المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
2. خير ما أعطي الإنسان خلق حسن
انسان کو عطا کی گئی بہترین چیز حسنِ اخلاق ہے
حدیث نمبر: 8416
حدَّثَناه أبو جعفر محمد بن أحمد بن سعيد المُذكِّر، حَدَّثَنَا أبو زُرْعة عبيد الله بن عبد الكريم الرازي، حَدَّثَنَا إبراهيم بن موسى، حَدَّثَنَا عيسى بن يونس (5) ، حَدَّثَنَا عثمان بن حَكِيم، عن زياد بن عِلاقة - واللفظُ لحديث أبي زُرعة الإمام (1) - حَدَّثَنَا أسامة بن شَريك، قال: كنّا جلوسًا عند النَّبِيّ ﷺ كأنما على رؤوسنا الطيرُ، لا يتكلّمُ مِنَّا مُتكلِّمٌ، إذ جاءه ناسٌ من الأعراب فقالوا: يا رسول الله، أفْتِنا في كذا، أفْتِنا في كذا، فقال:"يا أيها الناس، وَضَعَ الله الحَرَجَ إِلَّا مَن اقتَرَض لأخيه عِرْضًا، فذلك الذي حَرِجَ وهَلَك". قالوا: أفنَتَداوى يا رسول الله؟ قال:"نعم، إنَّ الله ﷿ لم يُنزِلْ داءً إِلَّا أَنزل له شفاءً، غيرَ داءٍ واحد" قالوا: وما هو يا رسول الله؟ قال:"الهَرَمُ". قالوا: فمن أحبُّ عبادِ الله إلى الله؟ قال:"أحسَنُهم خُلُقًا" (2) . ومنهم شَيْبانُ بن عبد الرحمن النَّحْوي:
عثمان بن حکیم نے زیاد بن علاقہ سے روایت کیا ہے کہ اسامہ بن شریک فرماتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں یوں بیٹھے ہوتے تھے جیسا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں، سب خاموش بیٹھے رہتے، کوئی بھی بات نہ کرتا۔ جب کوئی دیہاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا، اپنی مشکلات اور پریشانیاں بیان کرتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف معاملات میں شرعی راہنمائی لیتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: اللہ تعالیٰ نے دشوار کام معاف فرما دیے ہیں سوائے اس شخص کے، کہ جس نے اپنے کسی مسلمان بھائی کی عزت اچھالی ہو، ایسا شخص حرج میں پڑا اور ہلاک ہو گیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم دوائی لے لیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی بیماری پیدا نہیں کی، جس کا علاج نہ ہو، سوائے ایک بیماری کے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ بیماری کون سی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑھاپا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: اللہ کے بندوں میں اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ کون پسند ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔ زہیر بن معاویہ جعفی کی روایت کردہ مذکورہ حدیث [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8416]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8416 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(5) من قوله: "عبيد الله بن عبد الكريم" إلى هنا سقط من (ب).
📝 نوٹ / توضیح: (5) "عبیداللہ بن عبدالکریم" سے لے کر یہاں تک نسخہ (ب) سے ساقط ہے۔
(1) من قوله: "عبيد الله بن عبد الكريم" إلى هنا سقط من (ب)، وأثبتناه من (ز) و (ك) و (م)، وفيها بعده زيادة: "حَدَّثَنَا عثمان بن حكيم، حَدَّثَنَا زياد بن علاقة" وهو خطأ.
📝 نوٹ / توضیح: (1) "عبیداللہ بن عبدالکریم" سے لے کر یہاں تک نسخہ (ب) سے ساقط ہے، ہم نے اسے (ز)، (ک) اور (م) سے ثابت کیا ہے۔ ان نسخوں میں اس کے بعد: "حدثنا عثمان بن حکیم، حدثنا زیاد بن علاقہ" کا اضافہ ہے، جو کہ غلط ہے۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل أبي جعفر المذكّر شيخ المصنّف.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) یہ حدیث صحیح ہے، اور یہ سند مصنف کے شیخ "ابو جعفر المذکّر" کی وجہ سے متابعات اور شواہد میں "حسن" ہے۔