🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

20. إِخْبَارُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - بِفِتْنَةِ عُثْمَانَ
نبی کریم ﷺ کا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے فتنے (شہادت) کے بارے میں خبر دینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8539
أخبرني الحسن بن حليم (1) المروَزي، حدثنا أحمد بن إبراهيم السَّدَوَّري، حدثنا سعيد بن هُبيرة، حدثنا محمد بن سُلَيم، حدثنا قَتَادة، عن عبد الله بن شَقيق العُقَيلي، عن مُرَّة البَهْزي قال: قال رسول الله ﷺ:"يُفتَحُ على الأرض فتنٌ كَصَيَاصِي البقر"، فمرَّ رجلٌ مُقنَّع، فقال:"هذا يومئذٍ على الحقِّ"، فقمتُ إليه فأخذتُ بمَجامِعِ ثوبه، فقلت: هذا هو يا رسول الله؟ قال:"هذا"، قال: فإذا هو عثمان (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8334 - سعيد بن هبيرة اتهمه ابن حبان
مرہ بہزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمین پر ایسے فتنے ظاہر ہوں گے جو گائے کے سینگوں کی طرح (نوکدار اور الجھے ہوئے) ہوں گے، اسی دوران ایک شخص سر ڈھانپے ہوئے گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شخص اس دن حق پر ہوگا، میں اٹھ کر اس کی طرف گیا اور اس کے کپڑوں سے پکڑ کر عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا یہی وہ شخص ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں یہی ہے، دیکھا تو وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8539]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، سعيد بن هبيرة قال أبو حاتم: ليس بالقوي، واتهمه ابن حبان، لكنه متابع، ومحمد بن سليم» [ترقيم الرساله 8539] [ترقيم الشركة 8436] [ترقيم العلميه 8334]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8540
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن عيسى بن السَّكَن، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا وُهَيب بن خالد، أخبرنا موسى بن عُقبة، أخبرني جدِّي أبو أُمِّي أبو حَبِيبة (1) : أنه دخل الدارَ وعثمانُ محصورٌ فيها، وأنه سمع أبا هريرة يستأذنُ عثمان في الكلام، فأَذِنَ، له، فقام فحَمِدَ الله وأثنى عليه، ثم قال: إني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"ستَلقَونَ بعدي فتنةً واختلافًا" أو قال:"اختلافًا وفتنة"، فقال له قائل: يا رسول الله، بمَ (2) تأمرنا؟ قال:"عليكم بالأمير وأصحابه"، وهو يشيرُ بذلك إلى عثمان (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8335 - صحيح
ابوحبیبہ سے روایت ہے کہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر میں داخل ہوئے جبکہ آپ محصور تھے، انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سنا کہ انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے بات کرنے کی اجازت طلب کی، آپ نے اجازت دی تو وہ کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد و ثنا کے بعد کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: تم میرے بعد فتنوں اور اختلاف سے ملو گے، کسی کہنے والے نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: تم امیر اور اس کے ساتھیوں کو لازم پکڑو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8540]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل أبي حبيب» [ترقيم الرساله 8540] [ترقيم الشركة 8437] [ترقيم العلميه 8335]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8541
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وَهب، أخبرني عمرو بن الحارث، أنَّ بكر بن سَوَادة الجُذَامِيَّ حدثه، أنَّ سُحَيمًا حدَّثه عن رُوَيفِع بن ثابت الأنصاري أنه قال: قُرِّبَ لرسول الله ﷺ تمرٌ ورُطَبٌ (4) ، فأكلوا منه حتى لم يُبقُوا شيئًا إِلَّا نَواه وما لا خير فيه، فقال رسول الله ﷺ:"تدرون ما هذا؟ تذهَبون الخيِّر فالخيِّرَ، حتى لا يبقى منكم إِلَّا مثلُ هذا" (5) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدُه الصحيحُ حديث أبي حُميد الطاعِني الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8336 - صحيح
سیدنا رُویفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں خشک اور تازہ کھجوریں پیش کی گئیں، صحابہ نے انہیں کھایا یہاں تک کہ صرف گٹھلیاں اور وہ فضلہ بچا جس میں کوئی خیر نہ تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟ تم میں سے بہتر لوگ ایک ایک کر کے رخصت ہو جائیں گے یہاں تک کہ تمہارے درمیان صرف ایسے ہی لوگ بچیں گے (جن میں خیر نہیں ہوگی)۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی صحیح شاہد حدیث ابوحمید الطاعنی کی مروی روایت ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8541]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وهذا إسناد ليِّن من أجل سحيم، فإنه لا يُعرَف، وذكره ابن حبان في "الثقات" وكذا العجلي، وباقي رجاله ثقات» [ترقيم الرساله 8541] [ترقيم الشركة 8438] [ترقيم العلميه 8336]

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8542
حدَّثَناه علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي والعباس بن الفَضْل الأسفاطي والحسن بن علي بن زياد، قالوا: حدثنا إسماعيل بن أبي أُوَيْس، حدثني سليمان بن بلال، عن يونس بن يزيد، عن ابن شهاب، عن أبي حُميد، أنه سمع أبا هريرة يقول: قال رسول الله ﷺ:"لتُنتَقَيُنَّ كما يُنتقَى التمرُ من الجَفْنة، فليذهَبَنَّ خيارُكم وليبقَيَنَّ شِرارُكم، فموتوا إن استطعتُم" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. وله رواية أخرى عن يونس بن يزيد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8337 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں (فتنوں کے ذریعے) اسی طرح چن لیا جائے گا جیسے لگن (بڑے پیالے) سے اچھی کھجوریں چن لی جاتی ہیں، پس تمہارے بہترین لوگ رخصت ہو جائیں گے اور برے لوگ باقی رہ جائیں گے، تو اگر تم سے ہو سکے تو (فتنوں سے بچنے کے لیے) موت کو گلے لگا لو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8542]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 8542] [ترقيم الشركة 8439] [ترقيم العلميه 8337]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8543
أخبرناه أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل، حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن عِمران الأنصاري (2) ، حدثنا طلحة بن يحيى الزُّرَقي (3) ، حدثنا يونس بن يزيد، عن ابن شِهاب، عن أبي حُميد مولى مُسافِع قال: سمعت أبا هريرة يحدِّث، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لَتُنتَقَيُنَّ كما يُنتقَى التَّمْرُ من الجَفْنة، فلَيَذهَبَنَّ خِيارُكم وليَبقَيَنَّ شِرارُكم، حتى يبقى من لا يعبأ الله بهم، فموتوا إن استطعتم" (1) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں (آزمائشوں میں) اسی طرح چن لیا جائے گا جیسے لگن سے اچھی کھجوریں چن لی جاتی ہیں، پس تمہارے بہترین لوگ رخصت ہو جائیں گے اور برے لوگ باقی رہ جائیں گے، یہاں تک کہ وہ لوگ بچیں گے جن کی اللہ کے ہاں کوئی قدر و قیمت نہیں ہوگی، تو اگر تم سے ہو سکے تو موت کو گلے لگا لو۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8543]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال محمد بن عبد الله بن عمران الأنصاري، وقد توبع، وشيخه طلحة حسن الحديث في المتابعات والشواهد، وقد توبع، وأبو حميد تقدَّم الكلام عليه عند الرواية السالفة برقم (8084)» [ترقيم الرساله 8543] [ترقيم الشركة 8440]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8544
حدثنا أبو عَوْن محمد بن أحمد بن ماهانَ الجزَّار بمكة حَرَسها الله على الصَّفا إملاءً، حدثنا أبو عبد الله محمد بن علي بن زيد الصائغُ المكِّي، حدثنا سعيد بن منصور المكّي، حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن، عن (2) أبي حازم، عن عُمارة بن عمرو بن حَزم، عن عبد الله بن عمرو، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"يُوشِكُ أن يأتي زمانٌ يُغربَلُ الناسُ فيه غَربلةً، ويَبْقى حُثالةٌ من الناس قد مَرِجَت عهودهم وأماناتُهم، واختلَفوا وكانوا هكذا" وشبَّك بين أصابعه، قالوا: فكيف تأمُرنا يا رسول الله؟ قال:"تأخذون ما تَعرِفون، وتَدَعُون ما تُنكرون، وتُقبلون على أَمرِ خَاصَّتِكم، وتَدَعُون أمر عامَّتِكم" (3) . قال سعيد بن منصور: حُثالة الناس: رُذَالُهم، ومعنى قوله:"مَرِجَت عهودهم" إِذْ لم يَفُوا بها.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8340 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگوں کو اس طرح چھانٹ دیا جائے گا جیسے غلہ چھانٹا جاتا ہے، اور صرف نکمے اور گھٹیا لوگ باقی رہ جائیں گے جن کے عہد اور امانتیں بگڑ چکی ہوں گی، اور وہ (اختلاف کی وجہ سے) اس طرح ہو جائیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کر کے دکھایا۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس چیز کو اختیار کرنا جسے (حق) پہچانتے ہو اور اسے چھوڑ دینا جس کا انکار کرتے ہو، اور تم اپنے خاص (ذاتی و قریبی) معاملات کی فکر کرنا اور عام لوگوں کے معاملات کو چھوڑ دینا۔ سعید بن منصور نے کہا: «حُثالة الناس» سے مراد رذیل لوگ ہیں، اور «مَرِجَت عهودهم» کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے عہدوں کی پاسداری نہیں کریں گے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8544]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8544] [ترقيم الشركة 8442] [ترقيم العلميه 8340]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں