🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: " أَرْجُو أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ "
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ تم (میری امت) اہل جنت کا آدھا حصہ ہو گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8906
أخبرني أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنعاني بمكة حَرَسَها الله، حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدَّبَرِي، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن قَتَادة عن أنس قال: لما نَزَلَت ﴿يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ﴾ [الحج: 1] على النبي ﷺ وهو في مَسيرٍ له، فرَفَعَ بها صوتَه حتى أنابَ (3) إليه أصحابُه، فقال:"أتدرون أيُّ يومٍ هذا؟ يومَ يقول الله لآدمَ: يا آدمُ، قمْ فابعَثْ بَعْثَ النارِ، من كلِّ ألفٍ تسعَ مئةٍ وتسعةً وتسعين"، فكَبُرَ ذلك على المسلمين، فقال النبي ﷺ:"سدِّدوا وقارِبوا وأَبشِروا، فوالَّذي نفسي بيدِه ما أنتم في الأُمم إلَّا كالشَّامَةِ في جَنْبِ البعير، أو كالرَّقْمة في ذراع الدابَّة، فإنَّ معكم الخَليقتَينِ (1) ، ما كانتا مع شيءٍ إِلَّا كَثَّرتاه، يأجوج ومأجوج، ومَن هَلَكَ من كَفَرَةِ الجنِّ والإنس" (2) . هذا إسناد صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک سفر کے دوران یہ آیت ﴿يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ﴾ [سورة الحج: 1] نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آواز بلند فرمائی یہاں تک کہ آپ کے صحابہ آپ کی طرف متوجہ ہو گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سا دن ہوگا؟ یہ وہ دن ہوگا جب اللہ تعالیٰ آدم (علیہ السلام) سے فرمائے گا: اے آدم! اٹھو اور «بَعْثَ النَّارِ» آگ (جہنم) کا لشکر نکالو، ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے نکال لو۔ یہ بات مسلمانوں پر بہت گراں گزری، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سیدھے راستے پر رہو، میانہ روی اختیار کرو اور خوشخبری حاصل کرو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم دیگر امتوں کے مقابلے میں (تعداد میں) ایسے ہو جیسے اونٹ کے پہلو میں ایک تل کا نشان ہو، یا جیسے چوپائے کے ہاتھ پر کوئی مخصوص نشان ہو، تمہارے ساتھ دو ایسی مخلوقات ہوں گی جو جس چیز کے ساتھ بھی ہوں اس کی تعداد کو بہت زیادہ کر دیتی ہیں، یعنی یاجوج اور ماجوج، اور جنوں اور انسانوں میں سے وہ کفار جو ہلاک ہو گئے۔
یہ سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8906]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لكن من حديث عمران بن حصين كما سلفت الإشارة إليه عند المصنف برقم (79) حيث رواه هناك من طريق محمود بن غيلان عن عبد الرزاق» [ترقيم الرساله 8906] [ترقيم الشركة 8797]

الحكم على الحديث: حديث صحيح ل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8907
وقد أخبرَناهُ عبدُ الله بن محمد الدَّورَقي، حدثنا محمد بن إسحاق الإمام، حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرزاق؛ فساق الحديثَ بمثلِه سواءً. ثم قال محمد بن يحيى في آخره هذا الحديث عندنا غيرُ محفوظٍ عن أنس، ولكن المحفوظ عندنا حديثُ قتادةَ عن الحسن عن عِمرانَ بن حُصَين.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے۔ محمد بن یحییٰ نے اس کے آخر میں کہا کہ یہ حدیث ہمارے نزدیک سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے محفوظ نہیں ہے، بلکہ محفوظ روایت وہ ہے جو قتادہ کی حسن بصری سے اور ان کی سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8907]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 8907] [ترقيم الشركة 8798]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8908
حدَّثَنا به عبدُ الصمد، حدثنا هشام، عن قَتَادةَ، عن الحسن. فقد حَكَمَ إمامُ الأئمة محمد بن يحيى الذُّهْلي ﵁، ولم يُخرِّج محمدُ بن إسماعيل ومسلمُ بن الحجَّاج ﵄ في هذه الترجمة حرفًا. وذُكِرَ أنَّ الحسن لم يسمع من عِمران بن حُصين. قال الحاكم ﵀: والذي عندي أنَّ الحسن قد سَمِعَ من عِمْران بن حُصَين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8692 - على شرط البخاري ومسلم
یہ حدیث ہمیں عبد الصمد نے ہشام، قتادہ اور حسن بصری کے واسطے سے بیان کی۔ امام الائمہ محمد بن یحییٰ ذہلی رحمہ اللہ نے اس پر فیصلہ دیا ہے، جبکہ امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ نے اس باب میں کوئی روایت ذکر نہیں کی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ حسن بصری نے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا۔
امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک حسن بصری کا سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8908]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 8908] [ترقيم الشركة 8799] [ترقيم العلميه 8692]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8909
وقد حدثنا بالحديث عليُّ بن حَمْشاذَ العَدْل، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد ومحمد بن المِنْهال الضَّرير قالا: حدثنا معاذ بن هشام، حدثني أَبي، عن قَتَادةَ، عن الحسن، عن عِمران بن حُصَين قال: كنَّا مع رسول الله ﷺ في مسيرٍ وقد تفاوَتَ بين أَصحُبِه (3) السَّيرُ، فَرَفَعَ بهاتين الآيتين صوتَه: ﴿يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ﴾، قرأَ أبو موسى (4) إلى قوله: ﴿وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ﴾، فلما سمع ذلك أصحابه حثُّوا المَطيَّ وعرفوا أنه عندَ قولٍ يقولُه، فقال:"أتدرون أيُّ يوم ذلك؟" قالوا: الله ورسوله أعلمُ؟ قال:"ذاكم يومَ يُنادَى آدم فيناديه ربُّه فيقول: يا، آدمُ ابْعَثْ بَعْثَ النارِ [قال: يا رب، وما بعثُ النار؟ قال: من كل ألفٍ تسعُ مئةٍ وتسعةٌ وتسعون في النار] (1) وواحدٌ في الجنّة"، فأُبِلسَ أصحابُه حتى ما أَوضَحُوا بضاحكةٍ، فلما رأى رسولُ ﷺ الذي بأصحابه قال:"اعْمَلُوا وأَبِشروا، فوالذى نفسُ محمدٍ بيدِه، إنكم مع خليقَتينِ ما كانتا مع شيءٍ إِلَّا كَثَّرتاه، يأجوجَ ومأجوجَ، ومَن هَلَكَ من بني آدم وبني إبليسَ"، فسُرِّيَ عن القوم بعضُ الذي يَجِدُون، ثم قال:"اعمَلوا (2) وأَبشِروا فوالذي نفسُ محمدٍ بيدِه ما أنتم في الناس إِلَّا كالشَّامَةِ في جَنْبِ البعير، أو كالرَّقْمة في ذراع الدَّابّة" (3) . وهكذا رواه سعيدُ بن أبي عَرُوبة عن قَتَادةَ:
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور صحابہ کے درمیان چلنے کی رفتار میں فرق آ گیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو آیات کے ساتھ اپنی آواز بلند فرمائی: ﴿يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ﴾ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ﴿وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ﴾ [سورة الحج: 1 - 2] تک تلاوت فرمائی، جب صحابہ نے یہ سنا تو انہوں نے اپنی سواریاں تیز کر دیں اور وہ سمجھ گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی (اہم) بات فرمانے والے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سا دن ہے؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ دن ہے جب آدم (علیہ السلام) کو پکارا جائے گا، ان کا رب انہیں پکار کر فرمائے گا: اے آدم! جہنم کا لشکر (یعنی جہنم میں جانے والے) نکالو، انہوں نے عرض کیا: اے میرے رب! جہنم کا لشکر کتنا ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے آگ میں جائیں گے اور ایک جنت میں۔ یہ سن کر صحابہ اتنے مایوس اور غمگین ہوئے کہ ان کے چہروں پر مسکراہٹ کا نشان تک نہ رہا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کی یہ کیفیت دیکھی تو فرمایا: تم عمل کرتے رہو اور خوش ہو جاؤ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! تم دو ایسی مخلوقات (یاجوج اور ماجوج) کے ساتھ ہو کہ وہ جس چیز کے ساتھ بھی ہوں اسے کثیر کر دیتی ہیں، اور آدم کی اولاد اور ابلیس کی ذریت میں سے جو ہلاک ہو گئے (ان کی وجہ سے تمہاری نسبت کم ہو جائے گی)۔ تب لوگوں کا غم کچھ کم ہوا جو وہ محسوس کر رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمل کرو اور خوشخبری حاصل کرو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! تم (دیگر) لوگوں میں (تعداد کے لحاظ سے) ایسے ہی ہو جیسے اونٹ کے پہلو میں ایک تل کا نشان ہو، یا جیسے چوپائے کے ہاتھ پر کوئی مخصوص نشان ہو۔
اسی طرح اسے سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8909]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح رجاله ثقات، وقد سلف برقم (2954) من طريق محمد بن المثنى عن معاذ بن هشام وانظر الكلام عليه مفصَّلًا برقم (78)» [ترقيم الرساله 8909] [ترقيم الشركة 8800]

الحكم على الحديث: حديث صحيح رجاله ثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8910
حدَّثَناهُ أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا إبراهيم بن عبدان السَّعْدي، حدثنا رَوْح بن عُبادة، حدثنا سعيدٌ وهشامُ (4) بن أبي عبد الله، عن قَتَادةَ، عن الحسن، عن عِمران بن حُصَين قال: بينما نحن مع رسول الله ﷺ في بعض أسفارِه؛ فذكر الحديثَ بنحوه (5) . وقد رُوِّينا هذا الحديثَ عن عبد الله بن عبَّاس:
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، پھر انہوں نے اسی کے مثل حدیث ذکر کی۔
ہمیں یہ حدیث عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8910]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح رجاله ثقات كسابقه» [ترقيم الرساله 8910] [ترقيم الشركة 8801]

الحكم على الحديث: حديث صحيح رجاله ثقات كسابقه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8911
حدَّثَناه الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن شاذانَ الجَوهَري، حدثنا سعيد بن سليمان، حدثنا عَبَّاد بن العوَّام عن هلال بن خَبَّاب، عن عِكْرمة، عن ابن عباس قال: تَلَا رسولُ الله ﷺ هذه الآيةَ وعنده أصحابُه: ﴿يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ﴾ إلى آخر الآية، فقال:"هل تدرون أيُّ يومٍ ذاك؟" قالوا: الله ورسوله أعلم، قال:"ذاكَ يومَ يقولُ اللهُ لآدم: قُمْ فابعَثْ بَعْثَ النارِ - أو قال: بعثًا إلى النار - فيقول: يا ربِّ، مِن كم؟ قال: من كلِّ ألفٍ تسعَ مئةٍ وتسعةً وتسعين إلى النار، وواحدٌ إلى الجنَّة"، فشَقَّ ذلك على القوم ووَقَعَت عليهم الكآبةُ والحُزْن، فقال رسول الله ﷺ:"إني لأرجو أن تكونوا رُبعَ أهلِ الجنة ثم قال:"إني لأرجو أن تكونوا ثُلثَ أهل الجنة ثم قال:"إني لأرجو أن تكونوا شَطْرَ أهل الجنة"، ففَرِحُوا، فقال رسول ﷺ:"اعمَلوا وأَبشِروا، فإنكم بين (1) خَلِيقتَينِ لم تكونا مع أحدٍ إِلَّا كَثرَتاه، يأجوج ومأجوجَ، وإنما أنتم في الناس - أو في الأُمم. كالشَّامةِ في جَنْب البعير، أو كالرَّقْمة في ذراع الناقة، وإنما أُمَّتي جزءٌ من ألفِ جزءٍ" (2) .
هذا حديث صحيح بهذه الزِّيادة، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8697 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کی موجودگی میں یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ﴾ [سورة الحج: 1] آخر آیت تک، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سا دن ہوگا؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ دن ہے جب اللہ تعالیٰ آدم (علیہ السلام) سے فرمائے گا: اٹھو اور «بَعْثَ النَّارِ» (آگ کا لشکر) نکالو - یا فرمایا: ایک لشکر آگ کی طرف روانہ کرو - انہوں نے عرض کیا: اے میرے رب! کتنے میں سے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے آگ کی طرف اور ایک جنت کی طرف۔ یہ بات لوگوں پر بہت شاق گزری اور ان پر افسردگی اور غم طاری ہو گیا۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ تم جنتیوں کا چوتھائی حصہ ہو گے، پھر فرمایا: مجھے امید ہے کہ تم جنتیوں کا تہائی حصہ ہو گے، پھر فرمایا: مجھے امید ہے کہ تم جنتیوں کا آدھا حصہ ہو گے، تو وہ خوش ہو گئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم عمل کرتے رہو اور خوشخبری حاصل کرو، کیونکہ تم دو ایسی مخلوقات (یاجوج اور ماجوج) کے درمیان ہو کہ وہ جس کے ساتھ بھی ہوں اس کی تعداد کو بہت زیادہ کر دیتی ہیں، اور تم (دیگر) لوگوں میں - یا امتوں میں - ایسے ہی ہو جیسے اونٹ کے پہلو میں ایک تل کا نشان ہو، یا جیسے اونٹنی کے ہاتھ پر کوئی مخصوص نشان ہو، اور میری امت (کل مخلوق کا) ہزارواں حصہ ہے۔
یہ حدیث اس اضافے کے ساتھ صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8911]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وصحَّحه الطبري في "تهذيب الآثار" وابن حجر في "مختصر زوائد البزار" (1485)» [ترقيم الرساله 8911] [ترقيم الشركة 8802] [ترقيم العلميه 8697]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں