🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. بيان كاذبين مسيلمة والعدني صاحب عنساء
دو جھوٹے دعویداروں (مسیلمہ اور عنسی) کے انجام کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8403
أخبرنا أبو سهل أحمد بن محمد بن زياد القَطَّان ببغداد، أخبرنا عبد الكريم بن الهَيْثم الدَّيْرعاقُوليُّ، حَدَّثَنَا أبو اليَمَان، أخبرنا شعيب بن أبي حمزة، عن ابن أبي حُسين، عن نافع بن جُبير، عن ابن عباس، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"رأيتُ في المنام كأنَّ في يَديَّ سِوَارَينِ من ذهب، فهَمَّني شأنُهُما، فأُوحِيَ إِليَّ: أَنِ انفُخُهما، فنفختُهما فطَارَا، فأوَّلتُهما كاذِبَين يَخرُجان من بَعْدي، يقال لأحدهما: مُسَيلِمةُ صاحب اليَمَامة، والعَدَنيُّ صاحب عَنْسا (1) " (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8203 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا ہے جیسے میرے ہاتھ میں سونے کے دو كنگن ہوں، مجھے یہ بات بہت عجیب لگ رہی تھی، پھر میری طرف وحی کی گئی کہ میں ان کو پھونک ماروں، میں نے پھونک ماری تو وہ دونوں اڑ گئے، میں نے اس کی تعبیر یہ نکالی ہے کہ یہ دو کذاب ہوں گے جو میرے بعد نبوت کا دعوی کریں گے۔ آپ نے فرمایا: ان میں سے ایک مسیلمہ ہے یمامہ والا ۔ اور دوسرا عدنی ہے عنساء والا ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8403]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8403 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) هكذا في النسخ الخطية، والذي في مصادر التخريج: "والعنسي صاحب صنعاء"، وهو الصواب.
📝 نوٹ / توضیح: (1) قلمی نسخوں میں ایسے ہی ہے، جبکہ تخریج کے مصادر میں "والعنسی صاحب صنعاء" ہے، اور یہی درست ہے۔
(2) إسناده صحيح. أبو اليمان: هو الحكم بن نافع، وابن أبي حسين: هو عبد الله.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو الیمان سے مراد "حکم بن نافع"، اور ابن ابی حسین سے مراد "عبداللہ" ہیں۔
(2) إسناده صحيح. أبو اليمان: هو الحكم بن نافع، وابن أبي حسين: هو عبد الله. وأخرجه البخاري (3621) و (4374)، ومسلم (2274) (21)، والترمذي (2292)، والنسائي (7602) من طريق أبي اليمان، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه ﵀.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صحیح ہے۔ ابو الیمان سے مراد "حکم بن نافع"، اور ابن ابی حسین سے مراد "عبداللہ" ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری (3621، 4374)، مسلم (2274/ 21)، ترمذی (2292) اور نسائی (7602) نے ابو الیمان سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: پس حاکم کا اسے مستدرک میں لانا ان کی بھول ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 13/ (8249)، والبخاري (4375) و (7037)، ومسلم (2274) (22) من طريق همام بن منبه، وأحمد 14 / (8460) و (8530)، وابن ماجه (3922)، وابن حبان (6653) من طريق أبي سلمة بن عبد الرحمن، كلاهما عن أبي هريرة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے اسی طرح احمد (13/ 8249)، بخاری (4375، 7037)، مسلم (2274/ 22) نے ہمام بن منبہ کے طریق سے؛ اور احمد (14/ 8460، 8530)، ابن ماجہ (3922) اور ابن حبان (6653) نے ابو سلمہ بن عبدالرحمن کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ دونوں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔