المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
18. عِلَاجُ وَجَعِ الرَّأْسِ وَالرِّجْلِ
سر اور پاؤں کے درد کا علاج
حدیث نمبر: 8449
أخبرنا أحمد بن يعقوب الثقفي، حَدَّثَنَا يوسف بن يعقوب القاضي، حَدَّثَنَا محمد بن أبي بكر المُقدَّمي، حَدَّثَنَا مُعتمر بن سليمان، عن أيمن بن نابل، عن فاطمة بنت المنذر [عن أم كُلْثوم] (2) عن عائشة، عن النَّبِيّ ﷺ قال:"عليكم بالبَغِيض النافعِ: التَّلبينةِ، فوالذي نفس محمدٍ بيده، إنها لتَغسِلُ بطنَ أحدكم كما يَغسِلُ الوسخَ عن وجهِه بالماء". قالت: وكان النَّبِيّ ﷺ إذا اشتكى أحدٌ من أهله، لم تَزَلِ البُرْمة على النار حتَّى يأتيَ على أحد طَرَفيه؛ إما موتٌ أو حياةٌ (1) .
هذا حديث على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8245 - على شرط البخاري
هذا حديث على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8245 - على شرط البخاري
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم وہ چیز استعمال کیا کرو جو کھانے میں بہت بری ہے لیکن اس کا فائدہ بہت زیادہ ہے، وہ ہے ” تلبینہ “ (یعنی بھوسی)۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، یہ پیٹ کو اس طرح صاف کر دیتی ہے جیسے پانی کے ساتھ چہرے کی میل ختم ہو جاتی ہے، آپ فرماتی ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں میں کوئی بیمار ہوتا، تو ہنڈیا مسلسل چولہے پر رہتی (بھوسی پکتی رہتی)، جب تک کہ وہ بیمار آر یا پار نہ ہو جاتا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 8449]