسى بن يعقوب الزَّمْعي، أخبرني هاشم بن هاشم بن عُتْبة بن أبي وَقّاص، عن عبد الله بن وهب بن زَمْعة، قال: أخبرتنى أم سَلَمة: أنَّ رسول الله ﷺ اضطَجَعَ ذات ليلةٍ للنوم فاستيقظ وهو خاثرٌ، ثم اضطجع فرَقَدَ، ثم استيقظ خاثرًا دون ما رأيتُ به المرةَ الأُولى، ثم اضطجع فاستيقظ وفي يده تُرْبةٌ حمراءُ يُقلِّبُها (3) ، فقلتُ: ما هذه التربةُ يا رسول الله؟ قال:"أخبرَني جبريل ﵇ أنَّ هذا يُقتَلُ بأرض العِرَاق - للحُسين - فقلتُ لجبريل: أَرِني تربةَ الأرض التي يُقتَل بها، فهذه تُربَتُها" (4) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8202 - مر هذا على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8202 - مر هذا على شرط البخاري ومسلم
ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ رات کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونے کے لئے لیٹے، کچھ دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر بیٹھ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت پریشان تھے، پھر آپ لیٹ کر سو گئے، کچھ دیر بعد پھر اٹھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اب بھی پریشان تھے، لیکن اب کی بار پہلے سے کچھ کم پریشان تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہر لیٹ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں سرخ رنگ کی مٹی تھی، آپ اس کو بار بار چوم رہے تھے، میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ مٹی کہاں سے آئی؟ (اور آپ اس کو یوں بار بار کیوں چوم رہے ہیں؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے جبریل امین علیہ السلام نے بتایا ہے کہ یہ عراق کا وہ مقام ہے جہاں پر حسین کو شہید کیا جائے گا، میں نے جبریل امین علیہ السلام سے کہا: جس جگہ حسین کو شہید کیا جائے گا، مجھے اس زمین کی مٹی دکھاؤ، مٹی اسی کربلا کی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا/حدیث: 8402]
حدیث نمبر: 8403
أخبرنا أبو سهل أحمد بن محمد بن زياد القَطَّان ببغداد، أخبرنا عبد الكريم بن الهَيْثم الدَّيْرعاقُوليُّ، حَدَّثَنَا أبو اليَمَان، أخبرنا شعيب بن أبي حمزة، عن ابن أبي حُسين، عن نافع بن جُبير، عن ابن عباس، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"رأيتُ في المنام كأنَّ في يَديَّ سِوَارَينِ من ذهب، فهَمَّني شأنُهُما، فأُوحِيَ إِليَّ: أَنِ انفُخُهما، فنفختُهما فطَارَا، فأوَّلتُهما كاذِبَين يَخرُجان من بَعْدي، يقال لأحدهما: مُسَيلِمةُ صاحب اليَمَامة، والعَدَنيُّ صاحب عَنْسا (1) " (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8203 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8203 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا ہے جیسے میرے ہاتھ میں سونے کے دو كنگن ہوں، مجھے یہ بات بہت عجیب لگ رہی تھی، پھر میری طرف وحی کی گئی کہ میں ان کو پھونک ماروں، میں نے پھونک ماری تو وہ دونوں اڑ گئے، میں نے اس کی تعبیر یہ نکالی ہے کہ یہ دو کذاب ہوں گے جو میرے بعد نبوت کا دعوی کریں گے۔ آپ نے فرمایا: ان میں سے ایک مسیلمہ ہے ” یمامہ والا “۔ اور دوسرا عدنی ہے ” عنساء والا “۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا/حدیث: 8403]