المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
10. التَّمَائِمُ مَا عُلِّقَ قَبْلَ نُزُولِ الْبَلَاءِ
تعویذ وہ ہے جو بلا نازل ہونے سے پہلے لٹکایا جائے
حدیث نمبر: 8495
حَدَّثَنَا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن الحسن بن أحمد، حَدَّثَنَا جدِّي أحمد بن أبي شعيب، حَدَّثَنَا موسى بن أعْيَن، عن محمد بن سَلَمة الكوفي، عن الأعمش، عن عمرو بن مُرَّة، عن يحيى بن الجزَّار، عن عبد الله بن عُتبة بن مسعود، عن زينب امرأة عبد الله: أنها أصابها حُمْرةٌ في وجهها، فدخلت عليها عجوزٌ فرَقَتْها في خَيْط فعلَّقته عليها، فدخل ابنُ مسعود فرآه عليها، فقال: ما هذا؟ فقالت: استَرقَيتُ من الحُمْرة، فمدَّ يده فقَطَعها، ثم قال: إِنَّ آلَ عبد الله لأغنياءُ عن الشِّرك، قالت: ثم قال: إنَّ رسول الله ﷺ حَدَّثَنَا:"أَنَّ الرُّقَى والتَّمائمَ والتِّوَلَةَ شِرْك". قالت: قلت: ما التِّولةُ؟ قال: التِّوَلَةُ هو التهيُّج الذي يُهيِّج الرجال (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8290 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8290 - على شرط البخاري ومسلم
عبداللہ بن عتبہ بن مسعود، سیدنا عبداللہ کی زوجہ سیدہ زینب کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ ان کے چہرے پر خسرے کے دانے تھے۔ ایک بوڑھی عورت ان کے پاس آئی، اس نے ایک دھاگہ دم کر کے ان کو پہنا دیا، سیدنا عبداللہ بن مسعود گھر تشریف لائے اور اس کو دھاگا بندھا ہوا دیکھا، تو ان سے پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے خسرے کا دم کروایا ہے، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ ان کی جانب بڑھایا اور اسے پکڑ کر توڑ ڈالا، پھر فرمایا: عبداللہ کی آل کو شرک کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ان کی زوجہ فرماتی ہیں: پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہمیں سنایا ” (جاہلیت کی رسومات کے مطابق) دم کروانا، تمیمہ لٹکانا اور تولیہ، سب شرک ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں: میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تولیہ کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے ذریعے لوگوں کو (لڑائی یا برائی پر برانگیختہ کیا جاتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں كیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرُّقَى وَالتَّمَائِمِ/حدیث: 8495]
حدیث نمبر: 8496
أخبرني الحسن بن حَليم (1) المروَزي، أخبرنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرني طلحة بن أبي سعيد، عن بُكير بن عبد الله بن الأشجّ، عن القاسم بن محمد، عن عائشة أنها قالت: التمائمُ ما عُلِّق قبل نزول البلاء، وما عُلِّق بعد نزول البلاء فليس بتَمِيمة (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8291 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8291 - صحيح
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: تمیمہ اس کو کہتے ہیں جو مصیبت نازل ہونے سے پہلے احتیاطاً پہنا جاتا ہے (اور یہ امید رکھی جائے کہ اگر اللہ کی طرف سے کوئی آزمائش آئی بھی سہی تو یہ تمیمہ اس کو روک لے گا) اور جو اس کے بعد پہنا جائے وہ تمیمہ نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں كیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرُّقَى وَالتَّمَائِمِ/حدیث: 8496]