المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
4. عِلَاجُ اللَّدْغَةِ بِالرُّقَى
ڈسے ہوئے (سانپ یا بچھو وغیرہ) کا دم کے ذریعے علاج
حدیث نمبر: 8475
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيْباني، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى الذُّهْلي، حَدَّثَنَا مسدَّد، حَدَّثَنَا عبد الواحد بن زياد، حدثني عثمان بن حَكِيم، حدثتني جدَّتي الرَّبابُ قالت: سمعتُ سهلَ بن حُنَيف يقول: مَرَرْنا بِسَيْل، فدخلتُ فاغتسلتُ فيه، فخرجتُ محمومًا، فنُمِيَ ذلك إلى رسول الله ﷺ، فقال:"مُرُوا أبا ثابتٍ يَتعوَّذ" قال: فقلت: يا سيدي، والرُّقَى صالحةٌ؟ فقال:"لا رُقَى إِلَّا فِي نَفْسٍ أو حُمَة أو لَدْغة" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8270 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8270 - صحيح
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہمارا گزر ایک برساتی نالے سے ہوا، میں اس میں داخل ہوا اور غسل کیا، جب باہر نکلا تو مجھے بخار ہو گیا، یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابو ثابت (سہل بن حنیف) کو حکم دو کہ وہ دم کریں،“ میں نے عرض کی: اے میرے آقا! کیا دم کرنا فائدہ مند ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دم کرنا صرف نظرِ بد، زہریلے اثر یا کسی (زہریلے جانور) کے ڈنک مارنے کی صورت میں ہی ہے (یعنی ان میں زیادہ موثر ہے)۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرُّقَى وَالتَّمَائِمِ/حدیث: 8475]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرُّقَى وَالتَّمَائِمِ/حدیث: 8475]
تخریج الحدیث: «إسناده محتمل للتحسين كما سلف بيانه برقم (5838)» [ترقيم الرساله 8475] [ترقيم الشركة 8372] [ترقيم العلميه 8270]
الحكم على الحديث: إسناده محتم
حدیث نمبر: 8476
حَدَّثَنَا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بِشْر بن موسى، حَدَّثَنَا محمد بن سعيد الأصبهاني، أخبرنا شَريك، عن العبَّاس بن ذَرِيح، عن عامر، عن أنس رَفَعَه؛ قال:"لا رُقْية إِلَّا مَن عَينٍ أو حُمَةٍ أو دمٍ، يَرْقَأُ (2) " (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8271 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8271 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دم (رقیہ) کرنا صرف نظرِ بد، زہریلے اثر (ڈنک) یا (زخم کے) نہ رکنے والے خون کے لیے ہے (یعنی ان میں زیادہ مفید ہے)۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرُّقَى وَالتَّمَائِمِ/حدیث: 8476]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرُّقَى وَالتَّمَائِمِ/حدیث: 8476]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله: "أو دم يرقأ" فقد انفرد به في حديث عامر الشعبي شَريكٌ» [ترقيم الرساله 8476] [ترقيم الشركة 8373] [ترقيم العلميه 8271]
الحكم على الحديث: حديث صحيح د