🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

9. أَكْرَمُ خَلِيقَةِ اللَّهِ عَلَى اللَّهِ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
اللہ کی مخلوق میں سب سے زیادہ معزز ابوالقاسم ﷺ کی ذاتِ گرامی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8912
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا عفَّان ومحمد بن كَثير: قالا حدثنا مَهْديُّ بن ميمون حدثنا محمد بن عبد الله بن أبي يعقوب، عن بِشْر بن شَغَافٍ، عن عبد الله بن سَلَام؛ قال (1) : وكنَّا جلوسًا في المسجد يومَ الجُمُعة، فقال: إنَّ أعظمَ أيام الدنيا يومُ الجمعة، فيه خُلِقَ آدم، وفيه تقومُ الساعة، وإِنَّ أكرمَ خَليقة الله على الله أبو القاسم ﷺ، قال: قلت: رَحِمَك الله، فأين الملائكةُ؟ قال: فنظر إليَّ وضحك وقال: يا ابنَ أخي هل تدري ما الملائكةَ؟ إنما الملائكةُ خلقٌ كخَلْق السماء وخلق الأرض وخلق الرياح وخلق السَّحاب وخلق الجبال، وسائر الخلق، التي لا تعصى الله شيئًا، وإنَّ أكرمَ خليقةٍ على الله أبو القاسم ﷺ، وإنَّ الجنة في السماء، وإنَّ النار في الأرض، فإذا كان يومُ القيامة بَعَثَ الله الخليقة أُمَّةً أُمّةً، ونبيًا نبيًا، حتى يكونَ أحمد وأمَّتُه آخرَ الأُمم مركزًا، قال: ثم يُوضَعُ جسرٌ على جنَّهم، ثم ينادي منادٍ: أين أحمدُ وأمّتُه؟ قال: فيقوم فتَتبعُه أمّتُه بَرُّها وفاجرها، قال: فيأخذون الجسرَ، فيَطمِسُ الله أبصارَ أعدائه، فيتهافتون فيها من شمال ويمينٍ، ويَنجُو النبيُّ ﷺ والصالحون معه، فتَلَقَّاهم الملائكةُ ربَّنا نُبُوِّئُهم منازلَهم من الجنة على يمينِك وعلى يسارِك، حتى ينتهي إلى ربِّه ﷿، فيُلقَى له كرسيٌّ عن يمين الله ﷿، ثم ينادي منادٍ: أين عيسى وأمّتُه؟ فيقوم فتَتبعُه أمّتُه بَرُّها وفاجرُها، فيأخذون الجسرَ، فيَطمِسُ اللهُ أبصارَ أعدائه، فيتهافتون فيها من شِمالٍ، ويمينٍ، ويَنجُو النبيُّ ﷺ والصالحون معه، فتَلَقَّاهم الملائكةُ؛ ربَّنا نُبُوِّئُهم منازلَهم في الجنة على يمينِك وعلى يسارك، حتى ينتهيَ إلى ربِّه، فيُلقَى له كرسيٌّ من الجانب الآخر، قال: ثم يَتبعُهم الأنبياءُ والأُمم حتى يكونَ آخرُهم نوحًا، رَحِمَ الله نوحًا (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وليس بموقوفٍ، فإنَّ الله عبد بن سَلَام على تقدُّمه في معرفة قديمةٍ من جُملة الصحابة، وقد أسنَدَه بذِكْر رسول الله ﷺ في غير موضعٍ، والله أعلم (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8698 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم جمعہ کے دن مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے تو انہوں نے فرمایا: دنیا کے ایام میں سب سے عظیم دن جمعہ کا دن ہے، اسی میں آدم (علیہ السلام) پیدا کیے گئے، اسی میں قیامت قائم ہوگی، اور اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق میں سب سے زیادہ معزز ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ آپ پر رحم کرے، پھر فرشتوں کا کیا مقام ہے؟ تو انہوں نے میری طرف دیکھا اور مسکرا کر فرمایا: اے بھتیجے! کیا تم جانتے ہو کہ فرشتے کیا ہیں؟ فرشتے تو آسمان، زمین، ہواؤں، بادلوں، پہاڑوں اور دیگر مخلوقات کی طرح ایک مخلوق ہیں جو کسی بھی معاملے میں اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے، اور اللہ کے نزدیک سب سے معزز مخلوق ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ انہوں نے مزید فرمایا: بے شک جنت آسمان میں ہے اور جہنم زمین میں ہے، پس جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ مخلوقات کو ایک ایک امت اور ایک ایک نبی کر کے اٹھائے گا، یہاں تک کہ احمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کی امت تمام امتوں کے بعد آخری مقام پر ہوگی۔ انہوں نے کہا: پھر جہنم پر پل (صراط) رکھا جائے گا، پھر ایک پکارنے والا پکارے گا: احمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کی امت کہاں ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوں گے اور آپ کی امت کے نیک و بد سب آپ کے پیچھے چلیں گے، وہ پل پر قدم رکھیں گے تو اللہ تعالیٰ آپ کے دشمنوں کی آنکھوں کو اندھا کر دے گا اور وہ دائیں بائیں آگ میں گرنے لگیں گے، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ موجود صالحین نجات پا جائیں گے، تو فرشتے ان کا استقبال کرتے ہوئے کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم انہیں جنت میں ان کی منزلوں تک پہنچاتے ہیں جو تیرے دائیں اور بائیں جانب ہیں، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب عزوجل تک پہنچ جائیں گے اور آپ کے لیے اللہ عزوجل کے دائیں جانب کرسی رکھی جائے گی۔ پھر پکارنے والا پکارے گا: عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی امت کہاں ہے؟ تو وہ کھڑے ہوں گے اور ان کے پیچھے ان کی امت کے نیک و بد چلیں گے، وہ پل پر قدم رکھیں گے تو اللہ ان کے دشمنوں کی آنکھوں کو اندھا کر دے گا اور وہ دائیں بائیں آگ میں گرنے لگیں گے، جبکہ نبی (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ موجود صالحین نجات پا جائیں گے، فرشتے ان سے ملیں گے (اور کہیں گے): اے ہمارے رب! ہم انہیں جنت میں ان کی منزلوں پر ٹھہراتے ہیں جو تیرے دائیں اور بائیں جانب ہیں، یہاں تک کہ وہ اپنے رب تک پہنچ جائیں گے اور ان کے لیے دوسری جانب کرسی رکھی جائے گی۔ پھر اسی طرح دیگر انبیاء اور ان کی امتیں ان کے پیچھے آئیں گی یہاں تک کہ سب سے آخر میں نوح (علیہ السلام) ہوں گے، اللہ تعالیٰ نوح (علیہ السلام) پر رحم فرمائے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ موقوف نہیں ہے کیونکہ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ قدیم علوم کی معرفت میں تقدم رکھنے کے باوجود صحابہ کرام میں شامل ہیں اور انہوں نے کئی مقامات پر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کے ساتھ مسند کیا ہے، واللہ اعلم۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8912]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،موقوف محمد بن غالب: هو الحافظ المعروف بتمتام، وعفان: هو ابن مسلم الصفّار، ومحمد بن كثير: هو العبدي البصري» [ترقيم الرساله 8912] [ترقيم الشركة 8803] [ترقيم العلميه 8698]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں