🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَفْعَلْ
تم میں سے جو اپنے بھائی کو نفع پہنچانے کی استطاعت رکھتا ہو وہ ضرور پہنچائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8481
حَدَّثَنَا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أحمد بن إبراهيم بن مِلْحان، حَدَّثَنَا يحيى بن بُكَير، حَدَّثَنَا اللَّيث، عن عُقيل، عن ابن شِهاب قال: أخبرني عُرْوةُ، عن عائشة: أنَّ رسول الله ﷺ رأَى في بيت أم سَلَمة زوجِ النَّبِيّ ﷺ جاريةً بوجهها سَفْعةٌ، فقال رسول الله ﷺ:"بها نَظْرةٌ، فاستَرْقُوا لها" (2) .
هذا حديث صحيح (1) على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8276 - على شرط البخاري ومسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ایک لڑکی دیکھی اس کے چہرے پر چھائیاں اور مہاسے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو نظر لگی ہے، اس کو دم کرواؤ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرُّقَى وَالتَّمَائِمِ/حدیث: 8481]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8482
أخبرنا علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيباني بالكوفة، حَدَّثَنَا إبراهيم بن إسحاق الزُّهري، حَدَّثَنَا مُحاضِر بن المُورِّع، حَدَّثَنَا الأعمش، عن أبي سفيان (2) ، عن جابر بن عبد الله قال: جاء رجلٌ من الأنصار يقال له: عَمرو بن حَزْم، وكان يَرقِي من الحيّة، فقال: يا رسول الله، إنك نهيتَ عن الرُّقى وأنا أَرقي من الحيَّة، قال:"قُصَّها عليَّ"، فقصَّها، فقال:"لا بأسَ بهذه، هذه مَواثيقُ". قال: وجاء خالي من الأنصار، وكان يَرقي من العقرب، فقال: يا رسول الله، إنك نهيتَ عن الرُّقى، وأنا أَرقي من العقرب، قال:"مَن استطاع أن يَنفَعَ أخاه فليَفعَلْ" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8277 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ انصار کا عمرو بن حزم نامی شخص سانپ کے کاٹے کا دم کیا کرتا تھا، اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے تو دم کرنے سے منع فرمایا ہے، جبکہ میں سانپ کے کاٹے کا دم کرتا ہوں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم وہ دم مجھے سناؤ، اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دم سنایا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، یہ تو عہد ہے۔ انصار میں سے میرے ماموں آئے، وہ بچھو کے کاٹے کا دم کرتے تھے، انہوں نے کہا: یا سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے دم کرنے سے منع فرمایا ہے جب کہ میں تو بچھو کے کاٹے کا دم کرتا ہوں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے مسلمان بھائی کو جس قدر فائدہ پہنچا سکتا ہو، وہ پہنچائے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرُّقَى وَالتَّمَائِمِ/حدیث: 8482]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8483
حَدَّثَنَا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد حَدَّثَنَا أحمد بن زهير ابن حَرْب، حَدَّثَنَا موسى بن إسماعيل، حَدَّثَنَا حمّاد بن سَلَمة، حَدَّثَنَا عاصم بن بَهْدلة، عن زِرّ بن حُبَيش، عن ابن مسعود قال: قال رسول الله ﷺ:"عُرِضَت عليَّ الأممُ بالمَوسِم، فرأيت جَمْعَهم، فأعجَبَني كَثرتُهم وهيئتُهم قد مَلَؤوا السهلَ والجبلَ، فقيل: أيْ محمدُ، رضيتَ؟ فأقول: نعم أيْ ربِّ، فقال: إنَّ لك مع هؤلاء سبعين ألفًا يدخلون الجنَّة بغير حسابٍ، وهم الذين لا يَسْتَرقُون ولا يَكتَوُون وعلى ربِّهم يتوكَّلون"، فقام عُكَّاشة بن مِحصَن فقال: يا رسولَ الله، ادعُ الله أن يجعلَني منهم، فدعا له، فقام رجلٌ آخرُ، فقال: يا رسول الله، ادعُ الله أن يجعلَني منهم، فقال:"سَبَقَك إليها عُكّاشةُ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد من أوجهٍ، ولم يُخرجاه. وليس فيه نهيٌ عن الرُّقَى، لم يُؤثَر (2) التوكلُ عليه، والدليل على ذلك:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8278 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حج کے مقام پر ساری امتیں میرے سامنے پیش کی گئیں، میں نے سب کو دیکھا، ان کی کثرت اور ہیبت مجھے اچھی لگی، ان سے میدان اور پہاڑ سب بھرے ہوئے تھے، مجھ سے کہا گیا: اے محمد! کیا تم راضی ہو؟ میں نے کہا: جی اے میرے رب میں راضی ہوں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ان تمام کے ساتھ ساتھ مزید ستر ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے، یہ وہ لوگ ہوں گے جو نہ تو (جادو والا) دم کرواتے ہیں، اور نہ (زخم ٹھیک کروانے کے لئے آگ سے) داغ لگواتے ہیں، اور وہ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔ سیدنا عکاشہ بن محصن نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے ان میں سے كر دے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے دعا فرما دی۔ پھر ایک اور آدمی اٹھ کر کھڑا ہوا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لئے بھی دعا فرمایئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے ان میں سے کر دے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عکاشہ تم سے آگے نکل گیا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث متعدد وجوہ سے صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور اس حدیث میں دم کروانے سے ممانعت نہیں ہے، بلکہ اس میں یہ ہے کہ اور نہ ہی یہ ہے کہ توکل، دم کے منافی ہے اور اس پر دلیل درج ذیل حدیث ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرُّقَى وَالتَّمَائِمِ/حدیث: 8483]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8484
ما حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق وعلي بن حَمْشاذَ؛ قال أبو بكر: أخبرنا، وقال علي: حَدَّثَنَا بِشْر بن موسى، حَدَّثَنَا الحُميدي، عن سفيان، حَدَّثَنَا ابن أبي نَجِيح، عن مجاهد، عن العَقّار بن المغيرة بن شُعْبة، عن أبيه، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لم يَتوكَّلْ مَن استَرقَى أو اكتَوَى" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8279 - صحيح
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے دم کروایا یا، داغ لگوایا، اس نے توکل نہیں کیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرُّقَى وَالتَّمَائِمِ/حدیث: 8484]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8485
حَدَّثَنَا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن أيوب، أخبرنا شَيْبان الأُبُلِّي، حَدَّثَنَا جَرير بن حازم، عن سُهَيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن النَّبِيّ ﷺ قال:"مَن قال حين يُمسي: أعوذُ بكلماتِ الله التامّاتِ من شرّ ما خَلَقَ، ثلاثَ مرات، لم تَضرَّه حيّةٌ تلك الليلةَ". قال: وكان إذا لُدِغَ من أهله إنسانٌ قال (2) : ما قال الكلماتِ؟! (3)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8280 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے شام کے وقت تین مرتبہ یہ دعا پڑھی اعوذ بكلمات اللہ التامات من شر ما خلق اس کو اس رات سانپ کچھ نقصان نہیں دے گا، آپ فرماتے ہیں: جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں میں سے کسی کو سانپ کاٹتا تو آپ یہی دعا پڑھ کر دم کرتے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرُّقَى وَالتَّمَائِمِ/حدیث: 8485]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں