المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
19. ذِكْرُ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ
فتنۂ دجال کا تذکرہ
حدیث نمبر: 8536
حدثنا محمد بن علي الصَّنعاني بمكة حَرَسَها الله، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عبَّاد (1) ، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن عبد الله بن بن عثمان بن خُثَيم، عن نافع بن سَرْجِس، عن أبي هريرة قال: أيها الناس، أظلَّتكُم فتنٌ كأنها قِطعُ الليل المظلم، أَنجى (2) الناس فيها - أو قال: منها - صاحبُ شاءٍ يأكلُ من رِسْل (3) غنمِه، ورجلٌ من وراءِ الدَّرْب آخذُ بعِنان فرسِه يأكلُ من سيفه (4) . موقوف صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8331 - صحيح موقوف
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8331 - صحيح موقوف
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے لوگو! تمہارے اوپر فتنے سایہ فگن ہیں، جیسا کہ اندھیری رات کا کوئی لمحہ، اے لوگو! اس وقت بکریوں والا، اپنی بکری کے سر سے کھائے گا اور ایک آدمی دروازے کے پیچھے اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے ہوئے ہو گا اور اپنی تلوار سے کھائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث موقوف ہے، صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس كو نقل نہیں كیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8536]
حدیث نمبر: 8537
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا أبو الوليد الطَّيالسي، حدثنا أبو عَوَانة، عن قَتَادة، عن نضر بن عاصم، عن سُبَيع بن خالد، قال: خرجتُ إلى الكوفة زمن فُتِحَت تُستَرُ لأَجلِبَ منها بِغالًا، فدخلتُ المسجدَ فإذا صَدعٌ من الرجال تعرفُ إذا رأيتَهم أنهم من رجال الحجاز، قال: قلت: مَن هذا؟ قال: فحَدَّقَني القومُ بأبصارهم وقالوا: ما تعرفُ هذا؟ هذا حُذيفةُ صاحب رسول الله ﷺ، قال: فقال حذيفة: إنَّ الناس كانوا يسألون رسول الله ﷺ عن الخير، وكنت أسألُه عن الشرِّ، قال: قلت: يا رسول الله، أرأيتَ هذا الخيرَ الذي أعطانا الله، يكون بعدَه شرٌّ كما كان قبلَه؟ قال:"نعم" قلت: يا رسول الله، فما العِصْمةُ من ذلك؟ قال:"السيفُ" قلت: وهل للسيف من بقيّةٍ؟ قال:"نعم" قال: قلت: ثم ماذا؟ قال:"ثم هُدْنةٌ على دَخَنٍ" قال:"جماعةٌ على فُرْقةٍ، فإن كان الله ﷿ يومئذٍ خليفةٌ ضَرَبَ ظهرَك وأخذ مالَك، فاسمَعْ وأطِعْ، وإِلَّا فمُتْ عاضًّا بجِذْلِ شجرة" قال: قلت: ثم ماذا؟ قال:"يخرجُ الدَّجالُ ومعه نهرٌ ونار، فمن وقَع في ناره وقع [أَجرُه] (1) وحُطَّ وِزره، ومن وقع في نهره وَجَبَ وِزرُه وحُطَّ أجرُه" قلت: ثم ماذا؟ قال:"ثمَّ إِنَّما هي قيام الساعة" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8332 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8332 - صحيح
سبیع بن خالد فرماتے ہیں: تستر فتح ہونے کے زمانے میں، میں کوفہ کی جانب روانہ ہوا، مقصد تھا کہ وہاں سے کچھ خچر لے کر آؤں، میں مسجد میں داخل ہوا، وہاں ہلکا پھلکا (چھریرے بدن والا) شخص موجود تھا، دیکھنے میں حجازی معلوم ہوتا تھا، میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے آنکھوں کے اشاروں سے مجھ سے پوچھا کہ تم اس آدمی کو پہچانتے نہیں ہو؟ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رازدان سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ فرماتے ہیں: سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے بارے میں پوچھا کرتے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شر کے بارے میں پوچھا کرتا تھا، آپ فرماتے ہیں: میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ نے اس وقت ہمیں جو خیر عطا فرمائی ہے، کیا اس کے بعد کوئی شر بھی آئے گا؟ جیسا کہ اس خیر سے پہلے شر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس شر سے بچاؤ کا طریقہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تلوار۔ میں نے کہا: تلوار کے بعد بھی کچھ ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ میں نے کہا: پھر کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر مصالحت ہو گی، اس کے بعد دھواں ہو گا، میں نے کہا: پھر کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دجال ظاہر ہو گا، اس کے ساتھ ایک نہر اور ایک آگ ہو گی، جو اس کی آگ میں جائے گا، وہ اجر کا مستحق ہو گا اور اس کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے، اور جو اس کی نہر میں جائے گا، وہ گناہ کا مستحق ہو جائے گا اور اس کی نیکیاں ضائع ہو جائیں گی۔ میں نے پوچھا: پھر کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے بعد قیامت قائم ہو جائے گی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8537]