المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
2. خَيْرُ مَا أُعْطِيَ الْإِنْسَانُ خُلُقٌ حَسَنٌ
انسان کو عطا کی گئی بہترین چیز حسنِ اخلاق ہے
حدیث نمبر: 8415
حَدَّثَنَا أبو بكر بن إسحاق وعلي بن حَمْشاذَ وأبو بكر الشافعي، قالوا: حَدَّثَنَا بِشْر بن موسى، حَدَّثَنَا الحُميديُّ، حَدَّثَنَا سفيان، عن زياد بن عِلاقة (4) . ومنهم عثمان بن حَكِيم الأَوْدي:
سفیان نے زیاد بن علاقہ سے اسی حدیث كو روایت كیا ہے۔ عثمان بن حکیم اودی کی روایت کردہ حدیث [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 8415]
حدیث نمبر: 8416
حدَّثَناه أبو جعفر محمد بن أحمد بن سعيد المُذكِّر، حَدَّثَنَا أبو زُرْعة عبيد الله بن عبد الكريم الرازي، حَدَّثَنَا إبراهيم بن موسى، حَدَّثَنَا عيسى بن يونس (5) ، حَدَّثَنَا عثمان بن حَكِيم، عن زياد بن عِلاقة - واللفظُ لحديث أبي زُرعة الإمام (1) - حَدَّثَنَا أسامة بن شَريك، قال: كنّا جلوسًا عند النَّبِيّ ﷺ كأنما على رؤوسنا الطيرُ، لا يتكلّمُ مِنَّا مُتكلِّمٌ، إذ جاءه ناسٌ من الأعراب فقالوا: يا رسول الله، أفْتِنا في كذا، أفْتِنا في كذا، فقال:"يا أيها الناس، وَضَعَ الله الحَرَجَ إِلَّا مَن اقتَرَض لأخيه عِرْضًا، فذلك الذي حَرِجَ وهَلَك". قالوا: أفنَتَداوى يا رسول الله؟ قال:"نعم، إنَّ الله ﷿ لم يُنزِلْ داءً إِلَّا أَنزل له شفاءً، غيرَ داءٍ واحد" قالوا: وما هو يا رسول الله؟ قال:"الهَرَمُ". قالوا: فمن أحبُّ عبادِ الله إلى الله؟ قال:"أحسَنُهم خُلُقًا" (2) . ومنهم شَيْبانُ بن عبد الرحمن النَّحْوي:
عثمان بن حکیم نے زیاد بن علاقہ سے روایت کیا ہے کہ اسامہ بن شریک فرماتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں یوں بیٹھے ہوتے تھے جیسا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں، سب خاموش بیٹھے رہتے، کوئی بھی بات نہ کرتا۔ جب کوئی دیہاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا، اپنی مشکلات اور پریشانیاں بیان کرتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف معاملات میں شرعی راہنمائی لیتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: اللہ تعالیٰ نے دشوار کام معاف فرما دیے ہیں سوائے اس شخص کے، کہ جس نے اپنے کسی مسلمان بھائی کی عزت اچھالی ہو، ایسا شخص حرج میں پڑا اور ہلاک ہو گیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم دوائی لے لیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی بیماری پیدا نہیں کی، جس کا علاج نہ ہو، سوائے ایک بیماری کے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ بیماری کون سی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑھاپا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: اللہ کے بندوں میں اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ کون پسند ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔ زہیر بن معاویہ جعفی کی روایت کردہ مذکورہ حدیث [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 8416]
حدیث نمبر: 8417
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حَدَّثَنَا أحمد بن مِهران، حَدَّثَنَا عبيد الله بن موسى، أخبرنا شَيْبان بن عبد الرحمن، عن زياد بن عِلاقة (3) . ومنهم وَرْقاء بن عُمر (4) اليَشكُري:
8417 - زیاد بن علاقہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے (پھر انہوں نے حدیث ذکر کی)۔ اور انہی (راویوں) میں سے ورقاء بن عمر یشکری بھی ہیں: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 8417]
حدیث نمبر: 8418
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا محمد بن عيسى بن حيّان المَدَائني، حَدَّثَنَا سلَّام بن سليمان المَدَائني، حَدَّثَنَا وَرْقاءُ، عن زياد بن عِلاقة (5) . ومنهم زهير بن معاوية الجُعْفي:
8418 - زیاد بن علاقہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے (پھر انہوں نے حدیث ذکر کی)۔ اور انہی (راویوں) میں سے زہیر بن معاویہ الجعفی بھی ہیں: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 8418]
حدیث نمبر: 8419
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حَدَّثَنَا يحيى ابن يحيى، أخبرنا أبو خَيثَمة زهير بن معاوية، عن زياد بن عِلاقةَ، عن أسامة بن شَريك (1) . ومنهم عمرو بن أبي قيس الرازي:
زہیر بن معاویہ نے زیاد بن علاقہ کے واسطے سے اسامہ بن شریک حدیث روایت کی ہے۔ سیدنا عمرو بن ابی قیس رازی رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ حدیث [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 8419]
حدیث نمبر: 8420
أخبرَناه عبد الصمد بن علي بن مُكرَم البزّاز ببغداد، حَدَّثَنَا يعقوب بن يوسف القَزْويني، حدثني محمد بن سعيد بن سابق، حَدَّثَنَا عمرو بن أبي قيس، عن سِماك بن حَرْب (2) . ومنهم محمد بن بِشْر بن بَشير الأسلميُّ، وهو من أعزِّ الثِّقات حديثًا:
عمرو بن ابی قیس نے سماک بن حرب سے یہی حدیث روایت کی ہے۔ محمد بن بشر بن بشیر کی روایت کردہ حدیث [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 8420]
حدیث نمبر: 8421
حدَّثَناه أبو الحسن محمد بن الحسن النَّصْراباذي، حَدَّثَنَا أبو محمد عبد الله بن إسحاق الدُّوريّ، حَدَّثَنَا أبو يعلى البَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أبو عاصم. قال الحاكم ﵀: وقد أُخبرتُ عن سليمان بن سَيْف (3) الحرَّاني، عن أبي عاصم، حَدَّثَنَا محمد بن بِشر بن بَشير الأسلميّ، عن زياد بن عِلاقة (4) . ومنهم إسرائيلُ بن يونس السَّبيعيُّ:
0 [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 8421]